”سموگ ……ہاسپٹل ویسٹ او رماحولیات

7

آنے والے دنوں اور چند ہفتوں میں سموگ کا مسئلہ درپیش ہوسکتا ہے- سموگ سے آشوب چشم اور سانس لینے میں دشواری جیسا مسئلہ ہو جاتا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ سموگ کی وجہ فصلوں کی باقیات کو جلایا جانا ہے-گزشتہ برسوں  میں سموگ کی شدت میں بتدریج اضافہ ریکارڈ ہورہا ہے – ماحولیات اور موسم تبدیل ہورہے ہیں – دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی صنعتی ترقی ہوئی ہے وہاں فی کس آمدنی میں اضافہ اور معیار زندگی بہتر ہوا ہے لیکن ہم انسان بھی بہت ”بھولے بادشاہ“ ثابت ہوئے ہیں – ہمیشہ فوری فائدے کے حصول کے لئے جو راستہ سجھائی دیتا ہے اسی پر چل پڑتے ہیں – تاریخ خواہ ہے کہ صنعتی انقلابات کے نتیجے میں  انسان نے قرتی وسائل کو نا صرف بے دریغ استعمال کیا بلکہ بہت آلودہ بھی کیا ہے – گزشتہ ایک سو برس قبل جو بیماریاں انسانی جسم میں نہیں دیکھنے میں آتی تھیں اب نت نئی بیماریاں پانی، ہوا، خوراک اور آلودہ ماحول کے باعث جنم لے رہی ہیں جس طرح سگریٹ پینے والا تو اپنی لت کی وجہ سے سگریٹ پیتا ہے بلکہ اس کے آس پاس کے افراد جو سگریٹ نوشی نہیں کرتے لیکن پھر بھی سگریٹ نوش کا چھوڑا ہوا دھواں اپنے پھیپھڑوں میں ہوا کے ذریعے لے جانے پر مجبور ہوتے ہیں اسی طرح بڑے اور امیر ممالک کی کمپنیاں اپنا کاروبار تو امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس اور جرمنی یا پھر جاپان سے کررہی ہوتی ہیں مگر ان کمپنیوں  کے پیداواری یونٹ ایشیائی یا غریب افریقی ممالک میں لگائے جاتے ہیں – اس عمل کی ایک خاص وجہ ہے کیونکہ ان ممالک نے جب دیکھا کہ صنعتی پیداواری یونٹس سے خارج ہونے والے زہریلے اور ماحول دشمن دھویں اورزمین و فضا میں سرایت کرنے والے زہریلے اور انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر مادے اور ذرات کی صورت میں تباہی ہوتی ہے اور اس کی بہت بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے لہذا ”سیانے“ ملکوں ن ے اس کا حل یہ نکالا کہ ایسے ممالک میں پیداواری یونٹ لگانا شروع کردیئے جہاں  پر لیبر سستی اور آسانی سے میسر ہو جاتی ہے جبکہ اپنے شہروں اور ملکوں کی آب و ہوا بھی آلودگی کا شکار نہیں ہوتی وہ کیا کہتے ہیں کہ ”ہنگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے“ یعنی اپنا ملک اور اپنے لوگوں کی صحت پر بھی مضر اثرات مرتب نہیں  ہوتے اور اپنی مرضی کی Finishedپراڈکٹ بھی بیچنے اور منافع کمانے کے لئے تیار ہو جاتی ہے- آج کی دنیا رقبے کے لحاظ سے یا وسائل سے مالا مال ہونے کے دعوؤں کے زمانے کی دنیا نہیں رہی- آج دنیا بھر میں اپنے مفادات کی حفاظت کے لئے تعلیم کی شرح سو فیصد کرکے سو فیصد”سمارٹ گیم“کی دنیا ہے- جاپان اس کی ایک اعلی مثال ہوسکتی ہے اپنے شہریوں کو اپنی زبان میں تعلیم دے کر جاپان نے حیرت انگیز ترقی حاصل کی ہے- کامرس، انڈسٹری، میڈیکل غرضیکہ زندگی کے ہر شعبے میں قابل قدر ترقی کے لئے جاپان کے پاس کوئی قابل ذکر ہموار رقبہ بھی نہیں ہے بلکہ آتش فشانی جزیرے ہیں -جاپان سے لوہا نہیں نکلتا لیکن دوسرے ممالک سے لوہا درآمد کرکے جاپان نے آٹو انڈسٹری کو اس کی معراج پر پہنچا دیا ہے- جاپانیوں نے ا پنے ملک کو ایک برانڈ بنا دیا ہے-میڈان جاپان کسی بھی گاڑی یا شے پر اگر دج ہو تو دنیا بھر میں اسے ایک معیاری شے تصور کیا جتا ہے- اسی طرح بہت سے ممالک کی مثال دی جاسکتی ہے جہاں سے کوئی چیز بطور معدنیات تو نہیں حاصل ہوتی لیکن وہ دوسرے ممالک سے درآمد کرکے اپنے ملک کا نام اور برانڈ بننا کر دنیا بھر میں بیچتے ہیں اور برآمد کنندہ مالک کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی- ایک سادہ سی مثال اس کی یہ ہے کہ بھارت نمک پیک کرکے پوری دنیا میں پک ہمالین سالٹ کے نام سے مارکیٹ کررہا ہے کیا ہم آپ جانت ہیں بھارت یہ نمک کس ملک سے درآمد کرکے دنیا بھر میں بیچ رہا ہے؟ جی ہاں اس ملک کا نام ہے ”پاکستان“ جی ہاں 22کروڑ سے زائد محب وطن پاکستانیوں کے پیارے پاکستان سے پیار کرنے والوں میں سے کوئی بھی ایکسپورٹر ایسا نہیں جو دنیا میں اس بات کو واضح کرسکے اور اپنے ملک سے کوڑیوں کے بھاؤ ملنے والے نمک کو عالمی مارکیٹ میں اچھے داموں فروخت کرکے نا صرف بھاری زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے بلکہ پاکستان کو مثبت طریقے سے متعارف کروانے میں مدد مل سکتی ہے-دوسری پراڈکٹ باسمتی چاول ہیں جو بڑی مقدار میں پاکستان سے امپورٹ کیا جاتا ہے اور براستہ یو اے ای پوری دنیا میں بھارتی چاول کے طور پر پیش کیا جاتا ہے- ایسے عقلمند کے چھوٹے چھوٹے کام پاکستان کی معیشت میں ایک بڑا کردار ادا کرسکتے ہیں – اسی طرح سموگ جیسے چیلنج سے نمٹنے کے لئے ہمیں نا صرف فصلوں کی باقیات جلانے سے رکنے کے اقدامات اٹھانے چاہئیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بڑے شہروں میں واقع ہسپتالوں کے فضلہ یا استعمال شدہ سرنجوں اور خون کی بوتلوں و دیگر ویسٹ آئٹمز کو ٹھکانے لگانے کے لئے ایس او پیز کے مطابق عملدرآمد کروانے کی ضرورت ہے کیونکہ ہسپتالوں سے اٹھایا گیا طبی کوڑا یا ہسپتال کی ویسٹ کو ٹھکانے لگانے کی بجائے شہروں کے گردو نواح میں موجود کھلی جگہوں پر لے جا کر یا تو اس پلاسٹک کو ری سائیکل کرلیا جاتا ہے یا پھر دوبارہ سے اس پلاسٹک سے بچوں کے کھلونے، فیڈر اور برتن وغیرہ بنا کر بیچ دیئے جاتے ہیں  جبکہ ہاسپٹلز کی ویسٹ انتہائی خطرناک قرار دی جاتی ہے لیکن وطن عزیز میں ارباب اختیار کو اس جانب بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں میں ٹی بی، یرقان، جلدی امراض اور ایسی خطرناک بیماریاں نہ پھیل سکیں – اس سے نا صرف مزید لوگ بیماریوں میں مبتلا ہونے سے بچ سکیں گے بلکہ یہ خطرناک ہاسپیٹلز ویسٹ کو جب پلاسٹک کے حصول کے لئے صاف نلکے کے پانی سے دھویا جاتا ہے تو وہ پانی زمین میں بھی سرایت کرجاتا ہے جس سے زیر زمین پانی کے ذخائر بھی ان علاقوں میں ناقابل استعمال ہو جاتے ہیں کیونکہ اس کوڑے میں موجود مختلف بیماریوں کے جراثیم اور ادویاتی کیمیکلز بھی زیر زمین پانی میں شامل ہو کر انسانی زندگی کے لئے خطرہ بن جاتا ہے ہیں – ان گوداموں اور کارخانوں میں کام کرنے والے ورکرز بھی ذاتی جفاظت کا شعور و آگاہی نہ ہونے کے باعث آہستگی سے مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں جسے بعد ازاں ان کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے-ضرورت اس امر کی ہے کہ اس دھندے کی روک تھام کے لئے حکومت اقدامات کرتی رہتی ہے اور اس کے تدارک کے لئے کوشش کرتی رہتی ہے لیکن چند کالی بھیڑیں اس کاروبار میں بلا ہی بالا شامل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے آبی آلودگی اور مختلف بیماریاں پھیلتی ہیں – محکمہ ماحولیات کی کارکردگی بھی اس سلسلے میں ہمیشہ شاندار رہی ہے لیکن پھر بھی مزید کام اس سیکٹر میں کئے جانے کی گنجائش باقی ہے تاکہ پاکستان ان آلائشات سے پاک ایک آزاد آب و ہوا والا ملک بن جائے اور اس کے شہری بھی ایک صاف ستھری فضا میں سانس لے سکیں۔

تبصرے بند ہیں.