وزیر اعظم آڈیو لیکس میں کوئی ایجنسی ملوث نہیں ،ابتدائی تحقیقات مکمل 

33

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم آفس سائبر سکیورٹی بریچ میں اپنی یا بیرون ملک کی کوئی ایجنسی ملوث نہیں ہے ، اب تک کی تحقیقات کے مطابق یہ معاملہ افراد کی طرف جارہا ہے ، وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں کسی بھی قسم کے احتجاج یا دھرنے کی اجازت نہیں ہے ،اگر پی ٹی آئی اسلام آباد پر قبضے کے لئے آنا چاہتی ہے تو اسے ہر قیمت پر روکیں گے ،عمران خان کی سیاست کو اپنی ہی آڈیو لیکس نے کفن پہنا دیا ہے ،دوسروں کو چور اور ڈاکو کہنے والےا عمران خان کا اپنا کردارفرح گوگی ، ہارس ٹریڈنگ، توشہ خانہ کے تحائف چوری کرنا ہے ، فارن فنڈنگ کیس میں سیف نیازی کوحفاظتی حراست میں لیا گیا ، اگر ضروری ہوا تو باقاعدہ گرفتاری ڈال کر تفتیشی عمل آگے بڑھایا جائے گا، اس وقت گرفتاری سے زیادہ اہم عمران خان کو بے نقاب کرنا ہے ۔

 

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ ایک سال سے میں ایک ہی بات کر رہا ہوں کہ عمران خان ایک فتنہ ہے ، وہ قوم کو تقسیم کرنا چاہتا ہے ، قوم کے نوجوانوں کو گمراہ کررہا ہے ، قوم کو اس فتنے کی شناخت اور ادراک کرنا چاہیے ورنہ یہ قوم کو کسی حادثے کا شکار کر دے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک پر اللہ کا کرم ہورہا ہے کہ یہ فتنہ بے نقاب ہورہا ہے ، اس کی شناخت ہورہی ہے ، اب قوم کا بھی فرض ہے کہ اللہ کی طرف سے اس رہنمائی سے فائدہ اٹھائے ،عمران خان جو کہتا رہا اورجو موقف اختیار کیا اور پھر اس سے پیچھے ہٹ گیا ، اتنا بڑا جھوٹا اور فراڈیا شخص زندگی میں نہیں دیکھا ۔ انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ عمران خان نے کس طرح ایک خط کو بیرونی سازش قرار دیا، وہ قوم کے ساتھ کھیل کھیل رہا تھا ،کہتا تھا کہ حقیقی آزادی سلب ہوگئی ہے ۔

 

انہوں نے کہا کہ آج قوم کو عمران خان سے متعلق اس قدر رہنمائی ملی ہے کہ انھیں اس فتنے کا ادراک ہوجانا چاہیے ۔ آ ج کی لیک آڈیو میں عمران خان کہتے ہیں کہ نمبر گیم پوری ہوگئی ہے ، اب سے اگلے 48 گھنٹے بہت اہم ہیں ، یہ ان دنوں کی بات ہے جب تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی ہے ،ایک جھوٹا بیانیہ بنانے کے لئے عمران خان نے ملکی مفادات کو اتنا نقصان پہنچایا کہ اس کا اثر پاکستان کو کئی دہائیاں برداشت کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا مکروہ چہرہ سامنے آچکا ہے عوام میں ہو تو بیرونی سازش اور مدینہ کی ریاست اور اپنے لوگوں میں بیٹھ کر ہارس ٹریڈنگ کرتا ہے ۔

 

وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان کسی کو چور ،ڈاکو کہتا ہے تو اپنا کردار فرح گوگی والا ہے، فرح گوگی وزیراعظم ہائوس میں گھر کے فرد کے طور پر آتی جاتی اور رہتی رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر روز ہی جتھے آکر اسلام آباد پر حملہ آور ہوجائیں تو پھر پارلیمنٹ، سپریم کورٹ ،ہائی کورٹ سمیت کسی ادارے کی ضرورت نہیں رہے گی ، اس ملک اور قوم کی خاطر پوری طاقت اور کمٹمنٹ کے ساتھ ان کے لانگ مارچ کو روکیں گے ، ہمیں عمران خان کے سارے ارادوں کا پتہ ہے ، اتنظامی انتظامات کے علاوہ دو تجاویز سیاسی طور پر زیر بحث ہیں وقت آنے پر اس پر فیصلہ کیا جائے گا ۔

 

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بھول ہے کہ وہ بلا رکاوٹ اسلام آباد پہنچ جائےگا ، خیبر پختونخوا اور پنجاب حکومت کے رویئے کو بھی اس دوران دیکھیں گے اور انھیں آئین کے دائرہ میں لانے کی کوشش کریں گے جو آئین اور قانون سے بالا اقدام کریں گے ان کے خلاف آئین کے تحت کارروائی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے لانگ مارچ کے حربے کو ناکام بنانا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس میں سیف نیازی پیش نہیں ہورہے ہیں ، انھیں حفاظتی حراست میں لیا گیا ہے اگر ضروری ہوا تو باقاعدہ گرفتاری ڈال کر تفتیشی عمل آگے بڑھایا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم گفتگو آڈیو لیک کے بعد ضروری ہے کہ موثر سائبر سکیورٹی پروٹوکول کا تعین کیا جائے ، وزیراعظم آفس اور ہائوس سے لیکر تمام وز ارتوں تک ان پروٹوکولز کو لاگو کیا جائے ، اس حوالے سے ایک مفصل رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جارہی ہے، جیسے ہی وزیراعظم فیصلہ کریں گے اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا ۔

 

وزیراعظم سے متعلق آڈیو لیک بارے تحقیقاتی ٹیم حتمی مرحلے میں داخل ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض صحافی اور اینکر یہ بات کرتے ہیں کہ میں سخت بات کررہا ہوں ، ریڈزون میں احتجاج کی ممانعت ملک کا قانون کہتا ہے بلکہ عدالت عظمی او رعدالت عالیہ کے فیصلے بھی ہیں ، اگر پی ٹی آئی جمہوری انداز میں اجتجاج اور دھرنا دینا چاہتے ہیں تو ضلعی انتظامیہ کو درخواست دیں عدالت کے مقرر کردہ مقامات پر مکمل سکیورٹی دیں گے اگر وہ اسلام آباد پر قبضے کے لئے آنا چاہتے ہیں تو ہر قیمت پر انھیں روکیں گے ۔

 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹائون واقعہ بالکل الگ ہے ، ٹرائل کور ٹ سے سپریم کورٹ تک یہ لوگ گئے میرے خلاف کوئی چیز ثابت نہیں ہوسکی یہ لوگ صرف الزامات لگاتے ہیں۔ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ جب تک عمران خان کو بے نقاب نہیں کریں گے اس وقت تک مکمل علاج ممکن نہیں ہے، اس وقت گرفتاری سے زیادہ اہم عمران خان کو بے نقاب کرنا ہے ۔

 

تبصرے بند ہیں.