خزاں کی پشت پہ لکھے بہار کا قصہ

12

دن بہ دن تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کی لہر نے پاکستان کی غریب عوام سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا ہے۔شہروں سے لے کر قصبوں تک بے روزگار نوجوانوں کے غول کے غول پھر رہے ہیں۔تقریباً ہر تیسرا پاکستانی فرد ڈپریشن، مایوسی، اور افسردگی یا ذہنی عدم توازن کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ڈپریشن کا مرض حد سے زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے۔ حالیہ تحقیق کے مطابق 2026 میں ڈپریشن دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن جائے گا۔ تنگ دست، خوش حال، ان پڑھ، تعلیم یافتہ، حتیٰ کہ دینی فہم اور مزاج رکھنے والے لوگ بھی تیزی سے اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ ڈپریشن کی وجہ سے دنیا میں روانہ کئی افراد خودکشی اور خود سوزی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔مایوسی درحقیقت ہماری خواہشات کا ایک سائیڈ ایفکٹ ہے، بے بسی و لاچاری کی ایک کیفیت کاہی نا م مایوسی ہے۔ ڈپریشن درحقیقت اس بات کی علامت ہے کہ ہر فرد داخلی طور پر شدید بحران کا شکار ہے اس کا شعور، لاشعور سے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ شدید اذیت میں مبتلا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ حقیقی مسلمان کبھی ڈپریشن کا شکار نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ ایک مسلمان کا ایمان ہے کہ اس کی زندگی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔ اس کا مقصدِ حیات اللہ کی عبادت اور اطاعت ہے اور زندگی میں تمام پریشانیاں اس کی آزمائش کے لیے آتی ہیں۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے۔۔اور ہم تمھیں دکھ اور سکھ سے آزما رہے ہیں، پرکھنے کے لیے اور تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ یہ بات ایک اٹل حقیقت ہے کہ ربِ کائنات کی طرف سے آنے والے تمام مصائب کی شدت کبھی انسان کے تحمل کی حد سے باہر نہیں ہوتی۔ فرمانِ الہی ہے ہم کسی پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ چنانچہ مسلمان مصائب کو زندگی کا لازمی حصہ سمجھتا ہے اور مصائب سے گھبرا کر زندگی سے بیزار ہونے کے بجائے ان سے نجات پانے کے لیے پوری اور مسلسل کوشش کرتا ہے۔ مسلمان کا معاملہ تو بقول شاعر ایسا ہے کہ
خزاں کی پشت پہ لکھے بہار کا قصہ
وہ غم زدہ ہے، مگر خوش قیاس کتنا ہے
ایک مومن کو یہ بات سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ اس کی دنیاوی زندگی کی تمام پریشانیاں عارضی ہیں۔ اگر وہ ناساز گار حالات میں بھی اپنے ایمان اور اعمالِ صالح پر قائم رہے گا تو مرنے کے بعد ہر غم سے پاک انتہائی پرمسرت، ابدی زندگی کا حق دار ہوگا جس کی بشارت دو جہاں کے پروردگار نے دی ہے۔ بے شک ہم تمھارا امتحان کریں گے کسی قدر، خوف، بھوک، مال اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور ان ثابت قدموں کو خوش خبری سنا دو جن کا حال یہ ہے کہ جب انکو کو ئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی عنایتیں ہیں اور رحمت، اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔حضرت ایوب علیہ السلام مال، اولاد اور تمام خدام سے محروم ہونے کے علاوہ ایک بہت تکلیف دہ جسمانی عارضے میں بھی مبتلا ہو گئے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے تلوے سے لے کر سر تک سارے جسم میں جلتے ہوئے پھوڑے نکل آئے۔ وہ ایک ٹھیکرا لے کر اپنا جسم کھجاتے اور راکھ پر بیٹھے رہتے تھے۔لیکن اس کے باوجود آپ ایمان کی چٹان ثابت ہوئے۔ خباب بن ارتؓؓ کو مشرکینِ مکہ نے آگ کے انگاروں پر لٹایا، یہاں تک کے ان کی چربی کے پگھلنے سے آگ بجھ گئی، لیکن وہ ایمان پر جمے رہے۔حضرت بلال ؓؓ کو لوہے کی زرہ پہنا کر چلچلاتی دھوپ میں کھڑا کر دیا گیا، پھر تپتی ریت پر لٹاکر گھسیٹا گیا، مگر وہ احد احد ہی کرتے رہے۔ نبی کریم ؐ تو سخت ایام کو عبادت کا ذریعہ بنا لیتے تھے۔ ایک مسلمان کی زندگی میں کیسی ہی ناکامیاں کیوں نا آئیں یا ظاہری اسباب کیسے ہی نامساعد کیوں نا ہوں وہ کبھی بھی نا امید نہیں ہوتا۔ وہ اجاڑ موسم میں بہار دیکھتا ہے، تپتے ہوئے صحرا میں آبشار دیکھتا
ہے،سوکھی ہوئی شاخ میں شجرِ سایہ دار دیکھتا ہے، اس لیے کے اس کا ایمان ہے کہ۔اللہ سبحانہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس تو بس کافر ہی ہوتے ہیں۔مسلمان اس رمز سے آشنا ہوتا ہے کہ اس دنیا میں سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے اذن اور ارادے سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی ارادہ خیر اور حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس لیے مسلمان ہر زحمت میں رحمت دیکھتا ہے اور ہر زخم میں مرہم پا لیتا ہے۔آزمائشیں تو ہر ذی روح کی زندگی میں آتی ہیں، ہم زندگی کے بیشتر مقامات پر آزمائے جاتے ہیں۔ ہماری زندگی میں جاری غموں کو اور خوشیوں کا انحصار ہماری سوچ اور حکمتِ عملی پر ہے ہم کیسے ان کا سامنا کر تے ہیں۔ وہ پروردگارحضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے دریاکو دو حصوں میں تقسیم کر سکتا ہے تو ہماری زندگی میں موجود پریشانیاں اور تکالیف بھی دور کرنے پر قادر ہے۔ وہ ذات جوحضرت ابراہیم ؑ کو آگِ نمرود سے زندہ نکال لیتی ہے تو کیا وہی ذات ہماری زندگی کے تمام مسائل کو حل کرنے پر قادر نہیں ہے۔وہ ذات جو حضرت یونس ؑ کو چالیس دن تک مچھلی کے پیٹ میں رکھنے کے بعد زندہ نکال لائی اس کے لیے یہ چھوٹی چھوٹی باتیں کیا معنی رکھتی ہیں۔ ہمارا یقین کامل ہی ہمیں بچاتا ہے، توکل ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے آگ ٹھنڈی کروالی گئی۔ یہ توکل ہی کا صلہ تھا کہ ایک شیر خوار کے ایڑیاں رگڑنے پر آبِ زم زم جاری کر دیا گیا،حضرت یوسف علیہ السلام کاحضرت یعقوب علیہ السلام سے ملنا، شدید طوفان میں کشتیِ نوح کا پار ہونا کیا توکل ہی کی وجہ سے ممکن نہیں ہوا۔ جو ذات حضرت یوسف ؑ کے لیے بند در وا کر دیتی ہے، جو ذات یوسف ؑ کو اندھیرے کنویں سے نکالتی ہے، وہی پھر ان کو شاہِ مصر بنا دیتی ہے۔ لیکن کنویں میں گرنے سے لے کر شاہِ مصر بننے تک کا سفر انہوں نے بھی شدید مشکلات اور آزمائشوں میں گزارا۔ غلام بنا کر بیچ دیے گئے، تو کبھی بے گناہ قید میں ڈال دیے گئے مگر ان کا توکل کسی مقام پر نہیں ڈگمگایا اور وہی توکل ہی انہیں شاہِ مصر کے مقام تک لایا۔ مشکلیں اور آزمائشیں ہمیشہ ہی کچھ وقت بعد ختم ہو جایا کرتی ہیں، راستے بھی کھل جایا کرتے ہیں، جس طرح سونا آگ میں تپ کر کندن بن جاتا ہے اسی طرح مشکلات اور آزمائشیں بھی انسان کو مضبوطی اور استقامت بخشتی ہیں۔ ایک سچے مسلمان کو یہ بھروسہ اور اعتماد ہونا چاہیے کہ اللہ ہے اور ہر پل اس کے ساتھ ہے ساری مشکلیں، ساری پریشانیاں وہی حل کرے گا۔

تبصرے بند ہیں.