کوڑا تھراپی

30

آنچہ دانا کند، کند ناداں، لیک بعد از خرابیئ بسیار۔ کرتا تو بے وقوف بھی وہی ہے جو دانا کرتا ہے۔ لیکن بے حساب خرابی مچانے کے بعد بات سمجھ پاتا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ (مغرب ومشرق کی) دنیائے کفر میں منشیات اور شراب، نیز جنسی جرائم نے زندگیاں اجیرن کر رکھی ہیں۔ آزادی، حقوق انسانی، ترقی، عیش وراحت کے نام پر انسانی زندگی کو یہ تین بلائیں گھن بن کر چاٹ گئی ہیں، کوئی علاج، دوا کارگر نہیں۔ امریکا میں سب سے زیادہ منشیات کا مرض الاسکا میں ہے۔ مارجوآنا کو بے شمار ریاستوں میں قانونی تحفظ حاصل ہے۔ (ہر گناہ قانون کا چولا پہنے بیٹھاہے۔ LGBT کی طرح۔) بہت بڑی تعداد طلبہ طالبات کی ہے جو اپنے نشے کی ضروریات پورا کرنے کے لیے معاشی مجبوری کی بنا پر ’جنسی صنعت‘ کا حصہ بنتے ہیں۔ امریکا میں منشیات کی سالانہ کھپت 100 ارب ڈالر ہے۔ 2022ء کے اعداد وشمار میں ایک کروڑ چالیس لاکھ (12 سے بڑی عمروں تک کے) امریکی شراب نوشی کے مریض ہیں۔روس میں، 25  فیصد روسی 55 سال کی عمر سے پہلے شراب نوشی کے ہاتھوں مر جاتے ہیں۔ ووڈ کا شراب ان کا قومی مشروب ہے جو سوشل زندگی کا لازمہ ہے۔ یہی ملک کی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے اور معاشرتی طبی مسئلہ بھی! بالخصوص جنگوں میں روس کو نشے میں دھت سپاہیوں کو سنبھالنا مشکل رہا۔ حتیٰ کہ ایک مرتبہ سپاہیوں نے ہلہ بول کر ہسپتال سے طبی ضروریات کے تحت رکھی الکحل چرا لی۔ یوکرین کی جنگ میں بھی ’وڈکا‘ دشمن کا سامنا بھی تھا کہ روسی فوجی شراب کے اسیر تھے!
درج بالا مسائل سے چھٹکارا پانے کے لیے دنیا میں ہمہ نوع علاج اختیار کیے گئے۔ تاہم جنوری 2013ء کی روس سے ملنے والی رپورٹ ’سائبیرین ٹائمز‘ کے مطابق کوڑوں سے مریض کا علاج نہایت مؤثر ثابت ہوا۔مریض پیسے دے کر مار کھاتا ہے۔ دو گھنٹے پٹائی (60 کوڑے)، 99 ڈالر میں۔ ہر ہفتے 2 سیشن یعنی 200 ڈالر۔ 3 ماہ کا کورس 2400  ڈالر دے کر ایسی دماغی تھیراپی (Therapy) کہ مکمل شفا۔ ایک سال تک چیک کرانے کے لیے ایک ماہ کے وقفے سے آتے رہنا۔عمر 17 سال سے 70 سال تک کے مریضوں نے شفا پائی!
22 سالہ نتاشا جو ہیروئن کی مریض تھی، اس کا کہنا ہے کہ میں اس متنازع سمجھے جانے والے علاج کے مؤثر ہونے کا ثبوت ہوں۔ یہ نشے اور ڈپریشن کے مرض کے لیے کارگر ہے۔ تکلیف تو بہت ہوتی ہے لیکن اس علاج نے مجھے زندگی لوٹا دی ورنہ میں مر گئی ہوتی۔ 16 سال کی عمر میں نتاشا جس شخص کی محبت میں گرفتار ہوئی وہ ہیروئن کا نشئی تھا۔ اسے بچاتی بچاتی خود اس لت میں پڑ گئی۔ وہ دوست بھی مر گیا اور اس کے کئی ساتھی بھی اسی کی طرح نشے کے ہاتھوں مر گئے۔ کہتی ہے: میرے چاروں طرف موت تھی۔ میری ماں ہسپتال در ہسپتال میرے علاج کے لیے ماری پھری۔ میری صحت تباہ ہو چکی تھی۔ اس وقت میری ماں کو اس ’کوڑا تھیراپی‘ کا پتا چلا اور وہ مجھے یہاں لائی۔ اس علاج کے ماہر، ڈاکٹر جرمن پلی پینکو ماہر نفسیات اور پروفیسر مارینا چکرووا تھی۔ غیرملکی مریض بھی دوردراز کا سفر کرکے ان کے پاس پشت پر کوڑے، سوٹیاں کھانے کے علاج کے لیے آتے ہیں۔ اگرچہ روسی رپورٹ 2013ء کی ہے مگر یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اب ایسے سینٹر دنیا بھر میں دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
روسی ڈاکٹر جرمن قبل ازاں 25سالہ تجربے کا حامل خود کو بتاتا ہے۔ اس علاج سے مار کے ذریعے دماغ کو ابھارا، متحرک کیا جاتا ہے اور وہ ردِعمل میں اینڈورفِن (Endorphin) ہارمون ریلیز کرتا ہے جس سے مریض خوشی، اطمینان محسوس کرتا ہے۔ نشہ فرد میں سے زندگی کا ولولہ اور جوش چھین لیتا ہے۔ اسی سے اس میں خودکشی کا رجحان، نفسیاتی انتشار اور پراگندگی پیدا ہوتی ہے۔مریض ہر علاج ناکام ہونے پر یہ علاج گوارا کرلیتا ہے۔ اس تھراپی سے پہلے اسے نفسیاتی رہنمائی، ماہر نفسیات دیتا ہے۔ مار کے دوران اس کا طبی معائنہ (ECG) بھی کیا جاتا ہے کہ غیرمتوقع اثرات تو مرتب نہیں ہو رہے۔ نتاشا کا کہنا تھا کہ میں نے والدین سے کبھی ایک تھپڑ بھی نہ کھایا تھا۔ (کھا لیا ہوتا تو کوڑے نہ کھانا پڑتے!)۔ جسمانی درد کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ ہر کوڑے پر چلاتی تھی، روتی، جسم تپ جاتا، ہتھیلیوں سے پسینے چھوٹتے، چبھتا ہوا درد محسوس ہوتا۔ بعد میں مجھے اس کے اثرات اور فوائد نظر آئے۔ اتنے علاجوں کے بعد یہ واحد چیز تھی جو سودمند ثابت ہوئی۔ اس علاج نے میری زندگی مکمل بدل دی۔ اب میں نارمل زندگی جینا چاہتی ہوں۔ ایک مرد کی منتظر، متلاشی ہوں۔ شادی، گھر اور بچوں کی خواہش ہے۔ ضمناً یہ بھی دیکھیے کہ سائیبریا میں پلنے والی یہ 22 سالہ لڑکی کی زندگی کی ترجیحات کتنی فطری ہیں۔ شوہر گھر بچوں کی خواہش! مغرب میں رنگ برنگے صنفی بھوت، ٹرانس جینڈریاں! یعنی امریکی، یورپی زیادہ بھاری مریض ہیں۔ 100 کوڑوں والی اینڈروفن کے ضرورت مند ہیں۔ ایک مریض 41 سالہ یوری بھی ہے جو کام کے بے پناہ دباؤ سے نمٹنے کے لیے شراب نوشی سے مدد لیتا اس کا مریض بن گیا۔ یہ بھی خود کو لاعلاج پاکر اسی ڈاکٹر کے پاس آیا کیونکہ بصورت دیگر موت اس کا منہ چڑا رہی تھی۔ دوسرے علاج ناکام ہوچکے تھے۔ پہلا کوڑا پڑا تو کہتا ہے کہ بے شمار گالیاں دیں، چیخا چلایا۔ تاہم جیسے تیسے 30 کوڑے کھا لیے۔ تکلیف دہ پیٹھ کے ساتھ تھا۔ فریج میں وڈکاپڑی تھی مگر اسے چھونے کی بھی خواہش نہ تھی۔ سال بھر وہ بوتل یونہی پڑی رہی۔ بتایا کہ میری نفسیات سے اس کی طلب نکل چکی تھی۔ کینیڈا سے 2018-19ء کی پوسٹوں میں 24-36 کوڑوں کی تھراپی سے خود تبصرہ نگار گزرا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کامیاب علاج ہے۔ منشیات، شراب کے نشے اور جنسی بدنظمی کا شافی علاج ہے۔
یاد رہے کہ شراب ام الخبائث ہے، قرآن، انجیل میں بھی حرام قرار دی گئی۔ اسلام میں احساسات کی پاکیزگی کے تحفظ کے گرد احکامات وقوانین گھومتے ہیں۔ جسے یقینی بنانے کے لیے شراب کی حرمت، اختلاط کی ممانعت، لباس کی تفاصیل/ پابندی، پردہ کے احکام، محرم، نامحرم کی حدبندی عائد ہے۔ مغرب یہ اقرار کرنے پر مجبور ہے کہ دنیا کے ہوشمند (شراب کی علت سے آزاد) متین مہذب سبھی مسلم ممالک ہیں جن کی طویل فہرست ہے۔ شراب جرائم کا پیش خیمہ ہے۔ ہمارے ہاں حال میں ہونے والے دو بھاری جرائم نورمقدم اور سارہ انعام کے بہیمانہ قتل میں دونوں قاتل منشیات اور شراب کے اسیر اور مریض تھے۔ اسلامی سزاؤں کو ’وحشیانہ‘ (نعوذ باللہ) کہنے والے نہیں جانتے کہ خالق نے خود جو علاج لازم کیا ہے وہ شافی ہے۔ ’کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر ہے‘۔(الملک) اینڈروفن ہارمون کا خالق وہ خود ہے۔ ہر رگ وریشہ اسی کی تخلیق ہے! ماہر نفسیات سے زیادہ اپنی تخلیق کو جاننے والا۔ البتہ علاج میں فرق یہ ہے کہ اسلام میں یہ دردمندی اور اصلاح، تعلق باللہ اور ایمانی تربیت، اخروی نجات، توبہ اور مغفرت کا ایک پورا پیکیج ہے۔ ایک شخص کو شراب نوشی کے جرم میں سزا دی جا رہی تھی کسی کے منہ سے نکلا خدا تجھے رسوا کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اس طرح نہ کہو اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔‘ (بخاری) ’کہو اللہ اسے معاف کر دے، اللہ اس پر رحم کر‘۔ (ابوداؤد) شراب
کی حرمت کی شدت کا یہ عالم ہے کہ اللہ کی لعنت ان 10 قسم کے سبھی افراد پر ہے جو اس کاروبار/ فراہمی میں ملوث ہوتے ہیں۔ کوڑوں سے بروقت علاج جنسی افراتفری کا نہیں کیا گیا، سو دنیا تباہ کاری عالمی سطح پر بھگت رہی ہے۔ خلل دماغ کی حد تک پہنچ چکی ہے۔ مفتی منک (زمبابوے) کے لیکچرز برطانیہ کی 5 بڑی یونیورسٹیوں میں منسوخ کرائے اور برطانیہ اور سنگاپور کا ویزہ صرف اس لیے نہیں دیا گیا کہ انہوں نے LGBT کو حرام قرار دیا تھا۔ شدید تنقید کی تھی۔ سو نام نہاد انسانی حقوق کی اس ’سنگین‘ خلاف ورزی پر انہیں رد کیا گیا!
درج بالا علاج کی تفصیل ظاہر کرتی ہے کہ سائنس کے خدا کے حکم کے تحت کوڑے بھی کھا لیں گے، اللہ کے نازل کردہ احکام قبول نہیں کرنے۔ کورونا آکر ماسک سے منہ ڈھانپ دے گا، ڈینگی کے خوف سے جسم ڈھانپنا لازم، آدھی آستین کی ممانعت کر دیں گے، مگر نقاب حجاب، پردہ، احکامِ الٰہی کے تحت غضب ناک کر دے گا۔ نیکریں پہن کر حیا سوز حلیے میں پھریں گے، مگر ٹخنوں کو کھلا رکھنے پر چلّا اٹھیں گے!
مسلمانوں کی قوت کا اصل راز دورِ اول ہی سے اخلاقی پاکیزگی اور برتری کا رہا۔ صحابہ کرامؓ کی بے داغ سیرتیں اور انفرادی واجتماعی اخلاقی طہارت ہی سے اعلیٰ درجے کا اتحاد اور نظم وضبط انہیں میسر تھا۔ مسلمانوں کی اس قوت کو کفر نے ڈالر بہاکر اہم مسلم ممالک کی اخلاقیات پر سخت ترین حملہ کیا ہے۔ سعودی عرب، خلیجی ممالک اور پاکستان میں۔ اسلام میں فحاشی اور اخلاقی بدنظمی کی طرف لے جانے والے سبھی عوامل حرام قرار دیے گئے۔ زبردست بند باندھے گئے۔ عقیدے کی پختگی نے ہر فرد کے اندر کڑا محاسب لا کھڑا کیا۔ عورت کی عزت وعصمت معاشرے کی مقدس ترین اور قیمتی متاع قرار دی گئی۔
اسلامی معاشرہ خاندان اور نسب کے تحفظ کے لیے کڑے قوانین لاگو کرتا ہے۔ شراب اور فحاشی (ظاہر وباطن کی) پر پہرے بٹھاتا ہے۔ خلاف ورزی کرنے پر سخت ترین سزا لاگو کرتا ہے۔ اس نظام کا اہم ترین حصہ عقائد کی پختگی سے اصلاحِ نفس ہے۔ آخرت میں جوابدہی جزا وسزا کا خوف خود تازیانہ بن کر فرد کو درست رکھتا ہے۔ عملی زندگی میں نکاح کی سادگی اور آسانی (جسے شیطان آج مشکل ترین بنا چکا رسم و رواج لادکر)، تجرد کی ناپسندیدگی ہے اشاعتِ فحش کی تمام صورتیں اسلامی معاشرہ ختم کرتا ہے۔ قحبہ گری ناممکن بناتا ہے۔ پردہ عورت کے وقار اور تقدس کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ اتنی حدیں پھلانگ کر بھی اگر کوئی حرام کاری کا راستہ اختیار کرے، تو پھر قانون سخت ترین سزا لاگو کرکے اسے مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں کے لیے نمونہئ عبرت بنا دیتا ہے۔
کل تک ہماری مغرب کی آلہ کارا ین جی اوز ’وحشیانہ سزائیں‘ کہتی رہیں! تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی۔ اب یہ تھراپی مقبول عام ہونے لگی ہے۔ یہی تو کہا گیا تھا: ’زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ اور روز محشر پر ایمان رکھتے ہو۔‘ (النور۔ 2)
مسلمان اپنے احساسِ کمتری، غلامانہ سوچ اور گھگھیاہٹ سے باہر نکلیں۔ ٹرانس جینڈر جیسے مکروہ قوانین کے مؤید بننے پر سیاست دان قوم سے معذرت کریں، اللہ کے حضور توبہ کریں۔
اس عہد کے مصلحوں کے ہاتھوں، دامانِ خیر دھجیاں ہے!

تبصرے بند ہیں.