پیپلز پارٹی کی واپسی اور ضمنی انتخابات

53

حالیہ ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کی واپسی نے جمہوری دور کے واپس پلٹ آنے کی راہیں کھولی ہیں یہ راہیں دہشت گردی، حماقت اور حالات کے جبر نے بند کر دی تھیں۔ ان ضمنی انتخابات نے بہت سے سوالات کو جنم دیا جن کا جواب احمق تو فوراً دے گا مگر جن کو نظام، وطن عزیز کی بقا کی فکر ہے جو حساسیت، سنجیدگی اور آگاہی میں مبتلا ہیں وہ تشویش میں مبتلا نظر آئیں گے۔ کچھ لوگ تو سرعام جمہوری نظام کے خلاف ہیں کیوں کہ آمریت میں ان کو آسودگی نصیب ہوئی اور اکثریت آمریت کے خلاف ہے کیونکہ وہ آمریت کی اقسام سے واقف ہیں، وہ جمہوری اور مذہبی سیاسی جماعتوں میں آمرانہ رویوں سے واقف ہیں اور آمریت میں جمہوریت پسند ہونے والے آمروں سے بھی واقف ہیں جن کے ادوار نے وطن عزیز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ حالیہ تجربہ ہائبرڈ نظام کا تھا جو تاریخ کے پیٹ میں جنم لینے والے بچے کا باپ ایک دوسرے کو ٹھہرانے لگے۔
حالیہ ضمنی انتخابات میں عمران نیازی نے 55 سے زائد جلسے کیے اور ہر بار ہر جلسہ میں نئی درفنطنی چھوڑی۔ مگر حالیہ انتخابات سے مجھے ایک واقعہ یاد آیا، ایک دن ایک کسٹم آفیسر نے اپنے ماتحت جس کو معمول کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، بلایا۔ وہ ماتحت اپنے کولیگز میں جھوٹا مشہور تھا سچ بولنا اس کے لیے بہت مشکل نہیں ناممکن تھا۔ خیر اس نے فائل پیش کی جس میں اس کی رائے لکھی ہوئی تھی LDC سے ترقی کر کے انسپکٹر ہوا تھا۔ آفیسر نے رائے پڑھی پھر فائل دیکھی اس ماتحت کا نوٹ فائل سے میل نہیں کھاتا تھا۔ آفیسر نے بڑے تعجب اور سنجیدگی سے کہا کہ سب کو علم ہے تم ایک احمق آدمی ہو پھر روزانہ کی بنیاد پر اپنے آپ کو احمق ثابت کرنے پر اتنی محنت کیوں کرتے ہو۔ اگر عمران نیازی کی حکومت کا آئینی طور پر خاتمہ نہ کیا جاتا تو وطن عزیز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا مگر ان کے چھوڑے ہوئے حالات اور غلاظت کی ٹوکری کو اٹھانا ذمہ داری لینا مشکل ترین کام تھاجس کے لیے موجودہ حکومتی اتحاد تیار نہ تھا، کیونکہ نتیجہ اپنی سیاسی حیثیت برباد کرنا تھا۔ مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت، جھوٹ اور الزام کے علاوہ عالمی تنہائی میں گھرا ہوا پاکستان غیر مقبول فیصلوں کا متقاضی تھا جو کرنا پڑے اور عمران دور کا گند موجودہ حکمران اتحاد کے سر پر تھوپا ہی جانا تھا۔
وقت اور حالات میں تغیر رہتا ہے اچھے دن ضرور آئیں گے۔ مگر حالیہ انتخابات کا مقصد کیا تھا اور پھر عمران نیازی کا 7 حلقوں میں انتخاب لڑنا کیا تھا۔ ایم این اے شپ سے استعفیٰ تو وہ دے چکے چاہیں تو واپس جا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن پر ان کو اعتماد نہیں پھر اسی الیکشن کمیشن کے زیر انتظامات الیکشن لڑنا؟ ان
کے ووٹرز کو بھی علم تھا کہ موصوف نے اسمبلی میں نہیں جانا پھر موصوف انتخابات میں کیوں اترے اور ووٹرز بھی پولنگ سٹیشن پر آئے بعض حلقوں میں ووٹوں کو خریدنے کی اطلاعات بھی میڈیا پر نشر ہوئیں۔ ملک میں سیلاب اور معاشی بحران کے علاوہ ہر بحران ملک سے بھاری ہے اور ان کو ایسے مذاق سوجھ رہے ہیں؟ آئین میں گنجائش اور اجازت ہے کہ ایک سے زیادہ حلقوں سے انتخابات میں حصہ لیا جا سکتا ہے مگر یہ کچھ اس طرح ہی ہے جیسے کوئی بات شروع کرنے سے پہلے عموماً لوگ کہتے ہیں کہ ایک بات کروں آپ غصہ تو نہیں کریں گے۔ دوسرا کہے گا، نہیں نہیں آپ بات کریں۔ پہلا اس اجازت کے بعد سیدھی گالی دے دے کہ غصہ نہ کرنے کی اجازت تو مل ہی چکی ہے۔ عمران نیاز نے بے مقصد انتخابات لڑ کے آئین کو گالی دی، قوم کا وقت اور پیسہ برباد کیا۔ اپنی ’میں‘ کی تسکین کے لیے اپنے آپ کو سیاسی احمق ثابت کیا اپنے ووٹرز کو احمق ثابت کیا حالیہ 6 سیٹیں دراصل ایک سیٹ ہے اور موصوف حقیقت میں کراچی سے پیپلز پارٹی کے ایک ورکر سے شکست کھا گئے۔ ملتان میں پیپلز پارٹی نے کمر توڑ شکست دی، حالانکہ ان کے مخالف سیاسی رہنماؤں نے ان انتخابات کو سنجیدہ نہیں لیا کیونکہ عمران نیازی خود بھی سنجیدہ نہیں تھے۔ ان انتخابات کے نتیجہ میں انہوں نے اسمبلی میں جانا تو ہے نہیں اور اگر گئے تو ایک نشست پر حلف اٹھا سکیں گے۔
حکمران اتحاد دیکھنے یا کہنے کی حد تک اتحاد ہے، انتخابی اعتبار سے جس جماعت کا نمائندہ انتخاب میں اترا ہوتا ہے اسی کی جماعت کے ووٹرز اس کو ووٹ کرتے ہیں، مسلم لیگ کے اندر دھڑے بندی اور باہمی حسد و چپقلش عیاں ہے۔ ملتان میں علی موسیٰ گیلانی کو پیپلز پارٹی کے ووٹرز نے ہی ووٹ ڈالے ہیں اتحادی جماعتوں کو کوئی فکر نہیں تھی یہی صورتحال کراچی کی ہے۔ حکمران اتحاد صرف حکمران اتحاد ہے، عملی طور پر انتخابی اتحاد ہرگز نہیں ہے۔ ن لیگ نے انتخابات کو سنجیدہ لیا نہ ووٹرز کو متحرک کیا۔ جبکہ عمران خان یا سوتے ہیں یا پھر جلسے کرتے ہیں۔ دن رات ایک کر کے کراچی میں پیپلز پارٹی کے ورکر کے ہاتھوں شکست کھائی، ملتان ہاتھ سے گنوایا۔ عابد شیر علی کی شکست تو سب کے سامنے تھی۔ ان انتخابات میں پیپلز پارٹی نے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی طرف کامیابی حاصل کی۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو سوشل میڈیا کی طرف توجہ دینا ہو گی۔ عمران کا سارا ووٹر سوشل میڈیا پر بھی موجود ہے جبکہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا ووٹر صرف پولنگ بوتھ تک مگر آج دور بدل گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے بغیر، پراپیگنڈہ کے بغیر گزارا نہیں ہو سکتا۔ لوگ بچوں کا نام رکھیں تو اس کے معنی جانتے ہیں کیونکہ نام کے اثرات شخصیت پر ہوتے ہیں، جانوروں کے نام بھی اور کاروباری اداروں کے نام بھی گویا کہ جو بھی اقدام کریں اس کو کسی نہ کسی نام سے منسوب ضرور کرتے ہیں کہ نام کے اثرات ہوا کرتے ہیں پی ٹی آئی یا عمران خان نے سونامی نام تجویز کیا جو بربادی کی علامت ہے، سو وہ ہوئی۔ پھر جنون کا نام دیا یعنی پاگل پن، وہ بھی دیکھا گیا۔ انتخابات میں بے مقصد حصہ لینا اپنے ووٹرز کو احمق ثابت کرنا، قوم اور ملک کا وقت اور پیسہ ضائع کرنا اور پیپلز پارٹی کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونے کے علاوہ کیا تھا۔ مجھے تجزیہ کاروں اور حمایتیوں پر حیرت ہے جو عمران نیازی کی اس حرکت کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی واپسی اور احمق کو محنت کر کے اپنے آپ کو احمق ثابت کرنے کے علاوہ ضمنی انتخابات اور کچھ نہ تھے۔ حکمران اتحاد مختلف نظریات کی جماعتوں کا بندوبست ہے، اداروں کے نیوٹرل ہونے نے اس اتحاد کی بنیاد ڈالی۔ آج نہیں تو کل جب انتخابات ہوئے مقابلہ پیپلز پارٹی، ن لیگ، پی ٹی آئی، مذہبی جماعتوں کے درمیان ہو گا، نئی صف بندی کے ساتھ، موجودی ضمنی انتخابات سوائے قوم کا وقت اور پیسہ ضائع کرنے کے اور کچھ نہ تھا۔

تبصرے بند ہیں.