مقبولیت کا ایک اور امتحان

10

اتوار 16اکتوبر کو قومی اسمبلی کے آٹھ حلقوں میں ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں اس کے علاوہ پنجاب میں تین صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں بھی اسی روز الیکشن ہو رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کی تمام نشستیں تحریک انصاف کی چھوڑی ہوئی ہیں اور اگر تحریک انصاف دوبارہ انھیں حاصل کر لیتی ہے تو اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہو گی لیکن پھر بھی ہار اور جیت سے ایک تاثر تو جائے گا۔ ان انتخابات میں جس طرح عمران خان کے سیاسی وژن کے مطابق تحریک انصاف حصہ لے رہی ہے یہ بذات خود ایک مذاق ہے یعنی قومی اسمبلی کی تمام نشستوں پر عمران خان خود الیکشن لڑ رہے ہیں۔ انتخابات کے نتائج کیا ہوں گے یہ تو نتائج آنے کے بعد ہی پتا چلے گا لیکن فرض کر لیتے ہیں کہ تمام نشستوں سے تحریک انصاف جیت جاتی ہے تو اس کا مطلب ہو گا کہ عمران خان کو ایک نشست کے علاوہ باقی تمام نشستوں سے مستعفی ہونا پڑے گا جس کا مطلب ہو گا کہ ان پر ساٹھ دنوں کے اندر دوبارہ الیکشن کرانا پڑیں گے لیکن قومی اسمبلی سے استعفوں کی جس حکمت عملی پر تحریک انصاف عمل پیرا ہے تو اس کے مطابق تو تحریک انصاف جیتنے کے بعد تمام نشستوں سے مستعفی ہو جائے گی اور اس طرح ساٹھ دن بعد دوبارہ انتخاب اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا کہ جب تک عام انتخابات نہیں ہو جاتے۔ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ عمران خان ہمیشہ منفی طرز عمل ہی کیوں اپناتے ہیں۔ 2013کے انتخابات کے بعد 35پنکچرز والی شرلی چھوڑی اور پھر اس کے بعد اس شرلی سے وہ رنگ برنگ آتشبازی کے مظاہرے ہوئے کہ الحفیظ و الامان۔126دن تک دھرنے دے کر ایک نیوکلیئر پاور کے دارالحکومت کو جام کئے رکھا کہ اس دوران چین ایسے دوست ملک کے صدر کے انتہائی اہم دورے کو ملتوی کرنا پڑا لیکن اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی کچھ ثابت نہ ہو سکا تو ایک موقع پر جب کسی صحافی نے خان صاحب سے پوچھا کہ پینتیس پنکچرز کا کیا بنا تو کہا کہ وہ تو ایک سیاسی بیان تھا۔اس کے بعد ہر حال میں اپنے مفادات کی تکمیل کی سیاست نے عدم اعتماد کی تحریک کے دوران کیا کیا گل نہیں کھلائے اور جس طرح خان صاحب آئین پاکستان کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہے اس کے نظارے بھی پورے پاکستان نے دیکھے۔ اس کے بعد صدر اور اس وقت کے گورنر پنجاب نے جس طرح آئین پر اپنی سیاسی خواہشات کی خاطر انتہائی
منفی انداز میں عمل کیا اس نے خان صاحب اور ان کی جماعت کی سیاست کی حقیقت کو سب کے سامنے پوری طرح کھول کر رکھ دیا اور رہی سہی کسر اب سائفر پر آڈیو لیکس نے پوری کر دی ہے۔
یہ تو ضمنی انتخابات کے حوالے سے خان صاحب کی منفی سیاست پر کچھ گذارشات تھیں کہ جس کا ذکر اس لئے بھی ضروری تھا کہ قارئین کو پتا چل سکے کہ خان صاحب کی سیاست کا انحصار ہمیشہ کارکردگی سے زیادہ مکارکردگی پر ہوتا ہے۔ پنجاب میں ہونے والے صوبائی اسمبلی کی بیس نشستوں کے انتخابات میں پندرہ نشستیں جیت کر بھی جو بندہ مسلسل اس بات کا واویلا کرے کہ چیف الیکشن کمشنر نواز لیگ کا ہے تو اس سے بہ آسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خان صاحب کا ذہن کس قدر زرخیز ہے اور جو لوگ انھیں ایزی لیتے ہیں وہ کس قدر احمق اور بیوقوف ہیں۔اب اگر موجودہ ضمنی انتخابات کی بات کریں تو ایک بات یاد رکھیں کہ رائے تو اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو بالکل واضح سب کی نظروں کے سامنے حقیقت ہے اسے دیکھ کر کچھ نتائج اخذ کرنا۔ کسی کی رائے سے آپ اتفاق بھی کر سکتے ہیں اور اختلاف بھی لیکن جو کھلے زمینی حقائق ہیں ان سے انکار تو کسی طور ممکن نہیں۔ سب کے علم میں ہے کہ جن حلقوں میں انتخابات ہونے ہیں ان علاقوں میں عمران خان کم و بیش ہر روز ایک جلسہ کر رہے ہیں اور اس بات میں کیا شک ہے کہ اس سے کارکن ہی نہیں بلکہ عوام بھی متحرک ہوتے ہیں اور یہ بات بھی سچ ہے کہ جب تک بچہ روتا نہیں اس وقت تک ماں بھی اسے دودھ نہیں دیتی تو عمران خان تو پوری طاقت اور جو کچھ ان سے ہو سکتا ہے وہ سب کچھ بروئے کار لاکر انتخابی مہم چلا رہے ہیں اور ان کے پاس موجودہ حکومت کے خلاف سب سے بڑا کارڈ کہ جس سے ایک عام آدمی کی نہ صرف یہ کہ توجہ بلکہ حمایت بھی بڑی آسانی سے حاصل کی جا سکتی ہے وہ مہنگائی کارڈ ہے لیکن اس کے برعکس حکومتی اتحاد کی جانب سے انتخابی مہم کے حوالے سے مکمل سکوت نظر آ رہا ہے۔ مقامی لوگ یقینا کچھ کر رہے ہوں گے لیکن نواز لیگ کی جانب سے دو شخصیات ہی انتخابی مہم کی سربراہی کرتی تھی ایک مریم نواز اور دوسرے حمزہ شہباز۔ مریم نواز تو لندن میں ہیں جبکہ حمزہ شہباز پاکستان میں ہوتے ہوئے بھی کہیں نظر نہیں آ رہے۔مریم نواز اگر چند دن تاخیر سے لندن چلی جاتی تو کوئی حرج نہیں تھا انھیں ہر حال میں انتخابی مہم کو چلانا چاہئے تھا اور یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ گذشتہ انتخابات میں بھی اور ان انتخابات میں تو مہم نام کی کوئی چیز دکھائی ہی نہیں دے رہی لیکن گذشتہ ضمنی انتخابات میں جلسوں میں میاں نواز شریف کا ٹیلی فونک خطاب کیوں نہیں ہوا۔ دوسری جانب اگر دیکھیں تو زرداری صاحب تو اپنی بیماری کی وجہ سے کچھ عرصہ سے سیاسی منظر نامہ سے ویسے ہی آؤٹ ہیں اور بلاول بھٹو وزیر ہونے کے ناتے انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے حالانکہ کراچی میں دو حلقوں میں الیکشن ہو رہا ہے اور پارٹی قیادت کی عدم توجہ کی وجہ سے این اے 237 ملیر والے حلقہ سے کچھ توقع کی جا سکتی ہے لیکن این اے 239کورنگی سے امکانات کم ہی نظر آ رہے ہیں۔ اسی طرح پنجاب میں این اے 157ملتان،این اے 108فیصل آباد اور این اے 118ننکانہ صاحب پنجاب کے تین حلقوں میں الیکشن ہو رہے ہیں لیکن حکومتی اتحاد کی طرف سے کوئی سرگرمی نظر نہیں آ رہی حتیٰ کہ ملتان میں گیلانی صاحب اور ان کے بیٹے ہی بھاگ دوڑ کر رہے ہیں جبکہ فیصل آباد میں رانا ثناء اللہ اگر وزیر ہونے کی وجہ سے مہم میں حصہ نہیں لے سکتے تو ضمانت کرا کر ویسے ہی فیصل آباد کچھ دنوں کے لئے اپنا ڈیرہ تو آباد کر سکتے تھے۔ اس کے علاوہ خیبر پختون خوا میں این اے22مردان،24چارسدہ اوراین اے 31پشاور تین حلقوں میں انتخاب ہو رہا ہے لیکن وہاں بھی حکومتی اتحاد کی جانب سے عدم دلچسپی واضح نظر آ رہی ہے۔
ایک فریق اپنے سر دھڑ کی بازی لگا رہا ہے اور ہر روز کسی نہ کسی جگہ جلسہ سے خطاب کر رہا ہے لیکن دوسری جانب مکمل خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے اور اس کے بعد اگر نتائج فریق مخالف کے حق میں جاتے ہیں تو اس میں عوامی حمایت سے قطع نظردوسرے فریق کی نالائقی کا عمل دخل زیادہ ہو گا۔ ایسے ہی تو سیانے نہیں کہتے کہ حرکت میں برکت ہے اب اگر حرکت ہی نہیں کرنی تو برکت کہاں سے آئے گی اور بنا حرکت کے برکت کا حصول جہاں سے دستیاب ہوتا ہے وہاں آخری اطلاعات تک ”ایبسولوٹلی ناٹ“ کا بورڈ لگا ہوا ہے تو باقی پھر دعائے خیر ہی رہ جاتی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ ماہر دعائے سیاسیات طارق جمیل صاحب بھی فریق مخالف کے مداح ہیں تو اب انتظار ہی ہے اور دیکھتے ہیں کہ نتائج کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.