اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری منسوخ

46

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماءاور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دئیے ہیں۔ 
تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کیس کی سماعت کی جس دوران وزیر خزانہ اپنے وکیل کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت اسحاق ڈارکے وکیل نے وارنٹ مستقل طور پر منسوخ کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار کی جائیداد ضبطگی کا آرڈر بھی ختم کیا جائے کیوکہ عدالت نے صرف اسحاق ڈار کی حاضری کیلئے وارنٹ جاری کئے تھے اور وہ اب عدالت کے سامنے موجود ہیں۔
جج نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے خود بھی اسحاق ڈار کے کوئی وارنٹ جاری کئے تھے؟ تو تفتیشی افسر نے بتایا کہ نیب کے جاری کردہ وارنٹ معطل ہو گئے تھے۔ اس پر جج نے استفسار کیا کہ آپ کا کیا موقف ہے، وارنٹ منسوخ کئے جائیں یا نہیں؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے بھی وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی حمایت کر دی۔ 
عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیئے اور انہیں 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریمارکس دئیے کہ ضمنی ریفرنس بھی آیا ہوا ہے اس کے تحت دوبارہ فرد جرم عائد ہونی ہے جس پر اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ اس پر ہم دلائل دیں گے، ضمنی ریفرنس بنتا نہیں۔ 
اس کے علاوہ اسحاق ڈار کی جانب سے جائیداد ضبطگی کے خلاف اور حاضری سے مستقل استثنیٰ کی درخواست بھی دائر کی گئی جس پر عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 12 اکتوبر تک جواب طلب کر لیا اور سماعت آئندہ بدھ تک ملتوی کر دی۔ 

تبصرے بند ہیں.