اپوزیشن کی ضمنی فتح اور شاہی تلوار

20

برطانوی کنگ چارلس سوئم کے روایتی شاہی لباس میں ایک تلوار ہے جس کا نام curtana ہے جب برطانوی بادشاہت تبدیل ہوتی ہے تو یہ تلوار بھی نئے بادشاہ کے پاس آجاتی ہے کہتے ہیں کہ یہ تلوار آج سے 700 سال پرانی ہے اور 15 ویں صدی عیسویں میں بنائی گئی تھی۔ یہ ایک جنگی ہتھیار ضرور ہے مگر اس کی حیثیت ایک نمائشی تلوار سے زیادہ نہیں ہے یہ آج تک کسی لڑائی یا معرکے میں استعمال نہیں ہوئی بلکہ اس تلوار کی دھار کے دونوں رخ کُند رکھے گئے ہیں جسے انگریزی میں Blunt Edge کہتے ہیں گویا بادشاہ چاہے بھی تو اس سے کسی کو قتل نہیں کر سکتا۔ اسے sword of mercy یا شمشیر رحم کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک بے ضرر ہتھیار ہے جس کا نہ کوئی فائدہ نہ نقصان۔ تمہید ذرا لمبی ہو گئی ہے معاملہ یہ ہے کہ حالیہ ضمنی انتخابات میں سابق وزیراعظم عمران خان کی جیتی گئی نصف درجن سیٹوں کی عملی اہمیت خاصی حد تک کنگ چارلس سوئم کی مذکورہ بالا تلوار جیسی ہے جسے وہ دیکھ سکتے ہیں محسوس کر سکتے ہیں خوش بھی ہو سکتے ہیں مگر ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے ان کو استعمال نہیں کر سکتے ان کو مجموعی گنتی میں شمار بھی نہیں کر سکتے۔
پاکستان میں ضمنی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے جولائی میں پنجاب اسمبلی کی خالی نشستوں پر جو ضمنی انتخاب ہوا تھا اس میں تحریک انصاف نے 20 میں سے 15 سیٹیں جیت لی تھیں یہ الیکشن بھی اسی کا تسلسل تھا، 8 میں سے 6 سیٹیں تحریک انصاف کو ملیں اور عمران خان بیک وقت 6 سیٹوں پر واضح برتری سے جیت گئے جو کہ ہماری انتخابی تاریخ کا ایک ریکارڈ ہے۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ عمران خان قومی اسمبلی سے استعفیٰ دیئے بغیر الیکشن لڑ رہے تھے اور اب آئین کی رو سے وہ صرف ایک سیٹ پر حلف اٹھا کر پارلیمنٹ کے ممبر بن سکتے ہیں مگر یہ حلف اٹھانے کے لیے انہیں اسمبلی کے اجلاس میں جانا ضروری ہے۔ یہ وہی اسمبلی ہے جس میں ان کی جماعت نے خود استعفے دیئے تھے۔ ایک طرف استعفیٰ کی پالیسی اور اسی سانس میں انہی خالی سیٹوں پر دوبارہ انتخاب کیلئے مقابلہ کرنا مضحکہ خیز بھی ہے اور سسٹم سے مذاق بھی۔
ان ضمنی انتخابات میں ایک امید وار کے 6 حلقوں سے جیتنے اور جیتی گئی ساری سیٹیں خالی چھوڑنے کے سوال پر ایک نئی آئینی بحث چھڑ گئی ہے۔ 1973ء کے آئین میں یہ ایک واضح سقم موجود تھا کہ ایک شخص جتنے انتخابی حلقوں سے اس کا جی چاہے انتخاب لڑ سکتا ہے۔ اس شق کی روح جمہوریت کے بنیادی تصور سے ویسے ہی متصادم ہے اس سے نہ صرف عوام کی کثیر تعداد پارلیمنٹ میں اپنی آواز پہنچانے کے حق سے محروم ہوتی ہے وہاں یہ سیاست میں پیسے سرمایہ کاری اور ووٹوں کی خرید و فروخت کا باعث بنتی ہے۔ یعنی اگر آپ کے پاس وافر پیسہ ہے تو آپ یہ سیٹیں روک کر اپنے مخالف گروپ کیلئے رکاوٹ پیدا کر سکتے ہیں۔
یہاں پر ہمیں ہمسایہ ملک انڈیا جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا ہے کی مثال دینا پڑے گی۔ 1951ء میں عوامی نمائندگی ایکٹ آف انڈیا انتخابات میں ایک سے زائد سیٹوں پر کھڑے ہونے کی اجازت دیتا تھا۔ انڈیا کو یہ سمجھنے میں 45 سال لگ گئے کہ یہ غلط ہے چنانچہ 1996ء میں اس قانون کو ترمیم کر کے یہ قرار دے دیا گیا کہ کوئی امیدوار لوک سبھا میں جانے کے لیے 2 سے زیادہ حلقوں سے انتخاب نہیں لڑ سکتا۔ اب وہاں ایک اور آئینی کمپین چل رہی ہے کہ 2 سیٹوں پر کھڑے ہونا بھی جمہوریت کے منافی ہے لہٰذا حکومت کے لاء کمیشن نے سپریم کورٹ سے سفارش کی کہ صرف ایک سیٹ پر انتخاب کا حق ہونا چاہیے اور اگر یہ تسلیم نہیں کیا جاتا تو یہ ضابطہ جاری کریں کہ جو امیدوار 2سیٹوں پر جیت کر بعد ازاں ایک سیٹ خالی کرتا ہے اس سیٹ پر دوبارہ انتخاب کا سارا خرچہ اس سے لیا جائے فی الحال انڈین سپریم کورٹ نے اس سے اتفاق نہیں کیا لیکن گزشتہ انتخابات میں نریندر مودی کو 2 سیٹوں سے الیکشن لڑنے پر عوامی سطح پر سخت تنقید کا سامنا کرناپڑا۔ عمران خان ایک آئینی سقم سے فائدہ اٹھا کر پورے سسٹم کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہیں بلکہ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ حلف برداری کو بھی قانونی حیلوں بہانوں سے لمبا کریں گے جہاں تک وہ کر سکے۔ ویسے منتخب ہو کر حلف نہ اٹھانے کی روایت ہمارے ہاں سینیٹر اسحاق ڈار اور ایم پی اے چوہدری نثار علی خان نے بھی قائم کر رکھی ہے۔
اس ضمنی الیکشن کی خاص بات یہ ہے کہ تحریک انصاف ملتان سے شاہ محمود قریشی کی بیٹی کو شکست ہوئی حالانکہ چند ماہ پہلے جولائی میں اس حلقے سے شاہ محمود کے بیٹے نے صوبائی سیٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ پی ٹی آئی موروثی سیاست کے خاتمے کے نام پر اقتدار میں آئی تھی مگر وہ جس موروثیت کے خاتمے کی تبلیغ کرتے تھے وہی موروثیت انہوں نے پارٹی میں متعارف کرانے کی کوشش کی مگر حلقے کے عوام نے یہ کوشش ناکام بنا دی۔
اب ن لیگ کی شکست کی وجوہات پر بات ہو جائے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ تحریک انصاف نے اپنے اقتدار کے دوران کوئی ڈیڑھ درجن کے قریب ضمنی انتخاب ہارے ہیں جس کی وجہ یہ تھی کہ عوام ان کے طرز حکمرانی سے ناخوش تھے۔ تحریک انصاف اپنے اقتدار کے چوتھے سال عوام میں اتنی غیر مقبول ہو چکی تھی کہ اراکین اسمبلی اپنے حلقوں میں جانے سے خوف زدہ تھے وہ تو بھلا ہو ن لیگ اور PDM کا کہ انہیں اس مشکل سے نجات دلا کر فارغ کر دیا۔ اس کے بعد جب مہنگائی کا دوسرا دور شرو ع ہوا تو عوام تحریک انصاف کے مظالم بھول گئے اور یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ن لیگ سے تو پہلی حکومت ہی ٹھیک تھی۔ گویا ن لیگ نے اپنی مقبولیت کی قیمت پر تحریک انصاف کے گناہوں کا کفارہ ادا کیا اور سارے گناہ اپنے سر لے لیے اگر یہ عدم اعتماد نہ ہوتا اور PTI کو مدت پوری کرنے دی جاتی تو ن لیگ کی اقتدار میں واپسی یقینی تھی مگر انہوں نے شارٹ ٹرم فائدے کے لیے اپنا لانگ ٹرم نقصان اٹھایا۔ عابد شیر علی کا کہنا ہے کہ بجلی کے بل اور مہنگائی ان کی شکست کا سبب بنی۔
جولائی اور اکتوبر کے دونوں انتخابات میں ایک چیز بطور خاص نوٹ کی گئی کہ ن لیگ نے اپنے امیدوار کو حلقوں میں ان کے اپنے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جبکہ عمران خان نے انتخابی جلسوں میں ناقابل عبور ریکارڈ قائم کیا اتنے انتخابی جلسے پاکستان کی تاریخ میں شاید کسی پارٹی لیڈر نے کئے ہوں جبکہ دوسری طرف ن لیگی امیدوار ہر جگہ اپنی بقا کی جنگ تنہا لڑتے نظر آئے۔ انتخابات میں شکست کے بعد یہ بیانیہ لانچ کیا گیا کہ تحریک انصاف نے اپنی ہی سیٹیں دوبارہ جیتی ہیں یہ عذر زیادہ قائل کرنے والا نہیں ہے۔ سیاست ایک dynamic یعنی ہر لحظہ بدلنے والا فیلڈ ہے اگر آپ 2018ء کی تحریک انصاف کی جیتی گئی سیٹوں پر ان کا حق تسلیم کرتے ہیں تو اس کا مطلب تو یہ ہے کہ پھر ن لیگ کو ان کے مقابلے میں اترنا ہی نہیں چاہیے تھا تا کہ 2018ء والا status برقرار رہے یہ بہت ہی کمزور بیانیہ تھا۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ جب عمران خان کو یہ پتہ تھا کہ وہ ساری سیٹیں جیت کر اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تو پھر انہوں نے اس مشق فضول کی زحمت کیوں کی۔ عمران خان نے پارلیمانی پوزیشن متاثر کیے بغیر ایک تو اپنے مخالفین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ دوسرا انہوں نے دیگر سٹیک ہولڈرز کو بھی ثابت کردیا ہے کہ عوام ان کے ساتھ ہیں اس سے ان کیbargaining پوزیشن کافی بہتر ہوئی ہے جس کا مجموعی اثر کہیں نہ کہیں ضرور نظر آئے گا۔ البتہ جو فوری نتائج عمران خان اس انتخاب سے حاصل کرنا چاہتے تھے وہ حاصل نہیں ہو سکے، تو انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوا اور نہ ہی نئے آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ نئے انتخابات تک ملتوی کیا گیا۔
سیاست سے ہٹ کر دیکھا جائے تو عمران خان بطور سابق وزیراعظم پاکستان بہت سی کلاسیفائڈ معلومات رکھتے ہیں جن کے افشاء ہونے کی صورت میں ریاست کے مفادات کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ ان کا ریکارڈ ہے کہ وہ جلسوں میں ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جو ان کی تقریر کا حصہ نہیں ہوتیں جیسے خفیہ خط میں انہوں نے غیر ارادی طور پر امریکہ کا نام لے لیا تھا تو لمحہئ فکریہ یہ ہے کہ کہیں وہ پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام یا دفاعی حکمت عملی کے بارے میں کوئی قومی راز فاش نہ کر دیں جو بعد میں ان کے لیے مسائل کا باعث بن جائے۔

تبصرے بند ہیں.