اسحاق ڈار کی آ مد

21

خوش آمدید کہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بالآخر وطنِ عزیز میں قدمِ رنجہ فرمایا اور پھر وزیر خزانہ کا حلف اٹھانے کے بعد صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات کی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صدر کو اپنے پلان سے آگاہ کیا، بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی پاکستانی کرنسی سے کھیلنے نہیں دیں گے۔ گزشتہ برسوں میں ہر چیز کو کھلا چھوڑ دیا گیا۔ روپے کی تباہی کے نتیجے میں مہنگائی ہوئی اور شرح سود تیرہ سے چودہ فی صد تک پہنچ گئی۔ سیاست ایک طرف رکھیں ملک کو آگے جانے دیں، پہلی ترجیح کرنسی میں استحکام اور دوسری مہنگائی پر قابو پانا ہے۔ نو منتخب وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ صائب ہیں، انہوں نے ایک ایسے وقت میں وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالا ہے، جب پاکستان میں ملکی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے جس کی وجہ سے مہنگائی کی سطح27  فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ملک میں تیل، بجلی، گیس اور خورنی اشیا کی قیمتوں میں ہونے والے بے تحاشا اضافے کی وجہ سے موجودہ حکومت تنقید کی زد میں ہے، تو دوسری جانب آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہونے کے باعث اسے سخت معاشی فیصلے کرنا پڑے ہیں۔ معیشت اس وقت بد ترین صورت حال کا شکار ہے اور مہنگائی کی وجہ سے عام فرد کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ موجودہ اتحادی حکومت کے پانچ ماہ میں معاشی طور پر لوگوں کو کوئی ریلیف نہیں مل سکا اور اس کے ساتھ تجارتی اورکاروباری حلقے بھی تشویش کا شکار ہیں۔ ملکی معیشت کی زبوں حالی کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی نہیں۔ ڈالر اور روپے میں زبردست مقابلہ جاری ہے، روپیہ بڑی مشکل سے اپنی قدر بچانے میں مصروف ہے۔ پاکستان کی معیشت خطرات میں گھرتی چلی جا رہی ہے، روپے کی قدر میں کمی، معیشت کی شرح نمو، ٹیکسوں کی وصولی، بچتوں و سرمایہ کاری کی شرحیں، برآمدات، غذائی قلت، بیروزگاری اور غربت کی صورتحال گزشتہ برسوں اور خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں خراب ہوتی چلی جا رہی ہے۔ لوگ مہنگائی، گیس، بجلی اور پٹرولیم کے بحران کی وجہ سے پریشان ہیں، انھیں ملک کی کامیاب بیرونی پالیسی سے زیادہ اپنے مسائل کے حل کی فکر ہے جس پر توجہ بہرحال وزیراعظم میاں شہباز شریف کو ہی دینا ہو گی۔ پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد معیشت کو درپیش چیلنجز میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 20 فیصد رہنے کا امکان ہے حالانکہ رواں ہفتے یہ شرح 40 فیصد سے زائد ہے۔ آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا ہے اور ان کی کمی کا سامنا بھی ہے۔ اس لیے پاکستان اس کے اثرات سے نہیں بچ سکتا۔ عالمی مالیاتی ادارے نے جس وقت اپنی یہ رپورٹ مرتب کی اُس وقت پاکستان میں سیلاب کی صورت حال موجود نہیں تھی، بُرے معاشی حالات میں سیلاب سے ہونے والی تباہی نے ہماری رہی سہی کمر بھی توڑ دی ہے۔ ملک میں ساڑھے تین کروڑ افراد سیلاب سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں، لاکھوں گھر تباہ ہو گئے اور انفرا سٹرکچر ختم ہو کر رہ گیا ہے، فصلیں اور مویشی بھی باقی نہیں رہے اور جو خوراک کا بحران ہمیں پہلے ہی اپنی
لپیٹ میں لیے ہوئے تھا، اُس میں مزید شدت آ جائے گی۔ اسحاق ڈار ملک میں ایسے وقت میں تشریف لا چکے ہیں جب ملک کو اندرون و بیرون دونوں سطح پر ان گنت مالی و اقتصادی چیلنجز درپیش ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور اس کے زیر اثر پاکستانیوں کی ایک معقول تعداد سے قطع نظر عام پاکستانیوں میں اس امر پر تقریباً مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے پاکستان کی شدید مشکل معیشت کو اگر کوئی سنبھال سکتا ہے تو وہ اسحاق ڈار ہی ہیں۔ دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو ملک میں تین کروڑ سے زائد لوگ اس وقت سیلاب سے متاثرہ اور فوری
ریلیف کے منتظر ہی نہیں حقدار بھی ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے بحرانوں نے الگ سے ملک کے عوام کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے یہ اور اس طرح کے دیگر چیلنجز کا اب نئے وزیر خزانہ کو سامنا ہو گا۔ تاہم حوصلہ افزا امر یہ بھی ہے کہ ڈار کی واپسی کے ساتھ ہی ان دو دنوں میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت یکایک دس روپے چالیس پیسے کم ہو گئی ہے، سٹاک ایکسچینج میں گہما گہمی نظر آنے لگی اور روپے کی قدر میں اچانک اضافہ ہو گیا۔ اپریل 2022 میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی
میں قائم ہونے والی حکومت میں وزیر خزانہ کا قلمدان مفتاح اسماعیل کو سونپا گیا، پانچ ماہ تک جنہوں نے پوری جانفشانی کے ساتھ ذمے داریاں نبھائیں اور بلاشبہ وہ مشکل فیصلے کیے، جس کے لیے شاید ان کے علاوہ کوئی اور تیار ہوتا، اس کا کریڈٹ انہیں ضرور ملنا چاہیے۔ موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے صلاح مشورے کے بعد اسحاق ڈار کو پھر سے وزیر خزانہ بنانے کا فیصلہ کیا کیونکہ نواز شریف کے زمانہ اقتدار میں وہ ہی وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز رہے۔ علاوہ ازیں جب 2013 میں پاکستان کی معیشت مشکلات کا شکار تھی تب بھی اسحاق ڈار نے اچھی کارکردگی دکھائی تھی۔ اسحاق ڈار کی نظر عوام کی اور معیشت کی مشکلات دونوں پر ہوتی ہے اور ان کے اس عہدے کو سنبھالنے سے سب سے زیادہ پولیٹیکل اکانومی کا فائدہ ہو گا، اس کے ساتھ سیاسی لحاظ سے نواز لیگ فائدہ اٹھائے گی۔ پاکستانی عوام کی جانب سے نئے وزیر خزانہ سے اس توقع کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ معاشی صورت حال کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ ماضی میں بھی ایسا کر چکے ہیں۔ حکومت کو دو کام درپیش ہیں جب کہ مشکل یہ ہے کہ ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں وہ مقامی کرنسی کو نیچے لانا ہے اور دوسرا مالیاتی سپیس یعنی گنجائش پیدا کی جائے اس آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کرنسی کو مارکیٹ فورسز پر چھوڑ دیا گیا ہے اور سٹیٹ بینک یا حکومت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی جب کہ سیلاب کی وجہ سے ہارڈ انفرا سٹرکچر پر کام نہیں ہو سکتا۔ ان مشکلات کے سبب اور آئی ایم ایف پروگرام کی موجودگی میں پورا ہونا ایک مشکل مرحلہ ہے۔ مہنگائی میں کمی لانا نئے وزیر خزانہ کی اولین ترجیح ہے، تاکہ عوام میں ایک اچھا تاثر قائم ہونا شروع ہو فی الوقت عوام تحریک انصاف کے دور کی مہنگائی کو یاد کرتے ہوئے اس دور حکومت کو نسبتاً بہتر قرار دے رہے ہیں حالانکہ دیکھا جائے تو اس دور میں بھی مہنگائی کم نہ تھی مگر حکومت کی تبدیلی اور نئی حکومت آنے کے بعد لوگوں کو جس صورتحال سے دو چار ہونا پڑا اس نے اس مہنگائی کو بھلا دیا۔ ایک خوش آئند خبر یہ ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مستحکم ہوا ہے، ساتھ ہی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر ہی تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی معاملات کی کروٹ اب مکمل حکومت کے حق میں ہو گئی ہے۔ سیاسی معاملات بھی تحریک انصاف کی اسمبلی میں واپسی کے عندیہ سے اور احتجاج کی کال کو موخر کرنے سے بہتری کی طرف گامزن نظر آتا ہے یہ جملہ معاملات بہرحال اسحاق ڈار کے لیے معاون ثابت ہوں گے اس کے باوجود یہ ان کے لیے کڑے امتحان کا وقت ہے کہ وہ اپنے سابق ریکارڈ کے مطابق کارکردگی دکھا سکیں اور عوام کو ریلیف دے سکیں اب ان کی کامیابی سے حکومت کی کامیابی اور آئندہ انتخابات کا انحصار ہو گا۔ اسحاق ڈار کی بطور وزیر خزانہ ہر لحاظ سے اہم ہے اور معروضی حالات میں ان کی کامیابی کی پیشن گوئی بھی آسان نہیں البتہ ملکی معیشت کی کامیابی کے لیے دعا ضرور کی جا سکتی ہے۔ حکومت کو وقت کم مقابلہ سخت کی صورتِ حال کا سامنا ہے ملک ایک طرف آئینی بحران کا شکار ہے اور دوسری طرف بدترین مالی بدحالی اور اقتصادی کساد بازاری سے دوچار ہے۔ سابقہ حکومت کی معاشی پالیسی نہ ہونے اور منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث نئی حکومت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے، جن کے حل کے لیے واضح روڈ میپ کے ساتھ انتھک محنت، سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

تبصرے بند ہیں.