پاک فوج زندہ باد

30

میں ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی پریس کانفرنس سن رہا تھا، وہ کہہ رہے تھے کہ فوج اپنے آئینی کردار تک محدود رہے گی،اس فیصلے میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جنہوں نے اگلے بیس برس تک فوج کی کمان سنبھالنی ہے۔ میری آنکھوں میں نمی تھی، مجھے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے سربلندی کے لئے نسلوں کی جدوجہد ثمر بار ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ ہم سے من حیث القوم جو غلطیاں ہوئیں، ہم اپنے آدھے وجود سے محروم ہوئے، ہم نے ان غلطیوں سے سبق سیکھ لیا ہے۔ میں وہ صحافی ہوں جو کہے ہوئے الفاظ اور کسی بھی شے کی فیس ویلیو پر نہیں جاتا مگر میں یقین رکھ رہا ہوں یہ محض الفاظ نہیں ہیں اب یہ عمل ہے، کردار ہے۔ فوج نے پرویز مشرف کے مارشل لا کے بعد سبق سیکھا کہ اب ہم نے براہ راست اقتدار میں نہیں آنا کیونکہ اس کی قیمت متنازع ہونے اور قوم کی محبت تقسیم ہونے کی صورت میں چکانی پڑتی ہے اور یہ ایک ایسے ادارے کے لئے بہت بڑی قیمت ہے جس کا سب سے بڑا سرمایہ ہی قوم کا اعتماد اور محبت ہو۔ میں ہمیشہ سے خوش گمان رہا ہوں کہ اگر نواز شریف ہٹ دھرمی کامظاہرہ نہ کرتے تو پرویز مشرف کا مارشل لا بھی نہ لگتا۔ وہ خود بتا چکے ہیں کون کون سے جرنیل ان کے پاس کون سا کاغذ لے کر آئے تھے اور کہا تھا کہ اگر آپ اس پر دستخط کردیں یعنی استعفیٰ دے دیں اور اسمبلیاں تحلیل کر دیں تو فوج اگلے الیکشن کروا دے گی مگر نواز شریف نے اپنے لئے، اپنے خاندان کے لئے، آئین کے لئے، جمہوریت کے لئے اورملک کے لئے گھاٹے کاسودا کیا۔
فوج کے سیاسی معاملات میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ ایک برس پہلے ہی ہوگیا تھا اوریہی وجہ ہے کہ جب کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات ہوئے تھے تو پی ٹی آئی کوحیران کن انداز میں شکست ہوگئی۔ میں حالات کا تجزیہ کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ یہ فوج کی غیر جانبداری ہی تھی جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کے غیر فطری اتحادی ان سے الگ ہوئے تھے ورنہ اس سے پہلے فون آجا یاکرتے تھے کہ آپ نے حکومت کو سہارا دینا ہے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت بھی فوج کے غیرجانبدار ہونے کے بیان کی ٹھوس دلیل ہے ورنہ کہا جاتا ہے کہ جو بھی مرکز میں حکومت لیتا ہے اس کی پہلی شرط ہوتی ہے کہ اسے پنجاب بھی دیا جائے اور ظاہر ہے کہ دینے کا طریقہ وہی ہوتا ہے جس طرح آج سے چار برس پہلے دیا گیا۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اگر مداخلت ہوتی تو پنجاب میں حمزہ شہباز شریف کی حکومت محض ایک، دو اسٹے آرڈرز کے ساتھ سال، سواسال چلائی جا سکتی تھی مگر یہاں بھی فیصلہ میرٹ پر ہوا۔ عمران خان کہتے ہیں کہ ان سے سازش کے تحت اقتدار چھینا گیا اور میں کہتا ہوں کہ اگر سازش والی بات ذرا سی بھی درست ہوتی تو وہ کبھی ضمنی الیکشن جیت نہ پاتے۔
مجھے اچھا لگا کہ پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاک فوج کی پریس کانفرنس کا خیر مقدم کیا اور میں تادم تحریر منتظر ہوں کہ نوا ز لیگ کے قائد نواز شریف بھی سیاسی فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہی وہ مطالبہ تھا جو وہ کرتے آئے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ وہ پاکستان کے کیسے سب سے تجربہ کار سیاستدان ہیں جو اس پریس کانفرنس کی اہمیت کو ہی نہیں سمجھ رہے۔ اس کے پاکستان کی سیاست پر اثرات کااندازہ ہی نہیں لگا پا رہے۔ وہ بچوں کی طرح ناراض بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس پریس کانفرنس کے بعد جہاں یہ تجزیہ کیاجا رہا ہے کہ عمران خان کی ’منجی ٹھوک‘ دی گئی ہے وہاں میرا خیال ہے کہ یہ بھی عمران خان کی خوش قسمتی ہے اس کی باری آنے پر فوج نیوٹرل اور اے پولیٹیکل ہوگئی ہے ورنہ وہ بھی پہلے والوں کی طرح مظلومیت کی داستان بنے ہوتے۔پاک فوج کی غیر جانبداری دیکھئے کہ وہ ادارے پر تابڑ توڑ حملوں کے باوجود آج بھی آدھے سے زیادہ پاکستان کی حکومتیں سنبھالے ہوئے ہیں جو ان کے ریاست مخالف بیانیے کو سرکاری خزانوں سے طاقت دے رہی ہیں۔ وہ واقعی خوش قسمت ہیں کہ اگرفوج غیر جانبدار نہ ہوتی تو اس وقت تک وہ جیل میں بیٹھے ہوتے، ان کے کارکن وزارتیں اور عہدے انجوائے نہ کررہے ہوتے۔
مجھے کہنے میں عار نہیں کہ فوج کی اس شاندار اور سنہری پریس کانفرنس کے بعد ہمارے دوسرے اداروں عدلیہ اور پارلیمنٹ کو بھی غور کرنا چاہئے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔ میں بطور پاکستانی خواہش رکھتا ہوں کہ میری عدلیہ کا شمار دنیا کے عدالتی نظاموں میں سب سے نیچے نہ ہو۔ میں چاہوں گا کہ ہماری پارلیمنٹ بھی بااختیار ہووہاں ملک و قوم کی بہتری کے لئے حقیقی معنوں میں منتخب کئے گئے بہترین دماغ معیاری مباحث کریں اور اس سے بھی پہلے ہماری ان سیاسی جماعتوں میں بھی جمہوریت آئے جو ملک میں جمہوریت مانگتی ہیں ورنہ اس وقت ملک کی تمام مقبول جماعتیں فیملی لمیٹڈ کمپنیاں بنی ہوئی ہیں۔ہماری سیاسی جماعتوں کے پاس ہمیشہ یہی عذر رہا ہے کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کی چیرہ دستیوں سے نجات ملے تو وہ اپنے اندر اصلاحات لائیں۔ ان کا مقدمہ لڑنے والے کہتے رہے کہ ہم تو ہمیشہ اپنی بقا کی لڑائی میں مصروف رہتے ہیں اور جس گھر کو ہمیشہ ڈھائے جانے کا ڈر ہو وہاں ڈرائنگ روم کیسے سجائے جائیں، بہرحال، اب یہ جواز بھی ختم ہو رہا ہے۔ کوئی بھی ملک کسی بھی ایک ادارے، علاقے یا گروہ کی ترقی سے خوشحال نہیں ہوتا۔ ترقی اور خوشحالی ہمیشہ معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ مل کر آتی ہے۔ یہ درست ہے کہ کچھ طبقات ڈرائیونگ سیٹ پر ہوتے ہیں جیسے پارلیمنٹ، عدلیہ، فوج اور میڈیا۔ یہ راستہ دکھاتے ہیں اور آگے بڑھاتے ہیں اور اگر یہی بہترین نہ ہوں تو آپ باقی طبقات کے بہتر ہونے کی توقع نہیں رکھ سکتے۔
آج کی پریس کانفرنس پر اگر من و عن عمل ہوتو مجھے یقین ہے کہ اب کوئی بنگلہ دیش نہیں بنے گا، کوئی وزیراعظم پھانسی نہیں چڑھے گا اور نہ ہی کوئی جلاوطن ہو گا مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے سیاستدان بھی اپنی غلطیوں کا ادراک کریں۔ وہ جو آج بھی چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ان کے لئے گیٹ نمبر چار کھولا جائے، فوج نیو ٹرل نہ رہے، انہیں اقتدار میں لائے، وہ عقل کریں، وہ شرم کریں۔ اچھے سیاستدان اداروں کی مدد سے نہیں اپنی صلاحیتوں اور کارکردگی سے اقتدار لیتے اور اس میں رہتے ہیں۔ وہ ایسی باتیں کرکے دانشوارانہ بددیانتی کر رہے ہیں، فکری مغالطے پیدا کر رہے ہیں،قوم کو گمراہ کر رہے ہیں۔ وہ وہی پرانا پاکستان چاہتے ہیں جس میں مارشل لا لگا کرتے تھے اور ایجنسیاں حکومتیں بنایا اورگرایا کرتی تھیں۔ دنیا بھر میں یہ ماڈل متروک ہوچکا، وہ نئے پن کے نام سیاسی دقیانوسیت ہم پر دوبارہ لادنا چاہتے ہیں، وہ کتنے کم فہم ہیں، وہ کتنے بدنصیب ہیں۔

تبصرے بند ہیں.