موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کی معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا: وزیراعظم

18

آستانہ: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کو غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے ۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کی معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ۔ پاکستان عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں ایک فیصد سے کم کا حصہ دار ہے ۔

 

سیکا سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سیکا کانفرنس میں شرکت میرے لئے باعث اعزاز ہے ۔ سیکا ایک اہم پلیٹ فارم ہے جو ایشیائی ممالک میں رابطوں کے فروغ کیلئے اقدامات کر رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ سیلاب سے پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ۔ ہزاروں کلو میٹرز شاہراہوں ، پل اور مکانات کو نقصان پہنچا ۔ پاکستان کے 3 کروڑ سے زائد سیلاب متاثرین کی بحالی چیلنج ہے ۔ بہت جلد سیلاب کی تباہ کاریوں سے باہر آکرعوام کو ریلیف فراہم کریں گے ۔

 

شہباز شریف نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے 816 ملین ڈالر کی تازہ اپیل قابل ستائش ہے ۔ دوست ممالک سے فراخدلانہ امداد پر ان کے شکر گزار ہیں ۔ پاکستان عالمی سطح پر خصوصاً دوست ممالک سے مزید مدد کا خواہاں ہے ۔

 

انہوں نے کہا کہ سی پیک روڈ اینڈ بیلٹ کا ایک اہم منصوبہ ہے ۔ سی پیک سے پاکستان سمیت پورے خطے کیلئے اقتصادی سرگرمیاں بڑھیں گی ، پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں ۔ پاکستان کی مسلح افواج اور عوام نے متحد ہو کر دہشت گردی کو شکست دی ۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے ۔ بھارت نے گزشتہ 7 دہائیوں سے یو این قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کو دبا رکھا ہے ۔ بھارت جمہوریت کا دعویدار ہونے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں فوجی طاقت استعمال کر رہا ہے ۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کیلئے بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری چاہتا ہے ۔ پاکستان بھارت کی جانب سے بامقصد مذاکرات کی توقع رکھتا ہے ۔ پاکستان اپنی آنے والی نسلوں کیلئے پُرامن فضا کا خواہاں ہے ۔ بھارت پر منحصر ہے وہ بامعنی مذاکرات سے ایشیا میں پائیدار امن کیلئے کردارادا کرے ۔

 

 

 

 

تبصرے بند ہیں.