اقتدار کے لیے شاطرانہ چالیں

24

حالات انتہائی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے۔ کل تک جن کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا وہ نہ صرف غروب ہو گیا بلکہ وہ شام کے دھندلکوں میں گم کردہ راہ ہو گئے۔ یاران تیزگام پوچھ رہے ہیں کیوں اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ اداس شاموں اور جاگتی راتوں میں ماضی کی نا اہلیاں، حال کی ناکامیاں اور مستقبل کا خوف کسی کروٹ چین نہیں لینے دیتا۔ ادھر مغضوب علیہم قبیل کے رہنماؤں کو ریلیف ملنا شروع ہو گئے جبکہ انعمت علیہم قبیلہ والوں کی دراز رسی کھینچی جانے لگی ہے ہر جانب پسپائی، معافیاں، لانگ مارچ کی کال سے گریز، ضمنی انتخابات سے فرار، مرحلہ وار استعفوں کے بارے میں سپریم کورٹ کے ریمارکس پر تشویش اور سر پر فارن فنڈنگ، توہین عدالت، توشہ خانہ اور دیگر مقدمات میں نا اہلی کی لٹکتی ہوئی تلوار نے حواس باختہ کر دیا ہے۔ کپتان شاطرانہ چالیں چلنے پر مجبور ہو گئے۔ ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ فوری انتخابات اور آرمی چیف کی تعیناتی روکنے کی کوششیں ناکام ہو جانے کے بعد ان کے شب و روز صلح صفائی کے لیے ہرکارے بھیجنے نیوٹرلز کو اپنے حق میں کرنے عدالتوں کی پیشیاں بھگتنے اور راتوں کو جلسوں میں اپنے حامیوں کا لہو گرمانے میں صرف ہو رہے ہیں۔ کہا اب تک 51 جلسے کر چکا ہوں لوگ 55 جلسوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ کہا تھا 24 ستمبر سے تحریک شروع کر دوں گا آس پاس کے حواریوں نے ستمبر کے آخر تک حکومت کے خاتمے کی نوید سنائی تھی ستمبر گزر گیا ککھ نہ ہلیا۔ کچھ نہ ہوا اب ایک اور قریبی ساتھی نے شیخ رشید کی طرح پیش گوئی کی کہ 10 اکتوبر تک منی مارشل لاء لگ جائے گا اور ایک گروپ خان صاحب کو سویلین فیس کے طور پر بطور وزیر اعظم لے آئے گا۔ دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔ شیخ صاحب ان دنوں ٹی وی سکرینوں سے غائب اور ججوں کی جھڑکیاں سن رہے ہیں۔ انہوں نے بھی اپنی عادت کے مطابق دور کی چھوڑی کہ اکتوبر نومبر میں اہم فیصلے ہونے والے ہیں۔ من گھڑت باتیں دماغ افتراہیں، نوجوان ذہنوں اور کالج یونیورسٹی کے طلبہ کے معصوم ذہنوں کو مسموم کرنے کی کوششیں ملک کو عدم استحکام کی طرف لے جانے کی سازشیں ناکام تحریک شروع ہوئی نہ لانگ مارچ کی کال دی گئی حکومت بھی برقرار وزریر اعظم کا لہجہ پہلے سے توانا ہو گیا اب وہ للکارنے لگے ہیں جلسوں سے کام نہیں بنا تو سوشل میڈیا کو سرگرم کر دیا کپتان کی پوری سیاست سوشل میڈیا کے گرد گھومتی رہی گھوم رہی ہے عالی جاہ نے زندگی کے 22 سال صرف سوشل میڈیا کا جال بچھانے میں صرف کر دیے کھوج لگانے والوں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ارب 80 کروڑ خرچ کیے جا رہے ہیں 6 کروڑ ماہانہ خرچ ہوتے ہیں مقصد مخالفین کو گالیاں دینے اور عوام کو اپنے چنگل میں پھنسائے رکھنے کے سوا کچھ نہیں، آنے والے عدالتی فیصلوں سے توجہ ہٹانے کے لیے آڈیو لیکس کا فتنہ کھڑا کر دیا گیا مریم نواز کی آڈیو وزیر اعظم کی آڈیو ریلیز کردی گئی اس پر IN THE HELL نامی کسی نامعلوم ہیکر کی مزید آڈیو لیک کرنے کی دھمکی، 7 کروڑ ڈالر ادا کرنے کا مطالبہ کم بخت نے وزیر اعظم ہاؤس کی سکیورٹی خطرے میں ڈال دی۔ وزیر اعظم نے دو چار اجلاس بلائے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ذمہ دار اداروں نے اپنی رپورٹ پیش کر دی تحقیقات کے لیے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی گئی لیگل فریم ورک کی تیاری کا حکم دیا گیا جس کے تحت مقدمات قائم ہوں گے ہیکر نے دھمکی دی کہ ایک اہم وکٹ گرنے والی ہے لہجہ میرے کپتان کا تھا وہی وکٹیں گرانے پر مصر رہتے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں مبینہ طور پر کھرا وہیں نکلا جہاں نکلنا چاہیے تھا عمرانی دور میں بھارت سے ایک سافٹ ویئر درآمد کیا گیا تھا ڈارک ویب سائٹ پر سارا کھیل کھیلا جا رہا ہے کپتان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ابھی میں نے کھیلا ہی نہیں یہ سوال سائفر سے متعلق ان کے بارے میں ایک آڈیو سے متعلق تھا سیانوں نے کہا آتا نہیں ہے کھیل مگر
کھیل رہے ہیں۔ کیا تب تک نیٹ پریکٹس کر رہے ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ وہ کھل کر میدان میں آ گئے ہیں محاذ کھل گیا ہے دو آڈیو لیک ہونے کے بعد دھمکی دی گئی کہ اب مسٹر 13 کی وکٹ گرے گی۔ کیا ڈرامہ ہے پہلے ایکس وائی زید ہدف تنقید تھے اب مسٹر 12 اور مسٹر 13 کی وکٹیں گرانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ہیکر نے اپنی آڈیوز میں جس ڈیٹا کا ذکر کیا وہ کپتان کے سوا کسی کے پاس نہیں ان کو اپنی آئندہ گیم کے لیے درکار ایندھن اسی ڈیٹا سے ملے گا بد قسمتی سے پلان ایکس لیک ہو گیا خفیہ اجلاس کا انعقاد نامعلوم فون کال سب کچھ خفیہ اداروں نے ظاہر کر دیا اس کے ساتھ ہی امریکی سائفر کے بارے میں دو حصوں پر مشتمل کپتان کی دو آڈیو یکے بعد دیگرے لیک ہو گئیں جنہوں نے امریکی سازش کا سارا بیانیہ زمیں بوس کر دیا مداح ہکا بکا رہ گئے امریکی سازش کے ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا۔ بیانیہ بذات خود سازش نکلا اسی دوران ایک اور ہیکر نے IN THE BELL کے نام سے دھمکی دی کہ اس کے پاس خطرناک کی خطرناک ویڈیوز موجود ہیں جو دکھائے جانے کے قابل نہیں۔ خطرے کی گھنٹی بجتے ہی آڈیو لیک ہونے کا سلسلہ فی الحال بند ہو گیا۔ HELL والا ہیکر غائب ہو گیا بروکر سامنے آ گئے سرکاری اجلاسوں کی خفیہ ریکارڈنگ ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ ایسا کبھی کسی غیر ملک میں بھی نہیں ہوا۔ کپتان ایک ایک قدم آگے بڑھ رہے ہیں۔ عوام کو راغب کرنے میں اب تک کامیاب ہیں۔ کوئی کارروائی بھی نہیں ہو رہی۔ پیچھے کوئی بڑا آدمی ہے یا حکومت کمزوری کا مظاہرہ کر رہی ہے؟ پانچ ماہ کے دوران کتنے ڈرامے سٹیج ہو چکے جلسوں پر اربوں روپے یوں ہی خرچ نہیں کیے جا رہے کہیں نہ کہیں سے سپورٹ حاصل ہے کہ حکومت بیک فٹ پر کھیلنے کے لیے مجبور ہے۔ دھونی کی دھمکیاں دینے والے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ بھی باتوں کے گولے پھینک کر آرام سے سو جاتے ہیں۔ اس بحث مباحثہ میں آئینی طور پر اقتدار سے محروم ہونے والا شخص خطرناک ہی نہیں حقیقی خطرہ بن گیا ہے۔ اس پردہ زنگاری کے پیچھے کون ہے؟ جن کا کام ہے وہ سراغ لگائیں نہیں لگاتے تو خصماں نوں کھائیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ جب توشہ خانہ کیس کا فیصلہ محفوظ ہے کسی وقت بھی شاید اسی ہفتہ کے دوران سنا دیا جائے گا توہین عدالت کیس آج سماعت کے لیے پیش ہو گا آرمی چیف کی تقرری کے بارے میں فیصلہ ہو چکا اس موقع پر آڈیو لیکس کا پنگا کیوں لیا گیا معاف کیجئے آنکھوں والے بخوبی سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ شاطرانہ چالوں کا حصہ ہے۔ یہ شاطرانہ چالیں 29 نومبر تک جاری رہیں گی۔ جس کے بعد شاید دل بے قرار کو قرار آ جائے گا۔ جنہیں ہرا ہرا ہی نظر آتا ہے وہ نہ سمجھیں تو میری نظر میں وہ نا سمجھ ہیں۔ ہائبرڈ سسٹم نے حکومت اور ملک کے خلاف سازشوں کا جال بُن دیا ہے۔ سیلاب سے تباہی ساڑھے 3 کروڑ متاثرین کی حالت زار مہنگائی سب کچھ پیچھے رہ گیا۔ دن میں آڈیو رات میں جلسے زندگی کا یہی مقصد ہے کھلم کھلا کہنے لگے ہیں اللہ نے میری حمایت کا حکم دیا تھا نیوٹرلز نے نہیں مانا نعوذ باللہ کیا بننے جا رہے ہیں، علما کے ایک گروپ نے بھی انہیں کلین چٹ دے دی۔ ہر دور میں ایسا ہوتا رہا ہے لیکن اس ملک سے محبت کرنے والے کروڑوں عوام کا یقین ہے کہ جنہوں نے یہ آگ بھڑکائی ہے ان کے ہاتھ پاؤں جلنے والے ہیں۔ بنیاد جس کی ریت پر رکھی ہو وہ مکاں دیوار و در کے ساتھ مکیں کو بھی لے جائے گا۔ گڑھے کھودنے والے ان ہی میں گریں گے ابتدا میں عرض کیا تھا کہ حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے ریلیف ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ نومبر سے پہلے ہی سیاست میں ہلچل خالی از علت نہیں شاطرانہ چالوں کے باوجود اونٹ تھک ہار کر دائیں کروٹ بیٹھ رہا ہے گزشتہ ہفتہ کے دوران کتنے واقعات رونما ہو گئے ن لیگی رہنما احسن اقبال، مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر مقدمات سے بری ہو گئے۔ تجزیہ کاروں نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی بریت کو نواز شریف کی واپسی سے نتھی کر دیا یہ ہو گیا وہ بھی ہو جائے گا اسحاق ڈار وارنٹ معطل ہونے پر واپس آ گئے۔ سینیٹر کی حیثیت سے حلف اٹھایا سینیٹ میں قائد ایوان بنا دیے گئے وزارت خزانہ مل گئی ڈالر نیچے آنے لگا پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے 13 پیسے لٹر کی کمی، سٹاک ایکسچینج میں تیزی، لوگوں نے مہنگائی میں کمی کی امیدیں لگا لیں۔ وفاقی حکومت نے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا۔ شیخ رشید کو عدالت اور باس کو اوپر سے شٹ اپ کال، پنجاب حکومت کے خلاف کوششوں میں تیزی اور حمزہ شہباز کی نظر ثانی اپیل، ساری خبریں کسی اور تبدیلی کا پتا دے رہی ہیں۔ پنجاب حکومت کے بارے میں ن لیگی رہنماؤں کے دعوے سامنے آ رہے ہیں کہ چھ سات حکومتی ارکان نے حمایت کا یقین دلا دیا۔ کپتان کے اجلاس میں 26 ارکان کی غیر حاضری کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے اکتوبر میں بہت سی تبدیلیوں کا امکان ہے اوپر تلے کئی مقدمات کے فیصلے متوقع ہیں۔ سوشل میڈیا کی پٹاری سے شاید کچھ نہ نکل سکے ہیٹ سے کوئی اور کبوتر برآمد نہ ہو سکے مداری کھل کر تماشائیوں کے سامنے آ جائے تو دھوپ میں کھڑے تماشائی تتر بتر ہو جاتے ہیں۔ حقائق سامنے آ رہے ہیں لیکن ہپنا ٹائز کیے گئے عوام کا یقین ختم ہونے میں کچھ دیر لگے گی سپریم کورٹ اور اسٹیبلشمنٹ نے کپتان کو قومی اسمبلی میں واپس جانے کا مشورہ دیا ہے۔ وہ مشروط واپسی پر رضا مند ہو گئے لیکن آڈیو نے ان کی شرط کو ختم کر دیا اس عرصہ میں حکومت کو بھی یکسو ہو کر اپنا کام کرنا ہو گا سیانوں کا کہنا ہے کہ صحت، تعلیم، مہنگائی اور تحفظ جیسے بنیادی مسائل حل کیے بغیر مجمع گیر آگے بڑھتے رہیں گے تماشے کرتے رہیں گے۔

تبصرے بند ہیں.