8 روزہ لانگ مارچ، خطرناک موڑ

28

کپتان نے بالآخر ترپ کا پتا پھینک دیا۔ 28 اکتوبر بروز جمعہ لاہور کے لبرٹی چوک سے عوام کے ”سمندر“ کے ساتھ لانگ مارچ شروع کر دیا لیکن شومئی قسمت سے صبح گیارہ بجے ڈیڑھ دو سو سے زیادہ لوگ نہ پہنچ سکے۔ دیکھنے والوں نے حیرت و استعجاب سے پوچھا۔ ”کیا یہ لانگ مارچ ہے“ آغاز تو اچھا نہیں انجام خدا جانے، کیا زندہ دلان لاہور نے حوصلہ افزائی نہیں کی۔ مارچ کا آغاز صبح گیارہ کے بجائے سہ پہر چار پانچ بجے ہوا کتنے آدمی تھے؟ تماشائی اور شرکا ملا کر سات آٹھ ہزار، لوگ کیوں نہ نکلے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی کی ایک روز قبل پریس کانفرنس سے بہت سے حقائق کانوں کے راستے دلوں تک پہنچے ہیں۔ اثر تو ہو گا۔ اس پر طرہ پی ٹی آئی کے اپنے رہنما اور کپتان کے دست راست فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کے انکشافات نے لنکا ڈھا دی، اینکر ارشد شریف کی ناگہانی موت بلکہ سفاکانہ قتل سے عوام میں جو رد عمل اور جوش پیدا ہوا تھا وہ واوڈا کے اس انکشاف سے جھاگ کی طرح بیٹھ گیا کہ یہ اندرون ملک سازشی ٹولے کی کارروائی تھی جس کے تحت ارشد شریف کو زبردستی باہر بھیجا گیا۔ گولیاں کار کے اندر سے چلائی گئیں۔ آستین کے سانپوں نے اسے قتل کیا۔ آئندہ چند روز میں ان کے نام بھی بتا دوں گا۔ لانگ مارچ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ میں اس میں خون ہی خون، موت ہی موت، جنازے ہی جنازے دیکھ رہا ہوں۔ کئی اہم شخصیات موت کے منہ میں جا سکتی ہیں والدین اپنے بچوں کو موت کی وادی میں نہ دھکیلیں۔ قتل کی تحقیقات جاری، دو ناموں پر سرخ نشان، رپورٹ آنے پر پکڑے جائیں گے ارشد شریف کو کس نے بھیجا، اس کی لاش سے کون سیاسی فائدہ اٹھا رہا ہے۔ سب ظاہر ہو جائے گا۔ خوف نے جوش کی جگہ لے لی۔ ”جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں“ وہی لوگ باہر نکلے جنہوں نے اپنا دین و دل کپتان کے قدموں میں رکھ دیا۔ ”نذرانہ قبول کر لیں۔“ کپتان کے ہر جھوٹ کو سچ اور دوسروں کے ہر سچ کو جھوٹ سمجھتے ہیں جی ہاں لانگ مارچ شروع ہو گیا مگر ابتدا جھٹکوں سے ہوئی پہلا جھٹکا عوام گھروں سے نہ نکلے دوسرا جھٹکا اسی روز پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی خرم لغاری نے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کر دیا۔ دعویٰ کیا کہ مزید 5 ارکان میرے ساتھ ہیں۔ احساس محرومی یا پریس کانفرنسوں کا اثر ہے کہ موسمی پرندے جن چھتریوں سے اُڑ کر کپتان کی مچان پر آ بیٹھے تھے۔ واپس ان ہی چھتریوں پر جانے کے ارادے سے اُڑان بھرنے کو تیار ہیں۔ پنجاب حکومت کو خطرہ، ڈیڑھ سو دن سے پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہی ملتوی نہیں ہو رہا۔ خوف ہے کہ اجلاس ملتوی ہوتے ہی اعتماد کے ووٹ یا تحریک عدم اعتماد کے لیے کہا جائے گا۔ بادیئ النظر میں لگتا ہے کہ جرنیلوں کی پریس کانفرنس کے بعد ٹائی ٹینک میں سوراخ ہو گیا ہے اور اس میں سوار افراد نے چھلانگیں لگانا شروع کر دی ہیں۔ کیسا لانگ مارچ ہے کہ کروڑوں کے خرچے سے کپتان کے لیے عالی شان کنٹینر تیار کیا گیا مگر کپتان نے رات زمان پارک کے گھر میں گزاری۔ لوگ بھی منڈوا ختم دیکھ کر گھر چلے گئے۔ دوسرے دن کپتان ایک بجے لانگ مارچ میں پہنچے تو وہاں وہی سو ڈیڑھ سو افراد خوش گپیاں کرتے نظر آئے۔ اس دوران اسد عمر کی مقامی رہنماؤں سے منہ ماری بھی ہوئی۔ مبینہ طور پر انہوں نے عوام کی کم تعداد پر ڈانٹ ڈپٹ کی واللہ اعلم لوگ کہتے ہیں کہ ہاتھا پائی بھی ہوئی، یہی حالات رہے تو اسلام آباد پہنچنے کی حسرت دم توڑ جائے گی۔ عوام کے ”بحیرہ عرب“ میں چند ہزار لوگ ہی رہ جائیں گے تاہم ایسی رپورٹ سامنے آ رہی ہیں کہ جہلم کے بعد اس میں خیبر پختونخوا اور پہاڑوں سے اترنے والے جتھے شامل ہو جائیں گے جس کے بعد ہلا گلا ہو گا جسے شیخ رشید نے خونیں لانگ مارچ کا نام دیا تھا مگر وائے ناکامی۔ ”وہ دن ہوا ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا“ یا خلیل خان مراد شیخ رشید فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ جھوٹی اپیل پر امپائر کی انگلی کے اشارے پر بیٹسمین کو پویلین
واپس بجھوانے والا بالر کریز سے پاؤں باہر نکالنے پر باہر کر دیا گیا۔ کہنے کو حکومت گرانے نکلے ہیں لیکن اصل مقصد اپنی مرضی کا آرمی چیف لگوانا ہے۔ یادش بخیر مشرف دور میں نواز شریف نے بھی چیف جسٹس اور دیگر ججوں کی بحالی کے لیے لاہور ہی سے لانگ مارچ شروع کیا تھا۔ ڈیڑھ دو لاکھ عوام
گوجرانوالہ ہی پہنچے تھے کہ جج بحال کر دیے گئے یہ الگ بات کہ بعد ازاں نواز شریف ان ہی کے ہاتھوں تا حیات نا اہل قرار پائے شاید اب ایسا نہیں ہو گا۔ بیساکھیاں ہٹا لی گئی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی نے واضح طور پر ادارے کے اس متفقہ فیصلے کا کھلے بندوں اعلان کر دیا ہے کہ فوج سیاست سے الگ تھلگ رہ کر صرف اپنا آئینی کردار ادا کرے گی۔ ڈی جی آئی ایس آئی آج تک کبھی اس طرح پریس کے سامنے نہیں آئے لیکن جمعرات کو اپنی تاریخ کی پہلی پریس کانفرنس میں انہوں نے حیرت انگیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ راتوں کو ملاقات میں اپنے غیر آئینی اور غیر قانونی مطالبات پیش کرتے لیکن انہیں تسلیم نہ کرنے پر دن کو عام جلسوں میں نیوٹرل کے لفظ کو گالی بنا کر آرمی چیف کو میر جعفر میر صادق، جانور اور غدار کہتے رہے۔ سائفر کا ڈرامہ رچایا گیا امریکا سے تعلقات خراب کر لیے گئے۔ سائفر پاکستانی سفیر کے اپنے خیالات تھے لیکن اسے جلسہ میں سیاسی مقاصد کے لیے لہرایا گیا۔ عمران خان نے آرمی چیف کو تا حیات توسیع کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکارکر دیا جنرل ندیم انجم نے کہا کہ جھوٹ اتنی روانی اور فراوانی سے بولاجائے کہ ملک کے استحکام کے لیے خطرہ بن جائے تو لمبی خاموشی درست نہیں ادارے کے خلاف الزامات اور منفی پراپیگنڈہ سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ دن کے اجالے میں جنہیں غدار کہا گیا ماضی قریب میں ان کی تعریفوں کے پل کیوں باندھے جاتے تھے۔ طویل پریس کانفرنس میں انہوں نے کپتان کے اصل روپ کو قوم کے سامنے پیش کر دیا۔ سیاست سے ہاتھ اٹھا لیا تو کپتان مزید غیض و غضب کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے لانگ مارچ کے آغاز میں خطاب کرتے ہوئے جسے ڈرٹی ہیری کہتے تھے اس کا نام لے دیا سیکٹر کمانڈر کا نام لے کر دھمکیاں دیں۔ ضد اور انا نے کپتان کو فوج کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ وہ ریاست کے اہم راز افشا کرنے کی دھمکیوں پر اتر آئے ہیں۔ جس پر بھارتی پریس نے انہیں اپنا ”فیورٹ باس“ قرار دیتے ہوئے تالیاں بجا کر کہا ہے کہ آئی ایس آئی کے پول کھولنے پر عمران خان کو دس سال تک وزیر اعظم بنا دیا جائے تو پاکستان کے تین ٹکڑے کرنے کا بھارت کا وہ خواب پورا ہو جائے گا جو گزشتہ 75 سال میں تین جنگوں کے باوجود بھارتی حاصل نہیں کر سکے۔ بھارتی ٹیلیویژن پر عمران کی جے کے نعرے قابل مذمت ہی نہیں حکومت پاکستان اور حساس اداروں کے لیے بھی قابل غور اور لمحہ فکریہ ہیں۔ عمرانی سیاست کے خطرناک موڑ صرف ان کے لیے نہیں پورے ملک کے لیے حادثات کا سبب بن سکتے ہیں۔ لانگ مارچ بلا مقصد ہے انتخابات آئندہ سال اگست ستمبر یا اکتوبر تک ہی ہوں گے۔ لانگ مارچ کے 4 نومبر کو اسلام آباد پہنچنے تک آئندہ آرمی چیف کا نام فائنل ہو چکا ہو گا پھر مغز ماری کیوں؟ باخبر ذرائع کے مطابق 6 نومبر کو چیف الیکشن کمشنر فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنائیں گے۔ اس لیے کپتان کی مجبوری ہے لانگ مارچ ضروری ہے وہ دندناتے ہوئے شہر اقتدار میں پہنچ کر دھرنا دیں گے تاکہ الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالا جا سکے جو ان کی خام خیالی ہے انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جو زبان استعمال کی اس پر قوم یوتھ کے ایک پہلوان نما شخص نے عمرے کی ادائیگی کے موقع پر چیف الیکشن کمشنر اور ان کی فیملی کو قتل کرنے کی دھمکی دی۔ شیطان کھلکھلا کر ہنسا اور بولا ”سال بھر یاریاں عمرے تے غداریاں۔“ رند خانہ خراب گناہ بخشوانے آئے ہو یا مزید گناہ کرنے کے لیے مہلت کے خواہاں ہو۔ پہلوان نما شخص بھیس بدل کر واپس لوٹا تو ایف آئی اے نے ایئر پورٹ پر ہی اسے گرفتار کر لیا۔ شنید ہے کہ کپتان کی گرفتاری کا فیصلہ بھی کر لیا گیا تھا لیکن کسی ہینڈلر نے فیصلہ موخر کرا دیا۔ تاہم معطل نہیں ہوا جلد یا بدیر انہیں سیاست کے خطرناک موڑوں پر لگے آئینے نظر انداز کرنے پر کسی بھی نا گہانی حادثہ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.