ریاست پر حملے

73

وزیر اعظم ہاؤس میں مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو جس انداز میں لیک کی جارہی ہے وہ حیرت انگیز تو نہیں مگر بے حد افسوسناک ضرور ہے ۔ یہ سلسلہ بہت طویل عرصے سے جاری ہے ۔ جس وقت بینظیر بھٹو شہید وزیر اعظم تھیں تو وہ اس قدر محتاط رہتی تھیں کہ ضروری نوعیت کے پیغامات یا مشورے کرنے کے لیے متعلقہ شخصیات کو ساتھ لے کر لان میں آجاتیں اوربعض مواقع پر ترجیح دیتیں کہ وہاں بھی کسی ایک جگہ رک کر بیٹھنے کی بجائے چلتے ہوئے باتیں کی جائیں ۔ نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم بنے تو 2014 کے دھرنوں کے بعد وزیر اعظم ہاؤس کی ہتک آمیز انداز میں جاسوسی کی گئی۔ ویڈیوز ریکارڈ کرکے سیاسی مخالفین کو فراہم کی جاتی رہیں تاکہ سوشل میڈیا پر وائرل کرکے وزیر اعظم کی تضحیک کی جاسکے۔ گھٹیا پن کی انتہا تھی کہ ایک موقع پر نواز شریف اپنی شلوار کا ازار بند ٹھیک کر رہے تھے اسکی ویڈیو بھی وائرل کردی گئی۔ ظاہر ہے اس وقت جو کچھ ہورہا تھا وزیر اعظم ہاؤس کے اندر سے ہی ہورہا تھا اور آج جو کچھ ہورہا ہے وہ بھی اندر سے ہی ہورہا ہے۔ کہنے کو تو وزیر اعظم ہاؤس کی سیکورٹی آئی بی کے سپرد ہے مگر کون نہیں جانتا کہ پچھلے کئی سالوں سے ایک ہی محکمہ تمام محکموں کو چلا رہا ہے ۔جب آئی بی خودمختار اور پروفیشنل تھی تب 2014 کے دھرنوں کے دوران ہی اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کی کال ریکارڈ کرلی گئی تھی جس وہ مبینہ طور پر نہ صرف دھرنے دنگے کرانے کے عمل میں ہی شریک نہیں تھے بلکہ ملک کے فوجی امور کے متعلق بھی اظہار خیال کرتے ہوئے پائے گئے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے یہ اہم ثبوت ہاتھ آنے پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو بلا کر آگاہ کیا تو انہوں نے اسی وقت لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کو طلب کرکے آڈیو سنوائی تو ان کے پاس تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ یہ دونوں جنرل اب ریٹائر ہوچکے ہیں مگر نوٹ کرنے والی بات یہ ہے واضح شواہد کے باوجود جنرل ظہیر السلام کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ الٹا اس خبر کو بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں بریک کرنے پر جرات مند لیگی رہنما مشاہد اللہ خان کو اپنی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑ گئے ۔دھرنے کے انہی دنوں میں ایک نجی تقریب میں چند طاقتور سرکاری افسروں سے ملاقات ہوئی تو عرض کیا کہ ریڈ زون میں اس ہنگامہ آرائی اور ریاستی عمارتوں پر حملوں سے دنیا بھر میں پاکستان کی سبکی ہورہی ہے یہ سلسلہ روکا جانا چاہیے تو انہوں کندھے ا چکاتے ہوئے جواب دیا ہمارا تو کوئی تعلق نہیں ۔ اسی گفتگو کے دوران ایک موقع پر ایک افسر کے منہ سے نکل گیا کہ نواز شریف کے ساتھ ہو تو بالکل ٹھیک رہا ہے ، اس نے بھی تو جنرل مشرف پر آئین سے غداری کا مقدمہ بنایا ہے ۔ ہمارے ہاں ذاتی ، ادارہ جاتی اور سیاسی مفادات کے لیے ریاست پر حملے کرنے کی یہ قبیح رسم آج بھی جاری ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والی ریکارڈنگ کا یہ طویل سلسلہ کس کس کو اپنی لپیٹ میں لے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ اگر اس کی زد میں غیر سیاسی شخصیات بھی آجاتی ہیں تو اس کا ایک مطلب ہوگا کہ اداروں میں ڈسپلن کے دعوے بھی ہوا ہو چکے ہیں ۔ یہ ممکن نہیں کہ ہمارے سیکورٹی اداروں کے ذمہ داروں کو اس بات کا علم نہ ہو کہ آڈیو لیکس کی اس نئی سیریز میں کون ملوث ہے ۔ اس معاملے پر اگرچہ
نیشنل سیکورٹی کمیٹی کا اجلاس ہو چکا ہے مگر اس سے ایک دن پہلے جب پہلے کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کے بعد اجلاس ملتوی ہونے کی خبر آئی تو لوگ چونک گئے ۔ آخر ایسا کیا ہے کہ معاملے کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس بھی نہیں بلایا جارہا ۔ سوالات اٹھنے لگے یہ کوئی دبائو ہے یا پھر کسی کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بہر حال یہ بات بھی بہت دلچسپ ہے کہ جس عمارت کے پوری طرح بگ ( جاسوسی آلات سے بھرا) ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہ گیا اب اسی مسئلے پر نیشنل سیکورٹی کمیٹی اجلاس وہیں پر ہی ہوا جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور خفیہ ایجنسیوں کے چیفس بھی شریک ہیں ۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے علامیے کہا گیا ہے کہ شرکا نے آڈیو لیکس کے معاملے پر غور کیا۔ حساس اداروں کے سربراہان نے اجلاس کو وزیراعظم ہائوس سمیت دیگر اہم مقامات کی سکیورٹی، سائیبرسپیس اور اس سے متعلقہ دیگر پہلوئوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایاگیا کہ سوشل میڈیا پر زیرگردش آڈیو ز کے معاملے پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم ہائوس کی سکیورٹی سے متعلق بعض پہلووں کی نشاندہی کی گئی اور ان کے تدارک کے لئے فول پروف انتظامات کے بارے میں بتایاگیا۔ اجلاس کو آگاہ کیاگیا کہ وزیراعظم ہائوس سمیت دیگر اہم مقامات، عمارات اور وزارتوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے ہنگامی اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کی کسی صورتحال سے بچا جاسکے۔
اجلاس نے مشاورت کے بعد سائیبرسکیورٹی سے متعلق ’ لیگل فریم ورک‘ کی تیاری کا فیصلہ کیا اور اس ضمن میں وزارت قانون وانصاف کو ’ لیگل فریم ورک‘ کی تیاری کی ہدایت کی۔ اجلاس نے آڈیو لیکس کے معاملے پر تحقیقات کے لئے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی۔ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ خاں اس کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔ اجلاس نے اتفاق کیا کہ جدیدٹیکنالوجی اور سائیبرسپیس کے موجودہ تبدیل شدہ ماحول کے تناظر اور تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سکیورٹی ، سیفٹی اور سرکاری کمیونیکیشنز کے محفوظ ہونے کو یقینی بنانے کا جائزہ لیا جائے تاکہ سکیورٹی نظام میں کوئی رخنہ اندازی نہ ڈال سکے۔
اس علامیے کے باوجود اگرچہ مستقبل قریب میں ان لیکس کے اصل مجرم پکڑ کر منظر عام پر نہیں لائے جاتے تو اس کا ایک ہی مطلب ہوگا کہ اس معاملے پر بھی ‘‘ وسیع تر قومی مفاد ‘‘ میں مٹی ڈال دی گئی ہے ۔ جاسوسی آلات کی زد میں آنے والوں میں صرف سیاستدان ہی شامل نہیں بلکہ ججوں کی سرگرمیاں بھی مانیٹر کی جاتی ہیں۔ ججز بحالی تحریک کے دوران انکشاف ہوا تھا کہ چیف جسٹس ہاؤس کی جاسوسی کی جارہی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس حوالے الٹا سیدھا مواد سپریم کورٹ کے سامنے آیا تو سخت سرزنش کی گئی اور پھر انٹیلی جنس اداروں کو حکم ملا کہ ججوں کے گھروں اور عدالتوں کی انسپکشن کرکے ایسے آلات سے پاک ہونے کی تحریری رپورٹس جمع کرائی جائیں۔ اس وقت لگتا تھا کہ شاید سول ملٹری عدم توازن میں کمی آئے گی مگر یہ محض خام خیالی ثابت ہوئی۔ عمران خان کو حکومت میں لانے کا فیصلہ کیا گیا تو سب سے زیادہ عدلیہ کو ہی استعمال کیا گیا ۔ لمحہ موجود میں بھی چونکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کو ریاستی اثاثے کے طور پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو اب بھی عدالتی رویہ واضح طور پر ایک فریق کے حق میں نظر آرہا ہے۔ سول ملٹری عدم توازن فی الحال تو کم ہوتا نظر نہیں آرہا۔ سیاسی حوالے سے ایک اچھی پیش رفت ضرور ہوئی ہے کہ اپنے غیر ملکی دوروں کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف قدرے پر اعتماد نظر آنے لگے ہیں۔ ملک کے نامور وکیل عرفان قادر کو وفاقی وزیر کے درجے والا معاون خصوصی مقرر کرنا قانونی محاذ مضبوط کرنے کے حوالے سے بہت ٹھوس قدم ہے ۔ اس کے ساتھ ہی وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے متنازعہ رجسٹرار جواد پال کو تبدیل کرکے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس طرح کے اقدامات حکومت بننے کے فوری بعد کیے جاتے تو ممکن تھا کہ حکومت کی عدالتوں میں وہ درگت نہ بنتی تو اب تک بنی ہوئی ہے ۔ حکومت کی جانب سے ایک جرات مندانہ فیصلہ سائفر سازش تیار کرنے کے متعلق عمران خان اور سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی آڈیو لیک کی فرانزک کرانے کا ہے ۔ اس پر لازمی عمل ہونا چاہئے ۔ یہ ممکن نہیں کوئی بھی شخصیت اپنی سیاست کو بچانے یا چمکانے کے لیے ملک کے سفارتی مفادات کو دائو پر لگا دے۔ عمران خان کو ملنے والی غیر معمولی رعائتیں پہلے ہی شدید اضطراب کا سبب بنی ہوئی ہیں ۔ یہ تماشا اب بند ہونا چاہیے اور جو عہدیدار یا ادارہ دیوار بننے کی کوشش کرے اسے عوام کے سامنے ایکسپوز کیا جانا چاہیے ۔ کوئی آئینی ، سیاسی عہدیدار یا سرکاری افسر ریاست سے بڑا نہیں ۔ مدت اقتدار و مدت ملازمت کے لیے طے شدہ وقت پر لازماً عمل ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے غلط قانون بن گئے ہیں تو ختم ہونا چاہئیں۔ صرف یہی ایک طریقہ ہے جس سے پاکستان کو نارمل ریاست بنایا جاسکتا ہے ۔

تبصرے بند ہیں.