اداروں کے بغیر ملک نہیں چل سکتا……!

4

لاہور میں منعقدہ دو روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں معزز و محترم مقررین و مندوبین کے خطابات جن میں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کانفرنس کے افتتاہی اجلاس میں خطاب سر فہرست سمجھا جا سکتا ہے کی گونج ابھی فضا ء میں موجود تھی کہ کانفرنس میں بعض مقررین اور مندوبین نے اپنی تقاریر کے دوران ایسی اشتعال دلانے والی  زبان اور لب و لہجہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں  ایسی نعرہ بازی کی گئی جسے کسی صورت میں بھی قابلِ قبول یا پسندیدہ نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔ میرا اشارہ اس کانفرنس کے دوسرے دن ریاستی اداروں کے خلاف کی جانے والی نعرہ بازی کی طرف ہے۔ اس نعرہ بازی میں کون لوگ شریک تھے اور یہ کس کے ایماء پر کی گئی اور کس وقت کی گئی اس سے قطع نظر دیکھنا یہ ہے کہ ایک ایسے باوقار اور سنجیدہ اجتماع میں جس کے انعقاد کا مقصد ملک میں آئین، قانون، جمہوریت اور جمہوری اداروں کی بالا دستی، انسانی حقوق کی پاسداری اور عدل و انصاف کی فراہمی کے تقاضوں پر زور دینا تھا ہو وہاں اس طرح کی منفی نعرہ بازی اور ماحول کو پراگندا کرنے کی آخر کیا ضرورت تھی۔ آخر کب تک ہم دوسروں پر نکتہ چینی اور انھیں ہر خرابی کا ذمہ دار اور اپنے آپ کو ہر خرابی، خامی اور کمزوری سے مبرا اور بالاتر سمجھنے کا رویہ اپنائے رکھیں گے؟کب تک ہم اپنے حقوق یا حقوق حاصل کرنے کی بات تو کرتے رہیں گے لیکن دوسروں کی طرف سے جو فرائض یا ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں اور ریاست کے حقوق جن کا پورا کرنا ہر ذمہ دار اور محبِ وطن شہری کا فرض اولین ہوتا ہے ان سے ہم پہلو تہی کرتے رہیں گے۔ دوسروں پر تنقید کرنا، دوسروں کو حقوق چرانے والا اور چور اور ڈاکو کہہ دینا اور ان پر جمہوریت دشمنی اور عدل و انصاف کے قاتل ہونے کے لیبل لگا دینا آسان ہے لیکن کیا ہم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ آخر جس معیار یا پیمانے کو سامنے رکھ کر دوسروں پر تنقید کرتے ہیں کیا کبھی ہم نے اس پیمانے اور معیار کو اپنے اُوپر بھی لاگو کرنے کی کوشش کی ہے؟ یقینا ان سوالوں کا جواب نفی میں ہوگا۔ پھر ایک نازک سی بات اور جس کا دنیا کے ہر ملک میں خواہ وہ کتنا ہی جمہوری روایات و اقدار، عدل و انصاف، انسانی حقوق کی پاسداری اور اظہارِ رائے اور میڈیا کی آزادی کا دعویدار ہو وہاں اُس کا پورا خیال ہی نہیں رکھا جاتا بلکہ اس کی خلاف ورزی کی اجازت بھی نہیں ہوتی ہے وہ یہ کہ ریاست اور مملکت کی سلامتی، بقا، دفاع اور تحفظ کے ضامن اداروں پر کہیں بھی کھلم کھلا اور برسرعام تنقید اور طعن و تشنیع کی اجازت نہیں ہوتی اس سے ہر جگہ وطن اور ملک دشمنی کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ کیا ہم ان ممالک کے مقابلے میں کچھ زیادہ انسانی حقوق کی پاسداری اور شخصی آزادیوں کے علم بردار ہیں کہ ہمارے منہ میں جو کچھ آئے کہتے
چلیں اور اس بات کا بھی خیال نہ کریں کہ اس سے ملک و قوم کی یکجہتی، اتحاد و اتفاق اور سلامتی  پر کیا اثرات مرتب ہونگے  اور نہ ہی یہ سوچیں کہ کہاں تک ہم علاقائیت، صوبائیت، لسانیت او ر رنگ و خون کی بنیاد پر قومیت کے نعرے بلند کر سکتے ہیں اور کہاں ان کی حدود ختم ہو جاتی ہیں اور اُن سے آگے بڑھنے سے ملک کو قوم کی سلامتی، یکجہتی و اتحاد کو نقصان ہی نہیں پہنچتا ہے بلکہ اس کی جڑوں کے کھوکھلا ہونے کا احتمال بھی ہوتا ہے۔
یہاں یہ وضاحت کچھ ایسی غیر ضروری نہیں سمجھی جانی چاہیے کہ جس سوچ و فکر کا ان سطور میں اظہار کیا جا رہا ہے اسے کسی ادارے یا فرد کی وکالت نہیں سمجھا جانا چاہیے بلکہ یہ ایک ذمہ دار بزرگ شہری اور تاریخ پاکستان کے اہم حالات و اقعات کا عینی شائد ہونے کے ناتے راقم کی دیانتدارانہ رائے ہے کہ ہمیں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ ہمارے لیے کون سی ایسی راہ ہے جس کو اختیار کرکے ہم ملک میں اتفاق و یکجہتی کی فضا کو برقرار اور ملکی و قومی سلامتی اور بقا کے تقاضوں کو ہی پورا نہیں کر سکتے ہیں بلکہ ہم ذاتی پسند و نا پسند، ضد، ہٹ دھرمی، دوسروں پر الزام دھرنے، ہرزہ سرائی، افتراپردازی اور میں نامانوں کے رویوں اور انداز فکر و عمل کی وجہ سے جس بدترین پولرائزیشن، انتشار، بد اعتمادی، نااتفاقی اور دشمنی کی حدوں تک چھونے والی ایک دوسرے کی مخالفت کرنے کی صورتحال سے دوچار ہیں اس سے کیسے نجات پائی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں ہمیں اسی عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں سپریم کورٹ کے سینئر جج جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے کلیدی خطاب سے کچھ راہنمائی مل سکتی ہے۔ بلاشبہ جناب جسٹس قاضی کا خطاب لاجواب سمجھا جا سکتا ہے۔جس میں انہوں نے پاکستان کی پون صدی پر محیط تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے عدلیہ سمیت ریاستی اداروں کے کردار اور ان کے غلط فیصلوں اور اقدامات کی جو نشاندہی کی ہے اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔
جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ کلیدی ریاستی اداروں جن میں عدلیہ، فوج اور انتظامیہ شامل ہیں کے ماضی کے بعض فیصلے ملک و قوم کو آئین و قانون کی بالادستی سے محروم رکھنے اور جمہوریت و جمہوری روایات و اقدار کو مستحکم نہ کرنے کا جہاں سبب بنے وہاں عوامی نمائندوں پر مشتمل پارلیمنٹ بھی بااختیار نہ بن سکی۔ اس ضمن میں انھوں نے فوج کے کردار، مختلف اوقات میں مارشل لاء کے نفاذ اور اسمبلیوں اور جمہوری اداروں کو کالعدم قرار دینے کا جہاں ذکر کیا ہے وہاں انھوں نے اعلیٰ عدلیہ کے بعض فیصلوں اور بعض عزت مآب ججز کے منفی کردار کا ذکر کرنابھی ضروری سمجھا ہے۔ انھوں نے غیر آئینی اقدامات یا مارشل لاء کے نفاذ پر جہاں فوج کے سربراہان جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل محمد ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف پر کڑی تنقید کی ہے وہاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان،جسٹس محمد منیر، جسٹس انوار الحق، جسٹس نسیم حسن شاہ اور جسٹس ارشاد حسن خان کے نام لے کر ان کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ انھوں نے جہاں فوجی سربراہان کے غیر آئینی اقدامات کو تحفظ دیا وہاں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے اور ایک وزیرِ اعظم کو اپنے بیٹے کی کمپنی سے نہ لی جانے والی تنخواہ کو ظاہر نہ کرنے کی بنا پر صادق و امین نہ ہونا قرار دے کر تاحیات نا اہل قرار دینے کے فیصلے بھی اعلیٰ عدلیہ کے عزت مآب ججز نے کئے ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیٰسی کا یہ خطاب جہاں انتہائی چشم کشا اور حقیقت پسندانہ ہے وہاں موجودہ مخدوش ملکی حالات میں قابل عمل راہنمائی بھی مہیا کرتا ہے۔ ان کایہ کہنا بالکل درست ہے کہ کسی فرد کے عمل کی وجہ سے اداروں پر تنقید نہیں کی جانی چاہیے بلکہ متعلقہ افراد کی مذمت کرنی چاہیے کیونکہ اداروں کے بغیر ملک نہیں چل سکتا۔ پاکستان کو عدلیہ، انتظامیہ اور فوج کی ضرورت ہے۔ ہم سب آئین پر عمل کے پابند ہیں۔ ریاست ہمیں تنخواہ اور مراعات دیتی ہے اور ہمارے انفرادی احتساب کا بھی اسے حق حاصل ہے۔ جناب جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے ان خیالات کو مشعل راہ بنا کر دگرگوں ملکی حالات کو تبدیل کیا جا سکتا ہے یہاں ایک اور بات کی طرف بھی اشارہ کرنا کچھ ایسا بے جا نہیں ہوگا کہ ہم اپنی ذاتی غرضمندی اورانا کی تسکین کے لیے جب ساری حدیں پھلانگ لیتے ہیں یا انتہا پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر قدرت کے اس اصول کہ  حذر اے چیراں دستاں، سخت ہیں فطرت کی تعزیریں کا اطلاق  بھی ہو جاتا ہے۔ سابق وزیرِ اعظم جناب عمران خان نے آج کل جس طرح ملکی یکجہتی، سلامتی اور استحکام کو داؤ پر لگا رکھا ہے اور ریاستی اداروں کو وہ جس حد تک تضحیک کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں  کہا جا سکتا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ انھیں اس کے اثرات سمیٹنا ہونگے۔ تاہم تھوڑا سا حوالہ پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جو وفاقی وزیرِ خارجہ کے بلند منصب پر فائز ہیں کے اسی کانفرنس میں خطاب کا دیا جاتا ہے۔ ان کا خطاب جذباتی تو تھا ہی لیکن کسی حد تک سامعین  اور اپنے شیدائیوں کو غیر ضروری جوش دلانے والا بھی تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے خطاب کے دوران ایسے نعرے لگائے گئے جو کسی صورت میں بھی پسندیدہ قرار نہیں دیئے جا سکتے۔ ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے کے یہ نعرے جناب بلاول بھٹو زرداری کے لیے بھی حزیمت اور پریشانی کا باعث بنے جس پر بعد میں انھیں معذرت کرنا پڑی۔ اب معروف صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف مرحوم کے کینیا میں پراسرار قتل کے حوالے سے جس طرح کا منفی پراپیگنڈہ کیا گیا ہے اور کیا جا رہا ہے کیا اس سے خیر کی کوئی توقع ہو سکتی ہے؟ قطعاً نہیں۔ جناب عمران خان اگر اسے ٹارگٹ کلنگ قرار دیتے ہیں تو انھیں کھل کر اس کا ثبوت دینا چاہیے لیکن ان کے ہی ایک قریبی ساتھی سابق ممبر قومی اسمبلی و سینیٹر فیصل واوڈا نے اپنی پریس کانفرنس میں جن ہوشربا اور رونگٹے کھڑے کرنے والے خیالات یا انکشافات کا اظہار کیا ہے ان کو کیونکر نظر انداز کیا جا سکے گا۔

تبصرے بند ہیں.