عمران خان نااہلی کے آئینی و قانونی پہلو!

20

سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انھیں بیک ڈور مذاکرات کامیاب ہوتے نظر نہیں آ رہے لہٰذا وہ جمعے کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کریں گے، دوسری طرف الیکشن کمیشن کی طرف سے نااہلی فیصلے کواسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ فیصلے پر وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کوآئین کے آرٹیکل63اے کے تحت پانچ سال کیلئے نااہل قرار دیا ہے اور ان پر فوجداری مقدمے کا کہا گیا ہے۔اسلام آباد پولیس نے امن و امان کی صورتحال پر ریڈ زون کو ویپن فری زون قرار دیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں نااہلی کے فیصلے کیخلاف پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی میں متفقہ قراردادیں منظور کر لی گئیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے سنائے جانے والے فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین فیصلے کے بعد رکن قومی اسمبلی نہیں رہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان نے جان بوجھ کر جھوٹی اسٹیٹمنٹ اور ڈکلیریشن جمع کرائی،توشہ خانے سے حاصل تحفے اثاثوں میں ظاہر نہ کئے الیکشن ایکٹ کے تحت کرپٹ پریکٹس کے مرتکب ہوئے۔ریفرنس میں استدعا کی گئی تھی کہ عمران خان کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا جائے۔ الیکشن کمیشن میں عمران خان کے وکیل علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ سارے چالان، اثاثے، ٹیکس ریٹرن جمع کرائے گئے اگر کسی نے اثاثے ظاہر نہیں کیے تو سپیکر ریفرنس نہیں بھیجتا، الیکشن کمیشن خود کارروائی کر سکتا ہے اور یہ کام بھی 120 دن کے اندر کرنا ہے،الیکشن کمیشن کو نااہل کرنے کا اختیار نہیں۔ الیکشن کمیشن کاعمران خان کو نااہل کرنے کا فیصلہ مبہم ہے اور واضح سقم نظر آرہے ہیں، نااہلی کے فیصلے سے عمران خان کو کوئی زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے،عمران خان کی نااہلی آرٹیکل (1)63-P کے تحت ہوئی،وہ صرف موجودہ اسمبلی کی مدت تک نااہل رہیں گے اورالیکشن کمیشن بطور مدعی عمران خان کیخلاف سیشن جج کی عدالت میں فوجداری مقدمہ درج کرائے گا۔ نااہلی کے بعد عمران خان ضمنی انتخابات میں جیتی گئی نشستوں پر حلف نہیں اٹھاسکیں گے۔ اگر گوشواروں میں کوئی چیز ظاہر کرنے سے رہ گئی تو قانون کہتا ہے الیکشن کمیشن 120دن میں فوجداری کارروائی کرسکتا ہے، گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31دسمبر 2021ء تھی اسلئے 30اپریل 2022ء کے بعد فوجداری کارروائی ممکن نہیں ہے، اب جبکہ فوجداری کارروائی ممکن نہیں تو عمران خان کو الیکشن کمیشن سزا نہیں سنا سکتا، فوجداری کارروائی ممکن ہوتی تب ہی عمران خان کیخلاف مقدمہ چلتا جس میں انہیں تین سال کی سزا ہوسکتی تھی، اس صورت میں آئین کے آرٹیکل (1)63-H کے تحت عمران خان کو نااہل قرار دیا جاسکتا تھا، مگر عمران خان کو سزا ہوئی ہے نہ ان کیخلاف کوئی مقدمہ چلایا گیا ہے،الیکشن کمیشن نے صرف اس بنیاد پر عمران خان کو نااہل قرار دیدیا کہ انکی نظر میں گوشواروں میں کوئی کمی تھی،قانون الیکشن کمیشن کو اجازت نہیں دیتا کہ غلط گوشواروں کی بنیاد پر کسی کو نااہل قرار دیا دے۔ اگرچہ الیکشن کمیشن نے ایک رکن کے دستخط نہ کئے جانے کے باوجود عمران خان کی نااہلی کا فیصلہ جاری کیا ہے تو اس سے فرق نہیں پڑتاکیونکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان تین ارکان کی موجودگی میں بھی مکمل سمجھا جاتا ہے، لہٰذا عمران خان17اگست 2023 تک پارلیمان کے رکن نہیں رہے اسکے بعد الیکشن لڑسکتے ہیں، موجودہ اسمبلیاں تحلیل ہوجائیں اور مارچ میں الیکشن ہوں تب بھی عمران خان ان انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں، الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہیں نہیں لکھا کہ عمران خان آئندہ پانچ سال کیلئے نااہل ہوئے ہیں، فیصلے میں واضح لکھا ہے کہ عمران خان آرٹیکل کے(1)63-P تحت موجودہ قومی اسمبلی سے نااہل ہوئے ہیں۔تحریک انصاف اس فیصلے کیخلاف اپیل میں پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ اورپھر بالآخر سپریم کورٹ جائے گی۔ قانون کے مطابق اسپیکر کوریفرنس الیکشن کمیشن بھیجنے سے پہلے خود عمران خان کو بلانا چاہیے تھا،جبکہ تحریری فیصلے کے مطابق عمران خان آئین کے آرٹیکل 63(1)(p) اور الیکشن ایکٹ 2017  کی سیکشن 137، 167 اور 173 کے تحت نااہل ہیں۔عمران خان کی نااہلی آرٹیکل 63 ون پی کے تحت اور انکی نااہلی الیکشن ایکٹ کی دفعات137 اور173 کے تحت ہوئی۔الیکشن کمیشن کے پاس دو آپشن تھے، پہلے آپشن کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کا فل کورٹ بنچ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو کرپٹ پریکٹس کا مرتکب قرار دیکر انکا کیس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد کو بھجوا سکتا تھا دوسرا آپشن الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس یہ بھی تھا کہ آئین کے آرٹیکل 63ون(3) کے تحت چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو قومی اسمبلی اور سینٹ کی رکنیت سے پانچ سال کیلئے نااہل قرار دے سکتا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے اس اسمبلی کے مدت کے وقت کا فیصلہ دیا الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دوسرے قومی اداروں سے جو ضروری دستاویزات منگوائی تھیں وہ الیکشن کمیشن کو ملنے اور انکے مکمل جائزے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کے5 رکنی فل کورٹ بنچ نے طویل مشاورت کے بعد دی۔ اس فیصلے کے قانونی، آئینی اور سیاسی اثرات زیادہ نہ ہونگے کیونکہ اس وقت عملی طور پر پی ٹی آئی خود ہی اسمبلیوں سے باہر ہے اور عمران خان حال ہی میں چھ نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں جسکا انہوں نے شاید حلف بھی نہیں اٹھانا تھا۔نواز شریف کو تاحیات نااہل سپریم کورٹ نے کیا تھا اور صادق وامین نہ ہونے کا فیصلہ وہی عدالت کر سکتی ہے، اسی بنا پر نواز شریف کی پارٹی صدارت ختم کی گئی تھی۔ حالیہ فیصلے میں کئی تضادات ہیں اور یہ نہایت کمزور فیصلہ ہے، الیکشن کمیشن کو 63 ون پی کے تحت فیصلہ کرنے کا اختیار ہی نہیں، اسکے تحت کسی رکن اسمبلی کو تب ڈی سیٹ کیا جاتا ہے جب کوئی عدالت اسے سزا سنا ئے اور پھراس شق کے مطابق ڈی سیٹ کیا جاتا ہے۔ عمران کے معاملے میں ایسا کچھ نہ ہوا ہے کیونکہ عمران خان رکن قومی اسمبلی رہے ہی نہیں، وہ مستعفی ہوگئے تو تب الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار ہی ختم ہوگیا۔ الیکشن کمیشن ٹرائل کورٹ یا اعلیٰ عدالت نہیں ہے کہ وہ کسی بھی شہری کے خلاف کوئی کیس سننا شروع کر دے۔ اسکا دائرہ کار الیکشن اور منتخب ارکان اسمبلی تک محدود ہے۔ اخلاقی طور پر اس فیصلے کے اثرات شائد اتنے گہرے نہ ہوں، لیکن اصل جنگ اعصاب کی ہے، عمران خان کو بھی اب حقیقی سیاست کا پتہ چل گیا ہوگا، یقینا پچھلے چھ ماہ کے سیاسی سبق انکے ماضی کے تمام تجربات پر حاوی ہیں۔ مائنس نواز شریف،مائنس الطاف کے بعداب مائنس عمران خان فارمولہ اختیار کیاگیا ہے۔الیکشن کمیشن سے ایک اوراہم فیصلہ فارن فنڈنگ کیس کا آنا ابھی باقی ہے جسکے ممکنہ اثرات اور بطور جماعت تحریک انصاف اوراسکی قیادت پرنہایت گہرے ہونے کی امید ہے،جس سے انکی قانونی و عدالتی جنگ مزید طویل ہوجائے گی۔اب دیکھناہے کہ کون زیادہ بڑا کھلاڑی ہے شطرنج کی بساط آخری مرحلہ میں داخل ہے اور آخری مرحلہ تک ٹھنڈے دماغ سے سوچنا اور مخالف چالوں کاادراک کرکے بھرپور جوابی چالیں چلنا ہی بڑاکھلاڑی ہونے کا ثبوت ہے۔

تبصرے بند ہیں.