بین الاقوامی سطح پر قومی زبان اردو کی شناخت کا مسئلہ

8

کسی بھی زبان کو اپنی پہچان کروانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس زبان کا اپنا رسم الخط اور مناسب تعداد میں اپنا لٹریچر موجود ہو۔ پاکستان کے طول و عرض میں درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے بہت سی ایسی ہیں جن کا اپنا رسم الخط اب موجود نہیں ہے اور ان کا لٹریچر بھی مناسب تعداد میں اب دستیاب نہیں ہے۔ بہت سے لسانی ماہرین کے مطابق زبان کی تعریف میں مختلف بولیاں یا مختلف لہجے نہیں آتے جبکہ ہمارے ہاں مختلف بولیوں یا لہجوں کو بھی اکثر زبان کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ زبان کے لیے بولی اور لہجے کی بحث سے ہٹتے ہوئے دیکھا جائے تو مختلف روایات کے مطابق ہمارے ہاں 70 سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں 35 کے قریب نسبتاً زیادہ جانی پہچانی ہیں جبکہ علامہ اقبا ل اوپن یونیورسٹی میں مقامی یا علاقائی زبانوں کا ایک شعبہ قائم ہے جسے پاکستانی زبانوں کا شعبہ کہا جاتا ہے۔ اس شعبے کے تحت تقریباً 18 پاکستانی مادری، مقامی اور علاقائی زبانوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔ پاکستان کی مادری، علاقائی یا مقامی زبانوں اور قومی زبان اردو کے باہمی تعلق کے حوالے سے مختلف جامعات اور سکالرز کے تحقیقی کام موجود ہیں۔ انہی میں ایک نمایاں اور اہم کام مقتدرہ قومی زبان کے تحت شائع ہونے والی پانچ تحقیقی کتابوں کی سیریز ”پاکستان میں اردو“ بھی ہے۔ پاکستان میں اردو سیریز کے تحت چاروں صوبوں اور کشمیر میں وہاں کی مادری زبانوں اور قومی زبان اردو کے باہمی رشتوں پر جدید و قدیم اہم محققین کے مقالہ جات شامل کئے گئے ہیں۔ ان تحقیقی کتابوں کی پہلی جلد سندھ، دوسری
بلوچستان، تیسری خیبرپختونخوا و شمالی علاقہ جات، چوتھی پنجاب اور پانچویں کشمیر کے حوالے سے ہے۔ پاکستان میں اردو سیریز کی تحقیقی کتابیں پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ مقامی یا علاقائی زبانوں کا اردو کے ساتھ حمایت اور دوستی کا صدیوں پرانا گہرا رشتہ ہے۔ پاکستان کی سب زبانیں اردو کے لیے مددگار اور معاون ثابت ہوئی ہیں یعنی قومی زبان اردو اور پاکستان کی مقامی یا علاقائی زبانوں کا باہمی تعلق عین فطری ہے۔ پاکستان کی مادری یا علاقائی زبانوں نے اپنے رسم الخط میں بھی کسی حد تک اردو رسم الخط کو ہی اپنا لیا ہے۔ گویا پاکستان کی مادری، علاقائی یا مقامی زبانوں کو قومی زبان اردو سے علیحدہ کرنا فطری عمل میں خلل ڈالنے کے مترادف ہوسکتا ہے۔ اسی لیے شاید علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ملک کی مادری، علاقائی یا مقامی زبانوں کو پاکستانی زبانوں کا نام دیا گیا ہے۔ ایک ملک کی ایک قومی زبان کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک کی قومی زبانوں کی تعداد کا جاننا ضروری ہے۔ دنیا کے تمام اہم ممالک سمیت بیشتر ممالک میں ایک ہی زبان قومی زبان کا سرکاری درجہ رکھتی ہے۔ ان ممالک میں بعض ایسے بھی ہیں جہاں ایک سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن حتمی طور پر اُن میں ایک ہی زبان سرکاری طور پر قومی زبان کہلاتی ہے۔ کچھ ممالک میں ایک سے زائد قومی زبانیں ہیں۔ ان ممالک کی تعداد بہت ہی کم ہے یا غیرترقی یافتہ ہیں۔ ان کثیر قومی زبان والے ممالک میں بھی سرکاری قومی زبانوں کی تعداد دو سے زیادہ نہیں ہے۔ جن ممالک میں ملکی سطح پر ایک سے زائد زبانیں رائج ہیں وہ ممالک اپنی ان زبانوں کو قومی زبان کی بجائے سرکاری زبان کا نام دیتے ہیں جیسے ہمارے ہاں مادری زبانیں کہلاتی ہیں۔ اقوام متحدہ تمام ملکوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ اقوام متحدہ کی چھ سرکاری زبانیں ہیں جن میں انگریزی، فرانسیسی، ہسپانوی، روسی، چینی اور عربی شامل ہیں۔ مذکورہ چھ زبانیں متعلقہ چھ ملکوں کی قومی زبانیں ہی ہیں۔ ہندوستان، بنگلہ دیش، ترکی اور پرتگال کی خواہش ہے کہ ان کی متعلقہ قومی زبانیں یعنی ہندی، بنگالی، ترکی اور پرتگالی کو بھی اقوام متحدہ کی سرکاری زبانوں میں شامل کیا جائے۔ ہندوستان میں قومی زبان کے نام پر کوئی ایک زبان بھی نامزد نہیں ہے جبکہ ہندوستان میں 22 علاقائی زبانوں کو ملک کی سرکاری زبانوں کا درجہ دیا گیا ہے لیکن وہ اقوام متحدہ میں ہندی کوہی قومی زبان کے طور پر رجسٹرڈ کروانا چاہتے ہیں۔ مستقبل میں اگر پاکستان اقوام متحدہ میں اپنی قومی زبان کی رجسٹریشن کے لیے کوشش کرے گا تو اقوام متحدہ حسب روایت پاکستان کی ایک ہی زبان اردو کو قومی زبان کے طور پر قبول کرے گا۔ سفارتی سطح پر ایک ملک کے لیڈر دوسرے ملک میں جاکر بعض اوقات میزبان ملک کی قومی زبان میں ایک آدھ جملہ ادا کرتے ہیں۔ اس روایت سے میزبان ملک کے عوام کو اپنائیت، دوستی اور محبت کا پیغام دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ السلام و علیکم، شکریہ یا پاکستان زندہ باد وغیرہ ہیں۔ اس کی ایک مثال عیسائیوں کے تہوار پر ویٹی کن سٹی سے مختلف زبانوں میں جاری ہونے والا پوپ کا تہنیتی پیغام ہے جس میں پاکستان کی قومی زبان اردو کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک کی قومی زبانوں کے مندرجہ بالا مختصر جائزے سے پتا چلتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ایک ملک کی ایک زبان کو ہی قومی زبان کی شناخت ملتی ہے جبکہ ایک ہی ملک کے اندر بولی جانے والی دیگر مختلف زبانوں کو مقامی، علاقائی، سرکاری، مادری یا نیٹیو زبانیں وغیرہ کے ناموں سے لکھا جاتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.