تھرڈ ڈائیمینشن

10

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو ایک کرشماتی اور طلسماتی شخصیت کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ قومی سیاست میں وہ پچھلے دروازے سے داخل ہوئے اپنی ذہانت اور قابلیت کا لوہا منواتے ہوئے جنرل ایوب خان کی کابینہ میں شامل ہوئے اقتدار کی پُرپیچ راہوں پر چلتے چلتے سیاسی رہنما بنے پاکستان پیپلز پارٹی تشکیل دی اس دور کی نظریاتی سیاست کے بانی کہلائے، عوام کی طاقت بروئے کار لانے کے لئے انہیں ”اسلام ہمارا دین ہے“ اور ”سوشلزم ہماری معیشت ہے“ جیسے نعرے دیئے اور انہیں بتایا کہ ”طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں“۔ سہ نقاطی ایجنڈے پر پیپلز پارٹی کو چلایا اور سقوط ڈھاکہ کے بعد کٹے پھٹے پاکستان کی قیادت سنبھالی۔ 73 کا متفقہ آئین دیا۔ جنگی قیدی واپس لائے، شملہ معاہدہ کیا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ بہت بڑے مسئلے، قادیانی مسئلے کو آئینی اور دینی طریقے سے حل کیا۔
اپنے خاندانی پس منظر کے باعث بھٹو ذہین فطین ہونے کے ساتھ ساتھ آمرانہ ذہنیت کے مالک بھی تھے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کی تشکیل کے بعد اپنے ہی پارٹی رہنماؤں کے ساتھ بھی اسی قسم کا رویہ اختیار کیا۔ کئی سینئر اور نظریاتی رہنما ان سے الگ ہو گئے، اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ بھی ان کا رویہ آمرانہ ہی رہا۔ خواجہ رفیق، ڈاکٹر نذیر اور کئی سیاسی رہنماؤں کے قتل کے حوالے سے بھی معاملات شفافیت نہیں سمجھے جاتے ہیں۔ بھٹو کو ایسے ہی ایک سیاسی قتل کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ”عدالتی قتل“ تھا یعنی جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو سیاسی منظر سے ہٹانے کے لئے عدلیہ کے ذریعے انہیں تختہ دار پر لٹکایا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قتل کی ایف آئی آر انہی کے دور میں، انہی کے ایک ایم این اے نے درج کرائی تھی۔ ضیاء الحق کے دور میں اس مقدمے کو مقتول کی بیوی نے اٹھایا تھا، ہاں جنرل ضیاء الحق نے اس ایشو کو اپنے حق میں استعمال کیا اور بھٹو کو راستے سے ہٹا دیا۔
بات ہو رہی تھی آمرانہ رویوں کی۔ 1977ء میں ہونے والے عام انتخابات کے بارے میں ذوالفقار علی بھٹو کو 2/3 اکثریت حاصل ہونے کی امید تھی لیکن اپوزیشن کی تحریک کے نتیجے میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات متنازع ہو گئے اور اگلا مرحلہ بائیکاٹ کی نذر ہو گیا۔ تحریک چلی اس میں تشدد داخل
ہوا اور پھر تیسری قوت آ گئی۔ مارشل لالگ گیا۔
دور حاضر میں عمران خان، لاریب ایک کرشماتی شخصیت کے مالک ہیں۔ انہوں نے کرپشن اور اشرافیہ کی ناانصافیوں کے خلاف ایک بیانیہ تشکیل دیا۔ نوجوانوں کو جوش دلایا، اپنے ساتھ ملایا، ماڈرن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے انہوں نے عوام میں اپنی پذیرائی کا تاثر گہرا کرنے کی کوشش کی لیکن اپنی شہرت کو ووٹ اور پھر اسمبلی نشستوں میں ڈھالنے میں کامیاب نہ ہوئے حتیٰ کہ انہوں نے یوٹرن لیا۔ بڑوں کے ساتھ مل کر الیکٹ ایبلز کی معاونت اور الیکشن کمیشن کی رضامندی کے ساتھ 2018 میں وہ اقتدار میں آ گئے۔ کارکردگی کا خانہ خالی ہونے اور اپنی آمرانہ روش کے باعث وہ بری طرح ناکام ہوئے، بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے ان سے ناراض ہوئے، بیساکھیاں ہٹیں تو ان کے اقتدار کا دھڑن تختہ ہو گیا۔ اپریل 2022 میں اقتدار سے رخصتی کے بعد سے ہنوز وہ بڑی کامیابی کے ساتھ اقتدار میں واپسی کی مہم چلا رہے ہیں۔ 1977 کے بھٹو کی طرح انہیں بھی یقین ہے کہ وہ انتخابات میں 2/3 اکثریت حاصل کر لیں گے اسی لئے وہ قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔ عمران خان بزعم خود ہی ایسا کچھ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ عوامی رابطہ مہم کے ذریعے وہ اپنے فین کلب کے ممبران کو گرما رہے ہیں۔ لانگ مارچ اور دھرنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ حکومت اپنی رٹ قائم کرنے کے لئے یکسو نظر آ رہی ہے تیاریاں بھی بھرپور ہیں۔ رانا ثناء اللہ لانگ مارچ کے شرکا کا ”شایانِ شان استقبال“ کرنے کے لئے بھرپور انداز میں تیاری کر چکے ہیں۔
طرفین/فریقین نے بڑی واضح پوزیشن لے لی ہے۔ اب دونوں کا اپنے اپنے مؤقف سے ہٹنا شاید ممکن نہیں ہو گا۔ عمران خان صاحب معاملات کو اتنی انتہا تک لے جا چکے ہیں کہ اس سے واپسی ان کی سیاسی موت ہو گی وہ اتحادی حکومت کو مفلوج کر کے جھکانا ہی نہیں چاہتے بلکہ اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ فوری انتخابات کا مطالبہ تو اب ایک انہونی بات لگتی ہے ویسے وہ خود بھی فوری انتخابات کے لئے زیادہ متمنی نہیں ہیں کیونکہ وہ جس زبان سے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں اس سے حکومت کو نہ ماننے کا اعلان بھی کرتے ہیں۔ نیوٹرلز کو بھی للکارتے ہیں، چیف الیکشن کمیشن کو بھی صلواتیں سناتے ہیں، اسے جانبدار قرار دیتے ہیں، پھر الیکشن کیسے ہو گا۔ وہ اسمبلی میں بھی نہیں جاتے وہاں استعفیٰ دے چکے ہیں لیکن سپریم کورٹ میں بھی جاتے ہیں کہ ہمارے استعفے اس طرح منظور نہ کئے جائیں۔ ان کی حرکات و سکنات مکمل طور پر اجتماعِ ضدین کی عکاس ہیں وہ صرف اور صرف معاملات کو لاینحل مقام تک لے جا رہے ہیں بلکہ لے جا چکے ہیں۔ اگر لانگ مارچ ہوتا ہے تو تصادم لازمی ہو گا۔ تشدد ہو گا، خون خرابا ہو گا، پھر کیا ہو گا۔ ممکن ہے سپریم کورٹ مداخلت کرے جیسا کہ 25 مئی کو کیا تھالیکن عمران خان نے تو سپریم کورٹ کے واضح احکامات کی عدولی کی دنگا فساد کیا۔ ایک امکان ایسا بھی ہے کہ کوئی تھرڈ فورس مداخلت کرے، ایسے ہی جیسے 1977 کی تحریک کے نتیجے میں ہوا تھا۔ جنرل ضیاء الحق قوم کے وسیع تر مفاد میں ملک کو خون خرابے سے بچانے کے لئے تشریف لے آئے تھے اور پھر جو کچھ ہوا ہماری تاریخ ہے۔ کہیں ایسی ہی تاریخ دوبارہ دہرائی جانے کی تیاریاں تو نہیں ہو رہی ہیں ویسے تاریخ کا ایک مستند سبق ہے کہ وہ انپے آپ کو دہراتی ہے۔

تبصرے بند ہیں.