”کچھ سیاسی فکری مغالطے۔۔“

30

ہم کچھ سیاسی فکری مغالطوں کا شکار ہیں یا یوں کہیے کہ کچھ چالاک اور ہوشیار لوگ ہمیں دانشورانہ بددیانتی سے کام لیتے ہوئے ان کا شکار کر دیتے ہیں جیسے ابھی میرے ایک دوست نے کہا۔ نیب کے قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے چوروں اور ڈاکووں کو چوری اور ڈاکے کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تبدیلیاں ہوئی ہیں تو کہنے لگا، پچاس کروڑ سے کم کی کرپشن پر اب کوئی نہیں پوچھے گا، اب ہر کرپٹ بندہ آسانی سے ضمانت کروا سکے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مجرم اپنی صفائی نہیں دے گا بلکہ الزام لگانے والے کوجرم ثابت کرنا پڑے گا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کس نے کہا کہ پچاس کروڑ سے کم کی کرپشن پر اب کوئی نہیں پوچھے گا، ترمیم صرف یہ ہے کہ اس حد سے زیادہ کی زیادہ کی کرپشن کی تحقیقات نیب جیسا اعلیٰ اختیاراتی ادارہ کرے گا او ر اس سے کم کے الزامات کے لئے پولیس، اینٹی کرپشن اور ایف آئی اے موجود ہیں۔ دوسرے جب قتل کے مقدمے میں ضمانت ہو سکتی ہے تو کرپشن کے صرف الزام پر نوے دن کا فزیکل ریمانڈ اور ضمانت سے انکار کس طرح جسٹی فائی ہوسکتا ہے۔ میں نے پوچھا، مریم نواز کو چودھری شوگر ملز کے ایک ایسے مقدمے میں گرفتار کر کے پہلے نیب کی حوالات اور پھر اڈیالہ جیل کے ڈیتھ سیل تک میں رکھا گیا مگر وہ مقدمہ برس ہا برس انکوائری میں رہا، وہ ٹرائل میں نہ جا سکا اور تیسرے،دنیا بھر میں انصاف پر مبنی قانون یہی ہے کہ الزام لگانے والا شخص یا ادارہ اپنا الزام ثابت کرے۔ کیا یہ درست ہو گا کہ میں تم پر ایک الزام لگاوں اور میری ذمے داری صرف الزام لگانا ہو؟
ایک دوسرا فکری مغالطہ یہ ہے کہ پی ڈی ایم کی حکومت کسی’رجیم چینج کانسپیریسی‘ کے تحت قائم کی گئی حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس الزام کو لگانے والے عمران خان کو خود ایک’رجیم چینج آپریشن‘کے تحت لانچ اور مسلط کیا گیا یعنی جس جرم اور سازش کے تحت وہ خود آئے، اسی کا الزام وہ اپنے مخالفین پر لگا رہے ہیں۔ عمران خان کو ایک آئینی طریقہ کار یعنی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیجا گیا جس میں کسی کو بھی یہ شکایت نہیں کہ ہماری مسلح افواج یا ان کی ایجنسیوں نے کوئی کردار ادا کیا ہو۔ فوج اسی طرح نیوٹرل ہوئی جس طرح آئین اسے نیوٹرل ہونے کے لئے کہتا ہے اور جس غیر جانبداری کا ہمارے فوجی افسران حلف اٹھاتے ہیں۔ جب حکومتی اتحادیوں پر غیر مرئی قوتوں کے ٹیلیفونوں کا دباو ختم ہوا تو انہوں نے سیاسی قوتوں کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے ایک آزاد فیصلہ کیا جبکہ دوسری طرف جب ہم حقیقی رجیم چینج آپریشن کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ پرانی سیاسی جماعتوں اور قیادتوں کو ڈسکارڈ کرنے کے لئے پندرہ سولہ برس سے ناکام رہنے والے سیاستدان کا چناو ہوا۔ اس کی سیاسی، فکری اورعملی سرپرستی کی گئی۔ اس کیلئے جلسے بھی کروائے گئے اور میڈیا بھی ارینج کیا گیا۔ اس کے لانگ مارچ اور دھرنوں کی سرپرستی بھی کوئی رازنہیں۔ اس کے مخالف سیاسی رہنما کو ایک متنازع عدالتی فیصلے کے ذریعے گھربھی بھیجا جاتا ہے۔ اگر آپ اصل آپریشن رجیم چینج کو دیکھیں تواس کے لئے پری پول رگنگ بھی ہوتی ہے، اس کو اتحادی تک دستیاب کروائے جاتے ہیں جو اس کے حقیقی نظریاتی مخالفین ہوتے ہیں اور پھر الیکشن ڈے پر بھی اس کے لئے کام کیا جاتا ہے، آر ٹی ایس بٹھایا جاتاہے۔ پوسٹ الیکشن اس کی سپورٹ ایسے کی جاتی ہے کہ اس کے مخالفین کو عدالتوں اور جیلوں میں رکھا جاتا ہے۔ اب آپ ہی بتائیے کہ آپریشن رجیم چینج کون سا ہوا، ایک آئینی طریقے سے سیاسی قوتوں کی تحریک عدم اعتماد ہوئی یا ایک لاڈلے کی پیدائش،پرورش، جوانی سے عاق کرنے تک سارے معاملات ہوئے؟
ایک فکری مغالطہ کے تحت مریم نواز سے شہباز شریف تک کی بریت کے فیصلوں کو اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں کئے گئے فیصلے کہا جا رہا ہے تو عمران خان کو ہر عدالتی اور قانونی روایت کے برعکس جو ضمانت پر ضمانت مل رہی ہے، اسے آپ کیا کہیں گے۔ مغالطہ یہ پیدا کیا جا رہا ہے کہ رہائی کسی ڈیل کا حصہ ہے اور یہ مغالطہ اس وقت تک دور نہیں ہو سکتا جب تک آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ تمام مقدمات حقیقی رجیم چینج آپریشن میں شریف فیملی کی کردار کشی کے لئے بنے۔ بات صرف مریم نواز اور شہباز شریف کی نہیں، آپ شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ سمیت کسی کا بھی مقدمہ اٹھا کے دیکھ لیجئے۔ اعلیٰ عدالتوں نے نیب اور دیگر اداروں کے بنائے ہوئے کیسوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ اگر آپ ان کی ضمانتوں کے فیصلوں کے پیراگراف ہی پڑھ لیں تو آپ کے تمام فکری مغالطے دور ہوجائیں گے۔
ایک اور فکری مغالطہ ہے کہ جناب عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے مخالف ہیں اوریہ بھی کہ اب نواز شریف اور خانصاحب دونوں ہی اسٹیبلشمنٹ مخالف ہو گئے ہیں۔ اس فکری مغالطے کو آپ اس وقت تک نہیں دور کر سکتے جب تک آپ اسٹیبلشمنٹ مخالف سوچ کو نہ سمجھ لیں۔ اسٹیبلشمنٹ مخالف سوچ یہ ہے کہ پاک فوج سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ نواز شریف کی یہی سوچ ہے اور اب ہماری قومی فوج نے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ نیوٹرل ہے، اے پولیٹیکل ہے۔ یہاں عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ مخالف نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ان کی جدوجہد اس لئے ہے کہ اسٹیبلشمنٹ جانبدار ہوجائے اور مداخلت کرتے ہوئے انہیں اقتدار میں لے کر آئے۔ وہ فوج کی سیاست میں ویسی ہی مداخلت چاہتے ہیں جو ستر برس موجود رہی ہے، وہ اسٹیبلشمنٹ مخالف نہیں بلکہ اس کی آئینی اور اخلاقی غیر جانبداری کے مخالف ہیں۔
چلتے چلتے ایک اور فکری مغالطہ دور کر لیں کہ عمران خان بہت بہادر ہیں، وہ نواز شریف کی طرح ملک سے بھاگے نہیں، یہاں رہ کے اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کر رہے ہیں تو میرے خیال میں بہادری کا یہ دعویٰ قبل از وقت بھی ہے اور تاریخی حقائق کے منافی بھی۔ میں پہلے ہی کہہ چکا کہ ججوں کی بحالی والے لانگ مارچ میں غائب ہوجانے والے، اپنے لانگ مارچ میں پومی بٹ کے پتھراو سے ہی دوڑ جانے والے عمران خان کہاں کے بہاد ر ہوئے۔ وہ ہمیشہ کسی دوسرے کے سہارے پربہادری کامظاہرہ کرتے رہے۔ اس وقت بھی انہوں نے محض رانا ثناء اللہ کی ایک بڑھک پر اپنا لانگ مارچ ملتوی کر دیا۔ میں عمران خان کو اس وقت واقعی بہادر تسلیم کر لوں گا جب وہ بھی اٹک قلعے، اڈیالہ جیل اور پھرکوٹ لکھپت جیل میں رہیں گے۔ وہ کئی سو پیشیوں کے باوجود عدالتوں میں پیش ہوتے رہیں گے اور جب ان کی بہن کو اسی طرح ان کے سامنے جیل میں ملاقات کرتے ہوئے گرفتا ر کیا جائے گا جیسے مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف کے سامنے گرفتار کیا گیا۔ اگر وہ ان سب کے بعد ملاقاتوں پر پابندی کے ساتھ اور بہن کے کسی پھانسی کی کوٹھڑی میں بند کئے جانے کے بعد بھی ڈٹے رہے تو میں انہیں بہادر مان لوں گا، ابھی تو ان کی بہادری محض بڑبولا دعویٰ اور ایک فکری مغالطہ ہے۔

تبصرے بند ہیں.