تاریخ کا طویل ترین احتساب

21

میاں نواز شریف کی لندن میں مریم نواز کے ہمراہ کی جانے والی پریس کانفرنس سنی۔آپ یہ کہتے ہیں کہ ملک کے بااختیار ترین عہدوں پرطویل ترین مدت کے لئے رہنے کا اعزاز شریف خاندان کے پاس ہے تو میں کہتا ہوں کہ تاریخ کے طویل ترین احتساب کا ریکارڈ بھی شریف خاندان کے خلاف ہی قائم ہوا ہے اور اگر کوئی اس دعوے پر جوابی دعویٰ کر سکتا ہے وہ بھٹو خاندان ہی کر سکتا ہے جس کے سربراہ کو عدالت کے ذریعے قتل کر دیا گیا اور پھراس کے بعد بھی شہادتوں کی ایک طویل داستان ہے۔ ملکی تاریخ کے طویل ترین سیاسی قیدی ہونے کا اعزاز بھی اس آصف علی زرداری کے پاس ہی ہے جس کو کبھی سرے محل کے حوالے سے منفی طریقے سے گلیمرائز کیا گیا، کبھی اس کے گھوڑوں کو مربے کھلانے کی باتیں ہوئیں اور کبھی اسے مسٹرٹین پرسنٹ کا نام دیا گیا۔ یہ درست ہے کہ پرویز مشرف کے دور سے پہلے کرپشن اور احتساب اس طرح کے نعرے نہیں تھے جس طرح کے اب ہیں۔ ہمیں احتساب کے نام پرپیپلزپارٹی کے خلاف ایک مختصر دور ملتا ہے جس میں احتساب کمیشن کی سربراہی سیف الرحمان کر رہے تھے۔ نوے کی دہائی میں کرپشن اور احتساب کی باتیں ضرور تھیں مگر انہیں جنونی انداز میں استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے تاریخ میں احتساب کے نام پر نشانہ بننے والے دونوں خاندان آج اتحادی ہیں اور اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ جن مقتدر حلقوں نے ہمیشہ انہیں نشانے پر رکھا آج وہی مقتدر حلقے ان خاندانوں کی مدد لینے کے لئے مجبور ہیں کیونکہ ان کا تاریخ کا سب سے بڑا اور مہنگا سیاسی منصوبہ بدترین ناکامی سے دوچار ہو گیا ہے۔ میں تو یہاں ان دونوں خاندانوں کے اعلیٰ ظرف کی بھی بات کروں گا کہ وہ پھانسیوں، قتلوں، جیلوں اور جلاوطنیوں کے باوجود کسی انتقام کی بات نہیں کر رہے۔
کون اس تاریخی حقیقت سے انکار کرے گا کہ شریف خاندان نے احتساب کے نام پر تاریخ کے طویل ترین انتقام اور نقصان کا سامنا کیا ہے۔ اس نقصان کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب وہ سیاست میں بھی نہیں آئے تھے اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ان کے کارخانے قومیا لئے گئے تھے۔ شریف خاندان نے نہ ملک چھوڑا نہ ہمت چھوڑی اور اپنا کاروبار دوبارہ جما لیا۔ اب میاں محمد شریف کا خیال تھا کہ سیاست میں آنا ضروری ہے سو انہوں نے اپنے بیٹے محمد نواز شریف کو جوانی میں ہی سیاست کے اکھاڑے میں اتار دیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میاں شریف کے خاندان کا پہلا احتساب غلام اسحق خان کے ذریعے کیا گیا جنہوں نے ترانوے میں قومی اسمبلی توڑی۔ پیپلزپارٹی نے بھی ان کے کاروبار پر کاری وار کیا جب ان کے درامدی جہاز جوناتھن کو برتھ دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس نے بھی شریف خاندان کو بڑا مالی نقصان پہنچایا مگر جب پرویز مشرف کا مارشل لا لگا تونواز شریف ماضی کے تمام گلے شکوے بھلا کے بے نظیر بھٹو کے ساتھ میثاق جمہوریت کرنے کے لئے لندن پہنچ گئے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ بے نظیر بھٹو یا پیپلزپارٹی کو ان سے گلے شکوے نہیں تھے، تھے اور بہت تھے مگر دونوں نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا اور پاکستان کے آئین کے بعد جمہوریت کے مفاد میں پاکستان کی تاریخ کا بہترین ڈاکومنٹ سائن کیا۔ اس پر عملدرامد سے پاکستانی سیاست کا رخ بدلا جا سکتا تھا مگر،افسوس، عمل نہ ہوسکا۔ شریف فیملی کے بڑا احتساب آج سے بائیس برس پہلے اس وقت شروع ہوا جب پرویز مشرف نے بھٹوز اور شریف کو سیاست سے نکالنے کے لئے ان کی کردار کشی بھی کی اور ان کی سیاسی جماعتوں کو بھی توڑا۔ پیپلزپارٹی میں سے پیپلزپارٹی پٹریاٹ نکالی گئی اور مسلم لیگ نون میں سے مسلم لیگ قاف، ا س قاف سے مراد قائد اعظم بیان کئے گئے مگر کہاں قائد اعظم اور کہاں وہ قاف لیگ جو آمریت کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی تھی۔مشرف دور میں شریف فیملی کو جلاوطن کرنے کے بعد ان کے کاروبار اور گھر تک چھینے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت کے آمر کو بھی نواز شریف کوسزا دینے کے لئے ایک ہائی جیکنگ کا کیس بنانا پڑا جس میں طیارے کا رخ درحقیقت اس نے خود موڑا تھا۔
مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ شریف فیملی کے لئے عمران خان جیسے سیاسی اناڑی کا دور پرویز مشرف کے دو ر سے بھی بدترین رہا۔ اس مرتبہ گھروں میں بیٹھی غیر سیاسی بیویوں، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی نہیں چھوڑا گیا، انہیں بھی عدالتوں میں گھسیٹا گیا اور نیب کی پہلی خاتون قیدی مریم نواز شریف بنیں۔ یہ ایک شرمناک اور واہیات دور تھا اور اس سے پہلے ’رجیم چینج‘ کے حقیقی طویل ترین آپریشن میں نواز شریف کو کسی سودے کمیشن یا کسی حکومتی معاملے میں کرپشن پر نہیں بلکہ ایک بلیک لا ڈکشنری کے نام نہاد قانون کی بنیاد پر نااہل کیا گیا تھا۔ ایون فیلڈ کیس بھی سب کے سامنے ہے جس میں مریم نواز بری ہوچکی ہیں جبکہ دوسرے کیس میں جج ارشد ملک کی ویڈیوز سب کچھ کھول کے بیان کر رہی ہیں کہ یہ فیصلہ کس طرح لیا گیا تھا۔ عمران خان اور ان کے حامی اگر اب بھی شریف اور بھٹو خاندانوں کوکرپٹ کہتے ہیں تو انہیں جواب دینا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ پہلے پرویز مشرف اور پھر ان کے دور میں ان دونوں خاندانوں پر کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوسکی جب تمام خفیہ اور کھلے ادارے کھلم کھلا ان کے خلاف کردارادا کر رہے تھے۔ کیا وجہ تھی کہ نواز شریف کو سزا دلوانے کے لئے عدلیہ کو ایسا کردار ادا کرنا پڑا جس کی وجہ سے وہ آج دنیا بھر کے انصاف کے نظاموں میں ایک سو تیسویں نمبر پر کھڑی ہے۔
سچ تویہ ہے کہ پہلے پرویز مشرف اور پھر عمران خان نے احتساب اور انصاف دونوں نعروں کو رسوا کیا ہے، ان کا اعتبار اور اعتماد کھویا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سیاستدان کرپشن نہیں کرتے، کرپشن کرنے والے سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ججوں، جرنیلوں، تاجروں، بیوروکریٹوں اور صحافیوں سمیت ہرشعبے میں موجود ہیں مگر اب کرپشن کا مطلب ہے کردار کشی اور احتساب کامطلب ذاتی اور سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں رہ گیا۔ ہاں، یہی سچ ہے کہ انہوں نے ہمارے اچھے نعروں کا ہی نہیں ہمارے خوابوں کا بھی استحصال کیا ہے۔ آج تیس برس کے احتساب کے بعد اگر شریف فیملی پر کچھ غلط ثابت نہیں ہو سکا تو پھر میرے خیال میں اس موضوع کو اب بند کردینا چاہئے اور خود عمران خان کو اپنے گریبان میں جھانک کے دیکھنا چاہئے جن پر چاہنے والوں کے صدقات اور عطیات کے ناجائز استعمال سے قومی تحائف کی لوٹ مارہی نہیں بلکہ پراپرٹی ٹائیکون سے کئی سو ارب روپوں کی دیہاڑیوں کے الزامات بھی ثابت ہونے جا رہے ہیں۔ نواز شریف اور بھٹو خاندان نے تو اپنا دفاع کر لیامگر کیا عمران خان بچ پائیں گے، مجھے لگتا ہے کہ نہیں، بہت مشکل ہے۔

تبصرے بند ہیں.