عمران خان اور لانگ مارچ

42

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ایک مرتبہ پھر لانگ مارچ کی دھمکی دے رہے ہیں، کہا جا رہا تھا کہ یہ لانگ مارچ سات اکتوبر تک ہونا تھا مگر یوں ہوا کہ سات دن کی دھمکی دینے والوں نے اپنے ٹوئیٹ ہی ڈیلیٹ کر دئیے۔ ٹوئیٹس پر کیا جائیں کہ وہاں تو یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلا س سے عمران خان ہی خطاب کریں گے مگر وہ ان دنوں بھائی پھیرو اور تلہ کنگ جیسی جگہوں سے ہی خطاب کرتے رہے، بہرحال نصیب اپنا اپنا۔ ابھی تازہ ترین خبریں ہیں کہ جناب عمران خان نے نئے لانگ مارچ کی تاریخ کو اپنے سینے سے لگا رکھا ہے ، یہ کہاں سے شروع ہو گا اور کب شروع ہو گا، اس بارے انہوں نے شاہ محمود قریشی کو بھی نہیں بتایا۔ کہنے والے ستم ظریف کہتے ہیں کہ بتانے والوں نے ابھی خود خان صاحب کو بھی نہیں بتایا تو وہ کیا بتائیں؟
ابھی تک کنفیوژن ہے کہ لانگ مارچ بھی ہوگا یا نہیں کیونکہ جس اسمبلی کو ختم کرنے کو خانصاحب نے لانگ مارچ کرنا ہے ان کے ارکان وہاں واپسی کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔ صورتحال یوں ہے کہ شکور شاد کے بعد وہ دس ارکان جن کے حلقوں میں ضمنی الیکشن ہورہے ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے ہیں کہ ان کے استعفوں کی منظور ی پر سپیکر قومی اسمبلی کو آئینی راستہ اختیار کرنے کے لئے کہا جائے۔ اب یہ آئینی راستہ وہی ہے جس پر ایک ناراض بہو جب گھر سے لڑ کے نکلی اور اسے کسی نے گھاس تک نہ ڈالی تو شام کو وہ ایک گائے کی دم پکڑ کے واپس آ گئی، بولی، میں تو نہیں آنا چاہتی تھی، یہ گائے مجھے کھینچ کے واپس لے آئی ہے۔ اس وقت خانصاحب کو عوامی حمایت کا خمار ضرورت سے زیادہ ہو رہا ہے۔ ایسی حالت اکثر سیاستدانوں کے لئے بہت سنگین ہوتی ہے ۔ دیکھنے کی ضرورت یہ ہے کہ جب انہیں ہر طرف سے حمایت حاصل تھی تو انہوں نے کیسا لانگ مارچ کر لیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے آزادی مارچ کے لئے چودہ اگست کاا نتخاب کیا تھا اور ان کا رخ زمان پارک سے مال روڈ کی طرف تھا۔ وہ بمشکل پچاس سے ساٹھ گاڑیوں کے ساتھ روانہ ہوئے تھے اور مال روڈ کے جشن آزادی کے روایتی رش کو اپنے لانگ مارچ کی طاقت قرار دے دیا تھا مگر رات کو اس وقت ایکسپوز ہو گئے جب راوی کے پل پر ان کی گاڑیاں پہنچیں، وہ کتنی تھیں، رہنے دیں، تعداد شرمناک تھی۔
ہمارے دوست کہتے ہیں کہ خانصاحب بہت بہاد ر ہیں اور وہ اسٹیبلشمنٹ کو ناکوں چنے چبوا سکتے ہیں مگر مجھے پھر ان کے پرانے والے لانگ مارچ پر ہی جانے دیجئے کہ یہ گوجرانوالہ پہنچے اور وہاں ان کا پھڈا نون لیگ کے پومی بٹ سے ہوگیا۔ پومی بٹ نے اتنے پتھر مارے کہ خانصاحب وہاں سے ایسے بھاگے جیسے بندوق سے نکلی گولی ہوں، میڈیا کوریج اٹھا کے دیکھ لیجئے کہ گوجرانوالہ کے بعد گکھڑ، وزیرآباد، کھاریاں، دینہ، جہلم، گوجر خان، روات تک نہ مارچ نظر آتا ہے نہ عمران خان۔ اس کے بعد یہ اسلام آباد کے قریب اس وقت ظاہر ہوئے جب انہیں پانی شانی پلایا گیا اور ہمت شمت دلائی گئی ۔ اس سے پہلے ججوں کی بحالی والے لانگ مارچ میں دیکھ لیجئے، کبھی چھپتے تھے کبھی دیواریں پھلانگ کے بھاگتے تھے۔ اب بھی حال یہ ہے کہ قابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری ہوتے ہیں تو یہ ملک بھر سے اپنے کارکنوں کو بلالیتے ہیں کہ آو مجھے بچاو۔ مجھے اس وقت وہ بلی یاد آجاتی ہے جو زمین گرم ہونے پراپنے ہی چھوٹے چھوٹے بچوں کو اپنے پیروں تلے دبا لیتی ہے۔ ابھی پچیس مئی کو بھی خانصاحب اور ان کے ساتھیوں کی بہادری ہم نے دیکھی تھی۔ بتی والے چوک پر لاہور ہی نہیں قصور، بھائی پھیرو اور شیخورہ تک سے جتنے وہاں پہنچے تھے وہ پیچھے گاڑیوں میں چھپ کے بیٹھے ہوئے لیڈروں سمیت ساڑھے تین سو تھے اور سامنے صرف ڈیڑھ سو۔فواد چوہدری کہتے ہیں کہ وہ بیس سے پچیس لاکھ افراد اسلام آباد لارہے ہیں مگر رانا ثناء اللہ کی زیر صدارت تمام ایجنسیوں کی رپورٹ ہے کہ یہ اس ممکنہ مارچ کے شرکا کی تعداد پندرہ سے بیس ہزار تک ہو سکتی ہے اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسلام آباد کے قریب تمام علاقوں پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان تک کی حکومتیں عمران خان کے پاس ہیں مگر میں اپنے بعض دوستوں کی اطلاعات پر کہہ سکتا ہوں کہ اگر پنجاب حکومت نے اسلام آباد کی چڑھائی میں معاونت کی تو وہ معاہدہ ختم ہوجائے گا جس کی بنیاد پر پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ بنے ہوئے ہیں، جان لیجئے، جلسے میں لڑکیوں کو دیکھنے آنے اور احتجاجی مارچ میں سیکورٹی ایجنسیوں کے سامنے آنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
کئی دوست کہتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف وہ سختی نہیں ہو رہی تو جو اس سے پہلے وزرائے اعظم کے خلاف روا رہی ہے تو میں انہیں ماضی قریب کی تاریخ میں لے جانا چاہتا ہوں کہ نواز شریف کو بھی موقع دیا گیا تھا کہ وہ جی ٹی روڈ پر اپنے تاریخ ساز اجتماعات کے ذریعے تالیف قلب کا سامان کر لیں۔ اس سے کچھ پہلے جب عمران خان صاحب کو لانے کی پوری تیاری تھی تو اس دوران بھی ان کی ایک پوری وزارت عظمیٰ کا انتظار کیا گیا تھا بلکہ جب وہ عہدے سے ہٹ گئے تو اس کے بعد شاہد خاقان عباسی کی مدت بھی انتظار ہی کی تھی سو اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ عمران خا ن کے اقتدار سے ہٹنے کے چھ ماہ میں ہی ان کے خلاف کوئی بہت بڑا اقدام ہوچکا ہوتا تو وہ پاکستان کی سیاست کی تاریخ اوراس کی حرکیات کو سمجھنے میں غلطی کرتا ہے۔ عمران خان سمجھ رہے ہیں کہ وہ مفاہمت کے پیغامات دے رہے ہیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ وہ غلطی پر غلطی کرتے چلے جا رہے ہیں۔ تھوڑے کہے کو زیادہ جانیں کہ اگر عمران خان کی بطور وزیراعظم باتیں ریکارڈ ہوسکتی ہیں، سامنے آ سکتی ہیں تو اب تو وہ ایک عام سیاستدان کے طور پر زیادہ کمزور حیثیت میں ہیں۔ میری اطلاعات کے مطابق وہ نجی محفلوں میں جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بہت خوفناک ہے، اس سے کہیں زیادہ خوفناک جو وہ آن دی ریکارڈ کہتے اور کرتے ہیں مگر ان کا المیہ یہی ہے کہ وہ ہر بڑے سیاستدان کی طرح خود کو عقل کل سمجھتے ہیں۔ایسے میں اگر وہ لانگ مارچ کا جوا کھیلنا چاہتے ہیں تواپنے رسک پر ہی کھیلیں گے، اب انہیں کوئی اٹھانے، بٹھانے اور لڑانے والا نہیں ہوگا۔وہ سمجھتے ہیں کہ کسی عوامی طاقت کے مظاہرے سے وہ حکومت اور فیصلہ ساز اداروں کو جھکا سکتے ہیں، ڈرا سکتے ہیں تو ان کے سامنے پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ موجود ہے، بہرحال، وہ لانگ مارچ کر کے دیکھ لیں مگر خیال رکھیں کہ اگر وہ اپنے بچوں کو لندن میں رکھ کے دوسروں کے بچوں کو مروانا چاہیں گے تو اس کی اجازت انہیں کوئی نہیں دے گا،بہت ہو گیا،بچے سب کے ایک جیسے ہوتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.