جنگل کا قانون

15

آئین پاکستان وہ مستند دستاویز ہے جس میں بلا امتیاز ہر شہری کے بنیادی حقوق رقم ہیں، ان میں جان، مال، عزت آبرو کی حفاظت سر فہرست ہے،اس کے علاوہ شہری آزادیوں کا درجہ آتا ہے،جن نامورافراد نے تدوین آئین کا فریضہ انجام دیا انھوں نے اس قوم پر بڑا احسان کیا ہے، اس میں تمام ریاستی اداروں کے فرائض بھی لکھے ہوئے ہیں، انکی محنت شاقہ کا مقصد بھی یہی تھا کہ اس کے سائے تلے نہ صرف قوم متحد رہے گی، بلکہ اسے وہ تمام حقوق بھی میسر ہوں گے جو درج کر دیئے گئے۔
تاہم سیاسی قائدین جو اس قومی خدمت پر مامور تھے انکی حیاتی ہی میں اس وقت یہ حقوق سلب کر دیئے گئے جب پہلا مارشل لاء نافذ ہوا، اگرچہ حقوق معطل رہے مگر ارض پاک میں امن و امان کی صورت حال بہتر رہی، جس سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ کتابی معاشرہ محض قوانین کا محتاج نہیں ہوتا اس کا تعلق اچھی گوورننس سے ہے۔
کہاجاتا ہے کہ ضیاء الحق کے دور میں لاہور سے ایک بچہ کا اغوا ہواجسے بعد ازاں قتل کر دیا گیا، اس وقت کی سرکار نے اس کیس کو اپنے لئے ٹسٹ کیس بنا لیا، اغوا کاروں کو ڈھونڈ نکالا اور پھر سر عام سولی پر لٹکا دیا، اس پر چند نام نہاد عالمی تنظیموں نے دبے الفاظ میں ردعمل دیا مگر طویل عرصہ تک بچوں کے اغوا کی دوبارہ کوئی وادات نہ ہوئی، اس دور میں سر عام پھانسیاں دینے کا کام شروع ہوا تو جرائم کی شرح نچلی سطح تک آگئی تھی، لیکن گذشتہ تین سالوں کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں امن و امان کی حالت انتہائی مخدوش ہے،لاہور میں جرائم کے سالانہ واقعات کی رپورٹ کے مطابق 2020 میں 120,000 اور 2021میں225,000 اور رواں سال کے پہلے چار مہینوں میں80,000 سے زائد کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔یہ صرف ایک شہر کے اعدادو شمار ہیں۔
یہ چشم کشا ہندسے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم کسی مہذب معاشرے کے باسی نہیں ہے، بڑے شہرکے حقائق بتاتے ہیں کہ جرائم کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ اداروں کے سامنے ایک سوالیہ نشان ہے۔ کئی سالوں سے ’’سیف سٹی ‘‘ محفوظ شہر بنانے کی گردان ارباب اختیار کی جانب سے تاحال جاری و ساری ہے، مگراس وقت کوئی بھی بڑا شہر جرائم پیشہ افراد سے محفوظ نہیں ہے، سٹریٹ کرائم ہر شہری کے لئے ذہنی اذیت کا باعث ہے۔ اب تو چھوٹے شہر اور قصبہ جات بھی اس جرم کی زد میں ہیں۔المیہ یہ ہے کہ کراچی شہر میں ستر سے زائد افراد تشدد اور قتل کے نتیجہ میں ہلاک ہوئے جو سٹریٹ کرائم کے دوران کیا گیا۔
شہری نہ تو گھر میں محفوظ ہیں نہ ہی باہر،80 کی دہائی سے بڑے گینگ کے خلاف کاروائیوں کا سنتے چلے آرہے ہیں،ان کا وجود اس بات کی شہادت ہے کہ جرم بچے جن رہا ہے، مگر عدل صاحب اولاد نہیں ہوا ہے، ڈاکو مافیاز کے حوصلے اس قدر بلند ہیں کہ وہ ڈکیتی بھی کرتے ہیں اور شرفاء کی خواتین سے دست درازی بھی، اگر کوئی اس فعل کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لے تو بندوق کے سامنے رکھ کر اہل خانہ کے سامنے ڈھیر کر دیتے ہیں وہ بے بسی کے عالم میں سارا منظر دیکھ کر چپ سادھ لیتے ہیں۔ بعض سماجی ماہرین جرائم کی وجہ بے روزگاری، غربت کو گردانتے ہیں، لیکن پچھلے دنوں وفاقی دارالحکومت میں ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والے ا فراد میں سے ایک نے اپنی زوجہ اور دوسرے نے اپنی دوست کو بڑی بے دردی سے قتل کر دیا، انھیں کوئی معاشی مسئلہ بھی درپیش نہ تھا، دنیا کی تمام آسائشوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے، اقتدار اور طاقت کے نشہ اور دولت کے گھمنڈ میں قتل وغارت کی بھینٹ ہمیشہ کمزور افراد یاخاندان ہی چڑھتے ہیں، اب تک شواہد بتاتے ہیں کہ قانون میں اس قدر سقم ہے کہ امیر کی دولت، بڑے کا اقتدارعدالتی نظام کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے اور اس طرح کے مجرم شک کا فائدہ ملتے ہی باعزت بری ہو جاتے ہیں۔
جرم کی دنیا میں ایک طبقہ وہ بھی ہے جو محض شک کی بنیاد پر پکڑا جاتا ہے، اسکی آدھی حیاتی اپنی بے گناہی ثابت کرتے کرتے گذ ر جاتی ہے یہ وہ دو انتہائیں ہیں جن کے درمیان ہماری عدلیہ انصاف کی فراہمی کا سفر طے کرتی ہے۔ اگر عدلیہ کو مورد الزام ٹھرایا جائے تو خود کو اس لئے بری الذمہ کہتی ہے کہ تفتیش کا سارا نظام تو محکمہ پولیس کی دسترس میں ہے، ہمیں تو شہادتوں کی بنیاد پر ہی مقدمہ کا فیصلہ کر نا ہے، کچھ ذمہ دار کہتے ہیں کہ بڑے جرائم پیشہ افراد کے خلاف گواہی دینے کا کوئی رسک ہی نہیں لیتا، اپنی زندگی کس کو پیاری نہیں، یہی وہ کمزور قانونی پہلو ہے جس نے طاقت ور مجرموں کو انڈر ہینڈ گروہ نبانے میں خاصی مدد دی ہے۔ پولیس کے پرَ ہمیشہ اس مقام پر جلتے ہیں جہاں سیاسی مداخلت ہوتی ہے، ان بیچاروں کو نہ چاہتے ہوئے بھی سنگین مجرموں کو بحفاظت چھوڑنا پڑتا ہے۔ورنہ کسی نہ شکل میں سزا انکی منتظر رہتی ہے۔
یہ سیاسی لوگ ذرا ’’وکھری ٹائپ‘‘ کے ہیں ایک طرف مجرموں کی پشت پناہی کرتے ہیں دوسری طرف ڈاکوئوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کے جنازوں کو کندھا بھی دیتے ہیں، اگر گھرانہ سندھ کے جوکھیوں کا ہو تو صلح کرنے میں بھی دیر نہیں کرتے۔ سماج کے طاقت ور طبقہ کو بدیشی قانون ہی سوٹ کرتا ہے ،اسکی ناک وہ موم کی مانند جدھر چاہتے ہیں موڑ کر اپنا مفاد لیتے ہیں، جرائم کے خاتمہ کے لئے اگر کوئی اسلامی سزائوں کا مطالبہ کرے تو وہ ان کے نزدیک ظالمانہ کہلاتی ہیں،کاش !خود کو اس خاندان کی جگہ رکھ کر فیصلہ کریں جن کی جمع پونجی ڈاکو گھر میںداخل ہو کر لوٹ لیں، انکی عزت پر بھی حملہ آور ہوں اور خاندان کا اکلوتا بیٹا مزاحمت پر قتل ہو جائے تو اہل خانہ پر کیا بیتے گی، محض ووٹ لینے اور اپنے مقاصد کے لئے جرائم پیشہ افراد کی سر پرستی کرنا کونسی انسانیت ہے۔
اب تو بڑی وارداتیں ایلیٹ کلاس کی کالونیوں میں بھی ہو رہی ہیں، بھاری بھر ٹیکس دینے کے باوجود عوام کو اپنی حفاظت کے لئے سیکورٹی کا انتظام خود کرنا پڑتا ہے، پھر وہ حقوق کہاں دفن ہیں جو آئین میں رقم ہیں۔ ایک طرف معاشی وسائل کی منصفانہ تقسیم تو دوسری جانب اسلامی سزائوں کا عملی طور پر نفاذ ہی جرائم پیشہ افراد کو جرم سے باز رکھ سکتا ہے۔جنگل کے اس قانون کی بدولت بہت سے صاحب ثروت افراد اس ملک کو خیر آباد کہہ کر بیرونی ملک مستقل آباد ہو گئے ہیں، مایوسی کے عالم میں یہ ہجرت کسی کرب سے کم نہیں ہے۔عوام کی اخلاقی تربیت کے ساتھ سخت اسلامی سزائیں ہی جرائم کے عذاب کو کم کر سکتی ہیں۔
جس طرح ’’میثاق معیشت‘‘ وقت کی ضرورت ہے اسی طرح قانون کی حکمرانی بھی اس عہد کی صدا ہے، لیکن اس کا راستہ پولیس کے کام میں عدم مداخلت اور بلا امتیاز انصاف کی فراہمی سے ہو کر گزرتا ہے، جب تلک ملک میں امن وامان کی صورت حال قابل رشک نہیں ہوگی، بیرونی سرمایہ کاری کے اہداف طے نہ ہو سکیں گے۔
جنگل کے اس قانون میں تبدیلی لازم میں ہے، جس کا ایندھن صرف سماج کا غریب اور لاچار طبقہ ہی بن رہا ہے، بااثر افراد اب بھی جیل اور گھر میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے، اس قماش کے لوگ ہی جرائم پیشہ افراد سر پر دست شفقت رکھتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.