عمران خان کا لانگ مارچ ایک خونی مارچ بن چکا ہے: جاوید لطیف

5

لاہور: وفاقی وزیر جاوید لطیف نے صدف نعیم کی شہادت کو افسوسناک واقعہ قرار دیتے ہوئے ان کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ عمران خان کا لانگ مارچ ایک خونی مارچ بن چکا ہے اور ارشد شریف کی شہادت سے لے کر یہ معاملہ صحافی صدف نعیم کی شہادت تک پہنچ چکا ہے۔ 
تفصیلات کے مطابق نیوز کانفرنس کرتے ہوئے جاوید لطیف نے کہا کہ بدقسمتی سے خونی لانگ مارچ کا آغاز ہی ارشد شریف کی موت سے شروع ہوا جبکہ گزشتہ روز لانگ مارچ میں خاتون صحافی صدف نعیم کے ساتھ حادثہ پیش آیا، عمران خان اپنے دور حکومت میں کہا کرتے تھے حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں اور جب یہ پیج پھٹنے لگا تو زرداری کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا دیا لیکن جب آصف زرداری سے کچھ نہ ملا تو نواز شریف تک رسائی کی کوشش کی، اور جب نوازشریف سے بھی کچھ نہ ملا تو یہ بدھو اپنے گھر کو لوٹ آیا۔ 
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان لانگ مارچ میں چند ہزار لوگ دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، جنہوں نے 5 سال عمران خان کی پرورش کی تھی یہ پھر ان کی طرف لپکا، عمران خان کیلئے سہولت کاری کا کردار صدر عارف علوی اور دیگر افراد نے ادا کیا، عمران خان کو سمجھ نہیں آ رہی اس صورتحال سے نکلنے کیلئے کس کے پاؤں پڑے۔ 

جاوید لطیف نے کہا کہ عمران خان کا لانگ مارچ ہر صبح شروع ہوتا ہے اور شام کو ٹھنڈا پڑ جاتا ہے، عمران خان کے لانگ مارچ سے ایسا انقلاب آیا کہ وہ بھارت کی آنکھوں کا تارا بن گیا، پھرایساانقلاب آیا، عمران خان نے کہا زرداری اور نواز شریف کی کرپشن کا اسٹیبلشمنٹ نے کہا، عمران خان پھر یو ٹرن لے رہے ہیں کہ میں انہیں چور اور ڈاکو نہیں کہتا بلکہ انہیں یہ بات اسٹیبلشمنٹ نے کہی ہے۔ 

تبصرے بند ہیں.