یہ روزِ کن سے بھی پہلے زمانے کی کہانی ہے

32

"میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، مجھے چاہت ہوئی کہ میں پہچانا جاؤں، پس میں نے خلق کو تخلیق کیا” یہ ایک معروف حدیثِ قدسی کے الفاظ ہیں۔ تاریخِ فکرِ انسانی میں غایتِ تخلیقِ کائنات کی بابت یہ پہلا کلام ہے جو حضرتِ انسان کو میسر آیا ہے۔ اس میں خالقِ کائنات نے خود وجہ تخلیق بیان کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ خالقِ کائنات نے خود کو کنزِمخفی، گنجِ مخفی، چھپا ہوا خزانہ کیوں کہا؟ دراصل کسی چیز کی قدر و قیمت اس کے پہچان لیے جانے میں ہے۔ قدر بقدرِ طلب ہوتی ہے اور طلب بقدرِ عرفان۔ جوہر کی قدر جوہری جانتا ہے، عارف کی قدر عارف اور درویش کی قدر ایک درویش ہی پہچانتا ہے۔ چھپے ہوئے خزانے کو مخفی رکھنے کا ایک انتظام یہ بھی کیا گیا کہ اسے اتنا ظاہر کر دیا گیا کہ عوام کی نظر چندھیا گئی، وہ ظاہر کی روشنی میں گم ہوگئی اور باطن پھر مخفی کا مخفی رہا۔ باطن صرف اپنے طالب پر عیاں ہو گا — بقدرِ طلب، بمطابقِ اخلاص اور بمعیارِ ایمان ظاہر ہوگا۔
عالمِ ظاہر میں ہر مقدمہ گواہوں پر کھڑا ہوتا ہے، گواہ اگر قائم نہ رہے تو مقدمہ کمزور ہو جاتا ہے، گواہ اگر مر جائے تو مقدمہ بھی گویا اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ گواہی کے باب میں یہ بات سند ہے کہ گواہ ہمیشہ صادق اور امین ہونا چاہیے، بے عیب اور بلند کردار کا حامل ہونا چاہیے— گواہ ایسا ہونا چاہیے کہ اس کی صداقت اور دیانت پر اپنے کیا اور غیر کیا سب آنکھ بند کر کے گواہی دے سکیں۔ گواہی کے باب میں یہ بھی درج ہے کہ گواہ عینی گواہ ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے زبانی کلامی گواہی اس درجہِ استناد تک نہیں پہنچ سکتی جس درجہ پر عینی گواہی ہوتی ہے۔ گویا یہاں شاہد عینی شاہد ہوگا۔
بابِ علمِ توحید و عرفان میں اگرچہ شاہد و مشہود دونوں کی اصل ایک ہے لیکن اپنے اظہار کے لیے انہیں ایک پردہ درکار ہوتا ہے۔ یہ پردہ حجاب بھی ہے اور مقامِ اعراف بھی— یعنی کچھ کے لیے حجاب اور کچھ کے لیے رابطہ، واسطہ اور وسیلہ!! اس پردے کو پردۂ میم کہیں یا رسالت— ایک ہی بات ہے۔ اپنا اپنا مقامِ تفہیم ہے۔ عرفاء اسے پردۂ میم کہتے ہیں اور فقہائے اْمت اسے پردۂ رسالت!! وحدت الوجود کا مشاہدہ کرنے والوں نے، بحرِ توحید کے شناوروں نے اسے برزخِ کبریٰ کہا، تعینِ اوّل جانا —یعنی عالمِ تعین
میں مراتبِ وجود کا ظہورِ اوّل سمجھا۔ احدیت کے بعد یہ پہلا مرتبہ ہے جو مرتبہ واحدیت کہلاتا ہے۔ عارفانِ نْورِ محمدیؐ اس مرتبہِ وجود کو حقیتِ محمدیہؐ کے طور پر مانتے، جانتے اور پہچانتے ہیں۔
توحید پر رسالت شاہد ہے اور رسالت پر ولایت! گواہ پر گواہ اس طرح کھڑا ہے کہ مقدمہ معرفت ابھی تک قائم ودائم ہے۔ توحید پر رسالت اور رسالت پر توحید گواہ ہو تو بھی دونوں حقیقتوں کو عالمِ ظاہر میں ظہور کرنے کے لیے انہیں ایک تیسرا گواہ درکار ہے۔ آیت مبارکہ (قُل کفیٰ باللہ ِبینی و بینکم شھیداً) گواہ ہے کہ ایک گواہ ایسا ہے جو دونوں حقائقِ کبریٰ پر گواہ ہے۔ آئینے کا برزخ لازم ہے، وگرنہ اصل اور عکس کے درمیان تفریق ممکن نہ ہوتی۔ یہ آئینہ یا میڈیم ولایتِ کبریٰ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ولایت کا سلسلہ جاری و ساری ہے — ہر دور میں سچے گواہ، عینی گواہ موجود رہے ہیں اور تاقیامت موجود رہیں گے، اس لیے مقدمہ معرفت کمزور نہ ہو پائے گا۔ اِس نے اْس کو دیکھا، پھر اْس نے اْس کو دیکھا، اور بالوجود دیکھا— یہ سلسلہ در سلسلہ ہے۔ سلاسل کی اہمیت گواہ سے گواہ ملانے کی بات ہے۔ کہی سنی باتیں، خواب اور خیال کی باتیں حقائق کے میدان میں ہوا ہو جاتی ہیں۔ اولیائے امتِ محمدیؐ کو وجودِ محمدیؐ کی زیارت بالوجود ہوتی ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے  ہیں:
میں منّیا نال یقین دے
میں ویکھیا اکّھاں نال
اوہدے ہتھ کھنڈی یٰسین دی
اوہدے گھنگھر والے وال
آج بھی اولیائے عظام کی خانقاہوں میں مقاماتِ مشاہدہ وجودِ محمدیؐ موجود ہیں — پاکپتن میں بابا فریدالدین گنج شکرؒ اور لاہور میں حضرت مادھو لال حسینؒ کے مزاراتِ عالیہ میں سرکارِ دو عالم کی بالوجود تشریف آوری کے نشانات صدیوں سے محفوظ ہیں۔
جب روایت سینہ بہ سینہ اور راوی در راوی محفوظ ہو سکتی ہے تو جلوہ چہرہ بہ چہرہ کیسے محفوظ نہ ہو گا؟ مرشدی حضرت واصف علی واصف کا ایک نعتیہ شعر ہے:
جس آنکھ نے دیکھا تجھے اس آنکھ کو دیکھوں
ہے اس کے سوا کیا ترے دیدار کی صورت
بہرطور حدیثِ قدسی کی طرف واپس چلتے ہیں اور اسے مزید سمجھنے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں۔ اگر دل مقامِ تسلیم پر ہو تو عقل عقلِ سلیم بن جاتی ہے اور نْورِ عقل کہلاتی ہے۔ عقل جب  رفاقت کی بجائے رقابت میں اْترتی ہے تو نْور سے نکل کر ظلمت میں داخل ہوجاتی ہے، لطافت کی بجائے کثافت میں جگہ پاتی ہے اور معاونت کی جگہ مخاصمت کے منصب پر براجمان ہو جاتی ہے۔
مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ نے فرمایا تھا” خالق اتنا مخفی ہے کہ ہر ظاہر اس کا اپنا ہے اور وہ اتنا ظاہر ہے کہ ہر مخفی اس کا اپنا ہے” جیسا پہلے بیان کیا گیا ہے کہ خزانے کو چھپانے کا ایک پْرپیچ و پْرکیف طریق یہ بھی ہے کہ اسے سرِراہ چھوڑ دیا جائے، اور جا بجا چھوڑ دیا جائے۔ غافل اسے دیکھنے کے باوجود آنکھ بند کر کے گزر جائے گا۔ وہ اسباب کے جہان میں الجھ کر رہ جائے گا،اس کے شعور کا سورج  صفات کی دنیا میں طلوع ہو کر صفات ہی کی دنیا میں غروب ہو جائے گا۔ دوسری طرف صاحبانِ ہوش و گوش ہر آن متوجہ ہوتے ہیں، انکے لیے کوئی واقعہ عام نہیں ہوتا، ان کے لیے احساس کا در وا کر دیا جاتا ہے، ان کے لیے کوئی واقعہ عمومی نہیں ہوتا، کوئی فرد عام نہیں رہتا، یہی زندگی ان کے لیے مقامِ مشاہدہ بن جاتی ہے۔ وہ ہر طرف حسن دیکھتے ہیں اور خوب دیکھتے ہیں —مجاز اور حقیقت میں، عین اور غین میں ان کے ہاں کچھ فرق نہیں رہتا!! کْن کے بعد کا منظر بقدرِ ہمت و ظرف ہر کوئی دیکھ سکتا ہے— لیکن اْن کے لیے فضائے ورائے کْن بھی کھول دی جاتی ہے۔ عارفانِ الٰہی درحقیقت عارفانِ نورِ محمدیؐ ہوتے ہیں۔ وہ حقیقتِ مطلق کو بالواسطہ دیکھتے ہیں اور پھر اس مشاہدے کے کارن خود ایک واسطہ بن جاتے ہیں۔حقیقتِ محمدیہؐ کے عارف جب ربیع الاول کے موقع پر سرکارِ دوعالمؐ کی آمد کا ذکر کرتے ہیں تو اْن کی نظر صرف تاریخ کے چودہ سو برس تک محدود نہیں رہتی بلکہ روزِ کْن سے ورا انکشافِ رازِ کائنات اور وجہ تخلیقِ کائنات پر مرکوز ہو جاتی ہے— وہ دیکھتے ہیں کہ ہر جہاں میں وہی ایک جلوہ کارفرما ہے— وہ نْورِ محمدیؐ کا مشاہدہ کرتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں:
یہ روزِ کْن سے بھی پہلے زمانے کی کہانی ہے
دو عالم میں محمدؐ کا نہ تھا ثانی، نہ ثانی ہے
فنا زیرِ قدم، اْن کی بقا پر حکمرانی ہے
محمدؐ کے غلاموں تک کی ہستی جاودانی ہے
سراپا عشقِ حق بن کر حسینوں کے حسیں آئے
مبارک ہر جہاں کو رحمۃ للعالمینؐ آئے

تبصرے بند ہیں.