ہم اور ہمارا ملک!

14

محمد بن راشد المکتوم دبئی کے نائب صدر اور وزیر اعظم ہیں، یہ جنوری 2006ء میں اپنے بھائی مکتوم بن راشد کے بعد اس عہدے پر فائز ہوئے اور انہوں نے دبئی کو ایک نئی پہچان دی ہے۔ ان کی سوچ اور اقدامات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر انہوں نے معاشی اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے دبئی کو دنیا کا مرکز بنا دیا ہے۔ یہ وژنری اور دوربین انسان ہیں اور انہوں نے دبئی کو دبئی بنانے کا فیصلہ اس وقت کیا جب یہ کم عمر اور صاحب اختیار نہیں تھے۔ انیس سو نوے کی دہائی میں انٹرنیٹ دنیا میں نیا نیا متعارف ہو رہا تھا، یہ حکومتوں، فوجی اداروں، بینکوں اور امریکہ و یورپ سے نکل کر عام افراد تک پہنچ رہا تھا۔ دنیا انٹر نیٹ کے جنون میں مبتلا تھی اور اسے انسانی مستقبل کی تعمیر کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ نوے کی دہائی میں جب پاکستان میں بے نظیر اور نواز شریف ایک دوسرے کی حکومتیں گرا رہے تھے محمد بن راشد دبئی کو مستقل کے لیے انٹرنیٹ سٹی بنانے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ محمد بن راشد کے پاس فنڈز کی کمی تھی چنانچہ انہوں نے انٹرنیٹ سٹی کی تعمیر کے لیے HSBC بینک سے 200 ملین ڈالر کا قرض لیا اور منصوبے کی بنیاد رکھ دی۔ یہ انٹر نیٹ سٹی آگے چل کر امریکہ کی سیلی کون ویلی ثابت ہوا اور آج یہ سٹی دبئی کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس وقت یہاں سولہ سو سے زائد کمپنیز کام کر رہی ہیں، پچیس ہزار سے زائد آئی ٹی پروفیشنل یہاں انگیج ہیں، یہ علاقہ کا سب سے بہترین آئی ٹی زون کہلاتا ہے اور یہ خطے میں ٹیکنالوجی کا عفریت کہلانے والی کمپنیوں کا دوسرا گھر ہے۔ یہ پندرہ لاکھ سکوائر فٹ رقبے پر مشتمل سٹی ہے جو کمرشل اور رہائشی علاقوں پر مشتمل ہے۔ یہ دبئی کا مہنگا ترین علاقہ ہے اور یہاں دنیا کی ہر سہولت میسر ہے۔ یہ انیس سو نوے کی دہائی میں محمد بن راشد کی طرف سے قرض لے کر شروع کیا جانے والا پراجیکٹ تھا جو اس وقت خطے میں آئی ٹی کا حب اور ٹیکنالوجی کا مرکز ہے۔ ایک لمحے کے لیے رکیں اور دیکھیں کہ نوے کی دہائی میں ہم کیا کر رہے تھے؟ نواز شریف بینظیر بھٹو کی حکومت گراتے تھے اور دو سال بعد وہی بینظیر نواز شریف حکومت کو گھر بھیج دیتی تھیں، ہماری مستقل مزاجی دیکھیں ہم آج بھی یہی کر رہے ہیں، ہم اکیسویں صدی کی دو دہائیاں گزرنے اور تیسری دہائی کے دو سال گزارنے کے باوجود وہیں کھڑے ہیں۔ کرداروں کے معمولی فرق کے ساتھ حکومتیں گرانا، مخالفین کو نااہل کرانا اور پھر اس پر بھنگڑے ڈالنا اور مٹھائیاں کھانا آج بھی ہمارا پسندیدہ اور محبوب مشغلہ ہے اور ان شاء اللہ اگر ہمیں موقع ملتا رہا تو ہم یہ کھیل آئندہ بھی جاری رکھیں گے۔
آگے بڑھیں، ایک دہائی قبل اسی محمد بن راشد نے دبئی میں ایک اور منصوبے کا اعلان کیا تھا اور یہ منصوبہ ”دبئی فیوچر میوزیم“ کے نام سے ایک عظیم الشان بلڈنگ اور اس میں منعقد ہونے والی سرگرمیوں کے عنوان سے تھا۔ اس سال گیارہ اکتوبر کو اس میوزیم کا افتتاح ہو چکا ہے اور اس میں سرگرمیوں کی شروعات بھی ہو چکی ہے۔ یہ میوزیم 30 ہزار مربع میٹر پر مشتمل ہے، اس کے ڈھانچے کے ستون سات منزلہ اور عمارت 77 میٹر بلند ہے، اس کا پیش منظر سٹین لیس سٹیل کا ہے جو 17 ہزار مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ کا پہلا میوزیم ہے جو ماحولیاتی توانائی ڈیزائن میں پلاٹینیئم سرٹیفکیٹ کا حامل ہے۔ اسے شمسی توانائی سے چار ہزار میگا واٹ بجلی فراہم کی جائے گی اور یہ میوزیم اربن انجینئرنگ کا سنگ میل ثابت ہو گا۔ اس کے ساتھ ملحقہ پارک میں 80 اقسام کے پودے لگائے گئے ہیں جنہیں جدید ترین خودکار آبپاشی نظام سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس میں 14 ہزار میٹر عربی خطاطی کی گئی ہے جسے اماراتی آرٹسٹ مطر بن لھج نے ڈیزائن کیا ہے۔ اس خطاطی میں محمد بن راشد کے اقوال پیش کیے گئے ہیں، مثلاً: ”ہم شاید سیکڑوں سال زندہ نہ رہ سکیں لیکن ہماری تخلیقات ہمارے بعد طویل عرصہ تک ہماری وارث رہیں گی“۔ ”مستقبل انہی قوموں کا ہوتا ہے جو اسکا تصور کرتے ہیں، اس کو ڈیزائن کرتے ہیں اور اسے انجام دیتے ہیں، مستقبل کسی کا انتظار نہیں کرتا“۔ اس بلڈنگ اور میوزیم میں کیا ہو گا اس کا اندازہ آپ اس کے افتتاحی سیشن اور اسی ماہ گیارہ اور بارہ اکتوبر کو ہونے والی سرگرمیوں سے کر سکتے ہیں۔ اس میوزیم میں پہلا فورم گیارہ اور بارہ اکتوبرکو منعقد ہوا جس میں دنیا کے 400 سے زیادہ مستقبل کے ماہرین اور 45 سے زیادہ بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں نے شرکت کی۔ یہ چار سو ماہرین اور 45 ادارے اور تنظیمیں وہ ہیں انسانوں کے مستقبل کے حوالے سے غور و فکر کر رہے ہیں، مثلاً یہ تحقیق کر رہے ہیں کہ انسانوں کو دوسرے سیاروں پر کیسے بسایا جا سکتا ہے، دوسرے سیاروں پر انسان کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کیسے ممکن ہے، انسانی زندگی کو طویل کیسے کیا جا سکتا ہے اور یہ کہ انسان موت پر قابو کیسے پا سکتے ہیں۔ مستقبل میں انسانوں کو درپیش اہم مسائل مثلاً توانائی کی منتقلی، ڈیجیٹل تقسیم، ذاتی ڈیٹا کا مستقبل، سماجی چیلنجز، خلائی شعبے کا مستقبل، ڈیجٹلائزیشن اور میکانزم کی ترقی میں حکومتوں کا کردار جیسے موضوعات شامل تھے۔ ان تنظیموں اور ان کے نمائندوں نے اس فیوچر فورم میں مستقبل میں آنے والی نسلوں کو با اختیار بنانے، مستقبل کے رجحانات اور ٹیکنالوجی کو منظم کرنے میں حکومتوں کا کردار، مستقبل کی دولت، مستقبل کی قانون سازی میں نجی شعبے کا کردار اور صحت کی دیکھ بھال میں ٹیکنالوجی کے کردار جیسے عنوانات پر بھی روشنی ڈالی۔ اسی فورم میں ہسپانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر جوزے کوردیرو کی کتاب ”موت کی موت“ کی بھی رونمائی ہوئی۔ جوزے کوردیرو نے فورم میں بتایا کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب انسان طویل عمر تک جینے کے قابل ہو سکیں گے۔ بلکہ اس کے الفاظ کچھ اس طرح تھے کہ اگر آپ 2030 تک زندہ رہے تو بعید نہیں کہ آپ ہمیشہ زندہ رہنے کے قابل ہو سکیں۔
یہ ساری تحقیق اور ریسرچ ہم سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر واقع ملک میں ہو رہی ہے اور یہ سب کچھ اس ملک میں ہو رہا ہے جو ملک کم اور صحرا زیادہ ہے۔ جہاں کے اہم پارکس، ہوائی اڈوں اور بلڈنگز میں گھاس اور پودے لگانے کے لیے مٹی بھی باہر سے امپورٹ کی جا تی ہے جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ یہ لوگ باہر سے مٹی منگوا کر بھی خطے کی ایک ناقابل تردید حقیقت بن چکے ہیں اور ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود دنیا میں ہنسی مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ یہ لوگ آج 2071 کی پلاننگ کر رہے ہیں اور ہم نوے کی دہائی کی سیاست سے باہر نہیں نکل سکے۔ یہ لوگ دوسرے سیاروں پر آباد ہونے کی پلاننگ کر رہے ہیں اور ہم اس سیارے پر رہنے کے قابل بھی نہیں رہے۔ یہ انسانی عمر کو طول دینے اور لافانی بنانے کی باتیں کر رہے ہیں اور ہم ساٹھ سال کی ایوریج کو بھی برقرار نہیں رکھ پا رہے۔ یہ فیوچر میوزیم جیسے پراجیکٹ شروع کر رہے ہیں اور ہم ماضی کے مزاروں سے نہیں نکل سکے۔ اس پر مستزاد ہمیں اپنی سنگین حالت کا احساس بھی نہیں۔ ذرا سوچیں اس رویے اور زعم کے ساتھ ہم اور ہمارا ملک مزید کتنا عرصہ اس دھرتی پر باقی رہ سکیں گے۔

تبصرے بند ہیں.