عمران خان کی نااہلی کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا، عدالت کی اعترضات دور کرنے کی ہدایت

322

اسلام آباد: ہائیکورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی نااہلی کا فیصلہ فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے 3 دنوں کے اندر اعترضات دور کرنے کی ہدایت ۔

 

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی نااہلی کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی ، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی ، عمران خان کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے ۔

 

چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر سے استفسار کیا کہ آپ کی درخواست پر اعتراض کیا ہے ؟ جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ایک بائیومیٹرک اور دوسرا سرٹیفائیڈ کاپی کی فراہمی کا اعتراض ہے ۔ الیکشن کمیشن مکمل سرٹیفائیڈ کاپی فراہم نہیں کر رہا ، صرف 2 صفحات کا فیصلہ ہے ۔ جس پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اس میں ایمرجنسی کیا ہے انتظار کر لیتے ہیں ، جواب میں بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگلے ہفتے الیکشن ہے اور ہمیں نااہل کیا گیا ۔ نااہلی کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے ۔

 

عدالت نے سوال کیا کہ کون سے سیکشن کے تحت الیکشن کمیشن نے کارروائی کی ، عمران خان کے وکیل نے کہا کہ 63 ون پی کے تحت الیکشن کمیشن نے کارروائی کی ۔

 

بیرسٹر علی ظفر کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو معطل کرنے کی استدعا جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ جب فیصلہ نہیں ہے تو یہ عدالت کس فیصلے کو معطل کرے گی ؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ عدالت شارٹ آرڈر کو معطل کرے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اس آرڈر کی سرٹیفائیڈ کاپی موجود ہے ؟ الیکشن کمیشن ہمیں سرٹیفائیڈ کاپی فراہم نہیں کر رہا ۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اعتراضات دور کریں ، پھر اس کیس کوسنیں گے ، عدالت نے عمران خان کی الیکشن کمیشن کا فیصلہ فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امید کرتے ہیں عمران خان کو مصدقہ فیصلے کی کاپی الیکشن کمیشن جلد فراہم کرے گا ۔

 

 

تبصرے بند ہیں.