نیوز کانفر نس سے لانگ مارچ تک

18

آخر وہ کیا وجہ تھی جس کی بنا پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو گز شتہ جمعرات کے روز اچانک نیوز کانفرنس کرنے کی ضرورت پیش آئی؟ قارئین کرام، یہ ہے وہ سوال جو ایک اوسط درجے کا پاکستانی بھی اس کانفرنس سے پہلے سوچنے پہ مائل تھا۔ تو جناب کانفر نس سننے کے بعد اس کا جواب یوں سامنے آیا کہ اس غیر متوقع کانفرنس میں مقتدر حلقوں پر ہونے والی بے بنیاد الزام تراشی کے حوالے سے مسکت جواب تھا۔ ڈی جی آئی ایس آئی کا بنفسِ نفیس اس نیوز کانفرنس میں شریک ہونا اس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور یہ ملکی تاریخ کا پہلا موقع تھا کہ کسی حاضر سروس آئی ایس آئی چیف کو نیوز کانفرنس کرنا پڑی ہو۔ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کا کہنا تھا کہ ایک طرف عساکرِ پاکستان کے سربراہ کو مدتِ ملازمت میں غیر معینہ مدت تک توسیع کی پیشکش کی گئی، مگر جب یہ پیشکش ٹھکرا دی گئی اور آئینی کردار پر اصرار کیا گیا تو پاکستان کے اداروں بالخصوص پاک فوج کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور ہر چیز کو غداری اور رجیم چینج آپریشن سے جوڑ دیا گیا۔ ترجمان عساکرِ پاکستان کی جانب سے کہا گیا کہ یہ نیوز کانفرنس ایک ایسے موقع پر کی جا رہی ہے جب حقائق کا صحیح ادراک بہت ضروری ہے تاکہ فیکٹ، فکشن اور رائے میں تفریق کی جا سکے اور سچ سب کے سامنے لایا جا سکے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ کہنا بالکل صائب تھا کہ سائفر اور صحافی ارشد شریف کی وفات کے حوالے سے بڑے واقعات کے حقائق تک پہنچنا بہت ضروری ہے تاکہ اس سلسلے میں کسی قسم کا ابہام اور قیاس آرائی پیدا نہ ہو اور قوم سچ جان سکے۔ اس حوالے سے کوئی دو رائے نہیں کہ پچھلے چند مہینوں سے بالخصوص جب سے گزشتہ حکومت کو عدمِ اعتماد کے آئینی طریقے سے رخصت کیا گیا ہے اداروں کے خلاف نہ صرف ایک بیانیہ بنایا بلکہ مسلسل پھیلایا بھی جا رہا ہے اور یہی حالیہ دنوں میں سینئر صحافی کے کینیا میں پولیس کے ہاتھوں ہونے والے افسوسناک قتل کے بعد بھی دیکھنے میں آیا جب بنا کسی ثبوت اور شواہد کے اداروں کی سینئر قیادت کو نشانے پر رکھ لیا گیا اور اس حوالے سے منظم مہمات چلائی گئیں جن کا مقصد بظاہر اس کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا کہ دفاعی اداروں کی قیادت کو متنازع بنایا جائے۔ اس سے قبل اگست کے پہلے عشرے میں بھی سوشل میڈیا پر عسکری اداروں کے خلاف ایک منظم مہم چلائی گئی تھی جس کے بعد حکومت نے کریک ڈاؤن کر کے چند افراد کو گرفتار بھی کیا تھا جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ جب اپنے محدود سیاسی مفادات کے لیے ریاستی اداروں کو نشانہ مشق بنایا جاتا ہے تو نوجوان ذہن اس کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتے اور جذبات سے مغلوب ہو کر ریڈ لائن عبور کر جاتے ہیں لہٰذا نوجوانوں کو ایسی منفی مہمات سے دور رکھنے کا یہی طریقہ ہے کہ حقائق اور سچ کو فروغ دیا جائے تاکہ حقیقت قیاس گمان اور رائے میں تفریق کی جا سکے۔ سینئر صحافی کے افسوسناک قتل کے بعد بلاجواز الزام تراشی کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس سے خیر کا کوئی پہلو برآمد نہیں ہو سکتا۔ اس حوالے سے کمیشن کی جامع تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے تاکہ حقائق واضح ہو کر سب کے سامنے آ سکیں۔ سیاسی مقبولیت کا
زور قومی ترقی پر صرف ہو تو قابلِ تقلید لیکن اگر ایسا نہ ہو سکے تو کم از کم اسے تخریبی مقاصد کے لیے بروئے کار نہ لایا جائے۔ پاکستان کے تمام سیاسی رہنما جہاں دیدہ ہیں ایسا نہیں کہ وہ مثلِ آفتاب روشن ان حقائق کو سمجھ نہ سکتے ہوں۔ باہمی سیاسی اختلافات کے باوجود وہ قومی فلاح کا جذبہ رکھتے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی ترقی کی منزل پر پہنچنے کے لیے جو طریقہ کار کے اختلافات ہیں انہیں ملک دشمنی اور غداری سے تعبیر نہ کیا جائے اور بامعنی اور جمہوری اقدار سے ہم آہنگ مکالمے کے ذریعے درپیش مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔
اور اب تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے جمعہ 28، اکتوبر سے لاہور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مارچ کا آغاز لاہور سے ہوا ہے اور یہ 4نومبر کو راولپنڈی اسلام آباد پہنچ کر عدالت کے بتائے ہوئے مقام پر پڑاؤ کرے گا۔ خیال رہے کہ عدالت عظمیٰ نے پی ٹی آئی کا لانگ مارچ رکوانے کی حکومتی استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ لانگ مارچ عمران خان کی سیاسی حکمت عملی ہے، عدلیہ کسی جماعت کی سیاسی حکمت عملی کو نہیں دیکھ سکتی۔ حکومت کو بھی اس کا جواب اپنے سیاسی اقدامات سے دینا چاہئے اس کیلئے باہم مکالمہ بھی کرنا پڑے تو کرنا چاہئے۔ یادش بخیر عمران خان نے مئی کے لانگ مارچ کے وقت ایک بیان حلفی میں عدلیہ کو ڈی چوک نہ جانے کی یقین دہانی کرائی تھی جس پر بعد ازاں عمل نہ کیا، اسی تناظر میں حکومت نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی کہ عمران خان کو لانگ مارچ کر کے وفاقی دارالحکومت میں داخلے سے روکا جائے۔ ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں خدشہ ہے کہ عمران خان کے لوگ پہلے کی طرح ہتھیار بند ہو کر اسلام آباد میں داخل ہونگے جس سے امن و امان قائم رکھنے کے ذمہ دار ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم بھی ہو سکتا ہے، یہ خدشہ اتنا بے بنیاد بھی نہیں کیونکہ 25 مئی کا جلوس اچانک ختم کر دینے کے اعلان کی وضاحت میں عمران خان خود اقرار کر چکے ہیں کہ انہیں جلوس کے شرکاء کے پاس خطرناک آتشیں اسلحہ کی موجودگی کا پتہ چل چکا تھا اسی لیے انہوں نے فوری جلوس ختم کر کے واپسی کی راہ لی۔ عمران خان کے اسی بیان کے تناظر میں اگر حکومت تحفظات کا شکار ہے تو وہ حق پر ہے کہ بہر حال امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری حکومت کے کندھوں پر ہے۔ اس کیلئے اسے امن و سلامتی کے ضامن ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ عدلیہ جیسے ادارے کا تعاون بھی درکار ہے کیونکہ اس بار تو عمران خان اپنے ایک حامی میڈیا پرسن کی المناک موت کا نوحہ بھی پڑھتے آ رہے ہیں جس میں ان کی اور ان کے دیگر ساتھیوں کی شعلہ نوائی سے ہجوم کے جذبات آناً فاناً بھڑک سکتے ہیں۔ عمران خان کے ہمدم دیرینہ فیصل واوڈا نے پہلے ہی خبردار کر دیا ہے کہ وہ لانگ مارچ میں خون ہی خون اور لاشیں ہی لاشیں دیکھ رہے ہیں اس کھلے انتباہ کے باوجود اگر عدالتی منصب دار کسی حادثے کے وقوع پذیر ہونے پر ہی کسی قسم کا اقدام کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں تو یہ اپنی جگہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کہا تو یہی جا رہا ہے کہ عمران خان اس بار ریڈ زون میں داخلے کے حامی نہیں اور عدالتی فیصلے کی روشنی میں پُرامن رہتے ہوئے دھرنے کیلئے مخصوص جگہ تک ہی محدود رہیں گے لیکن ان کی ایک پہچان یو ٹرن پالیسی بھی ہے جسے نظر انداز کرنا مشکل ہے اسی لئے حکومت نے مبینہ طور پر دستور کی شق 245 کے تحت وفاقی دارالحکومت کی حفاظت کیلئے فوج اور رینجرز کو طلب کر رکھا ہے جبکہ سندھ سے بھی پولیس کی نفری اسلام آباد بلائی گئی ہے۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی یہ بات فکر انگیز ہے کہ 2014 میں چین کے صدر کے دورہ پاکستان کو سبوتاژ کرنے کیلئے عمران خان نے دھرنا دیا اور اب وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سعودی عرب سے واپسی پر چین جانے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں سی پیک کے زیر التوا منصوبے فعال ہونے کی امید ہے اور عمران خان ایک بار پھر ملک میں بدامنی پیدا کر کے نہ جانے کن کے مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہو کر شدید ترین معاشی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے ملک کے سابق وزیر اعظم اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کے طور پر عمران خان کو ایک ذمہ دار محب وطن سیاسی رہنما کا کردار ادا کرنا چاہئے اور ملک کو انتشار و افتراق اور بدامنی کا شکار کرنے کے بجائے سنجیدگی اور متانت سے کام لینا چاہئے۔ ملک و قوم کے لیے ذاتی انا کی قربانی ہی صحیح معنوں میں کسی سیاست دان کے محب وطن اور ایثار پیشہ ہونے کی نشانی ہے۔

تبصرے بند ہیں.