وہ حقیقت جس سے انکار نہیں

18

انسان اس دنیا میں عارضی زندگی گزارنے آیا ہے مگر وہ اس دنیا کو ہی اپنی اصل منزل سمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو اپنے نیک اور متقی بندوں کی پہچان اور اپنے محبوب حضرت محمدؐ سے محبت کرنے والوں کے امتحان کے لیے بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا بنا کر درحقیقت انسان کا امتحان لینا ہے کہ کون ہے وہ انسان جو مجھ سے اور میرے محبوبؐ سے محبت کرتا ہے اور کون ہے وہ انسان جو اس عارضی دنیا کو چاہ کر اپنی آخرت خراب کرنا چاہتا ہے۔ اس سے تو کسی کو انکار نہیں کہ اس دنیا کو بنانے والا کوئی اور نہیں بس اللہ ہے اور اسی اللہ نے تمام انسان، حیوان، چرند، پرند سے لے کر فرشتوں تک کو ذمہ داری سونپی اور آخر میں یہی کہا کہ جو میرا بندہ ہو گا وہ بس میرے احکام پر کام کرے گا۔
جب موت آئے گی تو یقین جانیں کہ کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ آپ کے دنیا سے جانے پر کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور اس دنیا کے سب کام کاج اسی طرح جاری رہیں گے جس طرح آپ کے جیتے جی جاری تھے۔ چند دن خاندان کے لوگ یاد کریں گے اور اس کے بعد آہستہ آہستہ بھول جائیں گے۔ پھر سال بعد یاد آئے گی کہ آج اس کی برسی ہے۔ آپ کے بعد آپ کی ذمہ داریاں کوئی اور لے لے گا۔ آپ کا مال وارثوں کی طرف چلا جائے گا اور وہ اس مال پر اپنی عیاشی شروع کر دیں گے مگر اس مال کا حساب آپ کو دینا ہو گا۔
موت کے وقت سب سے پہلی چیز جو آپ سے چلی جائے گی وہ آپ کا نام ہو گا۔ لوگ کہیں گے کہ میت کہاں ہے؟ جب جنازہ پڑھنے کا وقت ہو گا تو کہیں گے کہ جنازہ اٹھا لائیں۔ جب دفن کرنا شروع کریں گے تو کہیں گے کہ میت کو قریب کر دیں مگر آپ کا نام ہرگز نہ لیا جائے گا۔
اس عارضی دنیا میں مال، حسب و نسب، منصب اور اولاد کے دھوکے میں نہ آئیں۔ یہ دنیا کس قدر زیادہ حقیر ہے اور جس کی طرف ہم جا رہے ہیں وہ کس قدر عظیم ہے یہ آپ کو وہاں جا کر احساس ہو گا۔ آپ پر غم کرنے والوں کی تین اقسام ہوں گی:
(1)۔ جو لوگ آپ کو سرسری طور پر جانتے ہیں وہ کہیں گے ہائے مسکین! اللہ اس پر رحم کرے۔
(2)۔ آپ کے دوست چند گھڑیاں یا چند دن غم کریں گے پھر وہ اپنی باتوں اور ہنسی مذاق کی طرف لوٹ جائیں گے۔
(3)۔ آپ کے گھر کے افراد کا غم گہرا ہو گا، وہ کچھ ہفتے، کچھ مہینے یا ایک سال تک غم کریں گے اور اس کے بعد وہ آپ کو یادداشتوں کی ٹوکری میں ڈال دیں گے۔ لوگوں کے درمیان آپ کی کہانی کا اختتام ہو جائے گا اور آپ کی حقیقی کہانی شروع ہو جائے گی اور وہ آخرت ہے۔
آپ سے آپ کا حسن، مال، صحت، اولاد، آپ اپنے مکانوں اور محلات دور ہو جائیں گے۔ آپ کے ساتھ صرف آپ کا عمل باقی رہ جائے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی قبر اور آخرت کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ یہ وہ حقیقت ہے جو غور و فکر کی محتاج ہے اس لیے آپ اس کی طرف توجہ کریں: فرائض، نوافل، پوشیدہ صدقہ، نیک اعمال، اچھا اخلاق۔
مرنے والے کو اگر دنیا میں واپس لوٹایا جائے تو وہ صدقہ کرنے کو ترجیح دے گا جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے: ترجمہ (اے میرے رب! تو نے مجھے قریب مدت تک مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا) (المنافقون:10)۔
وہ یہ نہیں کہے گا کہ میں نماز ادا کر لوں یا میں روزہ رکھ لوں یا میں حج اور عمرہ کر لوں۔ علمائے کرام کہتے ہیں کہ میت صرف صدقے کا ذکر اس لیے کرتی ہے کیونکہ وہ اپنی موت کے بعد اس کے عظیم اثرات دیکھتی ہے لہٰذا زیادہ سے زیادہ صدقات و خیرات کریں۔
ہمیں اس دنیا سے اتنا پیار کرنا چاہیے جتنا ہمارے رب نے فرمایا۔ اتنا مال و دولت رکھنا چاہیے جتنے کا ہم حساب دے سکیں کیونکہ جائز و ناجائز دولت ہم کما کر مر جاتے ہیں تو ہماری دولت پر ہمارے وارث عیاشی کریں گے اور روز قیامت اس مال و دولت کا ہمیں جواب دینا ہو گا نہ کہ ہمارے ورثا کو۔ اگر تمام انسان ایک بار اپنے اپنے اعمال پر نظر ڈال لیں اور توبہ کر لیں کہ ہم کبھی ایسا نہیں کریں گے تو دنیا سے کرپشن، جھوٹ، قتل و غارت سب ختم ہو سکتا ہے مگر ہم ایسا کبھی نہیں کریں گے کیونکہ ہمیں اللہ سے نہیں اپنے اہل خانہ اور مال و دولت سے پیار ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنا اپنا محاسبہ کرنے کی توفیق دے اور اپنے رب اور اس کے محبوبؐ سے سچی محبت کرنے کی توفیق دے۔ آمین

تبصرے بند ہیں.