گلستانِ مصطفیﷺ

22

کبھی کبھی گیان والوں کو دھیان والوں پر بے محابا رشک آنے لگتا ہے۔ گیان والا خلق سے بھی متعلق رہنا چاہتا ہے، اور عالمِ خلق میں اپنا نام، کام اور کسب کی تختی ثبت کرنے کی ایک معصوم تمنا بھی دل میں لیے ہوتا ہے، وہ کسی نہ کسی صورت کبھی خدمت، کبھی فرض، شریعت، اصلاحِ معاشرت کے نام پر اپنی تمنا کا اخلاقی جواز بھی تلاش کر ہی لیتا ہے۔ بہرطور اس کا موصوف و مطلوب اس کی پوری توجہ پر حاوی نہیں ہوتا، اسے اپنے یقین کو مسلسل مستحکم کرنے کی ضرورت بدستور پیش آتی رہتی ہے۔ اس کے لیے اسے کبھی وسوسوں کی گھڑمس میں سے گزرنا ہوتا ہے اور کبھی تشکیک کی نیم تاریک راہداریوں میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ بہرحال اسے کوئی حال مستقل راس نہیں آتا۔ دھیان والا صاحب موج میں ہے، وہ ہر دم حاضر و موجود ہے، وہ اپنے دھیان پر گیان کو قربان کر چکا ہے، اپنے حاصل کو لاحاصل کر چکا ہے، موجود کو لاموجود اور پھر اس کے صلے میںلاموجود کو موجود کر چکا ہے۔ جب وہ ’لا‘ تک پہنچا تو اب اس کے لیے ’الف‘ تک رسائی آسان کر دی جاتی ہے۔ گیانی اپنی نارسائی سے آگاہ ہوتا ہے، لیکن وہ اس کے جواز میں آہِ نارسائی کی دسترس پر یقین رکھتا ہے۔
ترتیبِ نزولِ بیان یوں ہے کہ یہ تمہیدی جملے اس فقیر پر وارد ہوئے، اور چند روز بعد ’’گلستانِ مصطفیٰؐ‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب کا مسودہ عطا ہوا۔ رحمت عزیز چترالی کی کہی ہوئی خوبصورت نعتوں کی کتاب نے کیفیتوں کے در وا کر دیے۔ یہ نعتیں کھواری ایسی سادہ زبان میں سادہ سے انداز میں کہی گئیں ہیں، استفادِ عامہ کے لیے نعت گو نے ان کا اردو ترجمہ بھی کر دیا ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ رحمت عزیز چترالی کا ہم سب پاکستانیوں اور دنیا بھر میں اردو بولنے اور لکھنے والوں پر ایک احسان ہے۔
نعت کہنا ذکر ہے، نعت پڑھنا ذکر ہے، ذکر سننا اور ذکر سنانا ذکر ہے… میں تو اسے ذکرِ عظیم ہی کہوں گا۔ جس کے ذکر کو مالکِ کائنات نے بلند کر دیا اس کا ذکر ذکرِ اعظم ہی ہو گا۔ جس کی رضا میں رب کی رضا ہے، اس کی رضا جوئی ہی کارِ عظیم ہو گا۔ ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ میں معاون منتخب کر لیے جانے والے مبارک باد کے یوں مستحق بھی ٹھہرتے ہیں کہ ان کے اپنے ذکر کو بھی اب اندیشہِ زوال نہیں۔ وہ خسارے سے بچ جانے والے لوگ ہیں، کیونکہ وہ اس ذکر سے حق اور صبر کی وصیت کرنے والوں میں شامل ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ نعت ہر حال میں مقبول ہے، رب کریم اپنے محبوب رسولِ کریمؐ کی محبت کے وسیلے سے کسی کی کاوش کو رائیگاں نہیں کرتا، وہ ہر مزدور کا معاوضہ اس کی طلب اور گمان سے بڑھ کر عطا کرتا ہے۔ یہ نعت کہنے والے کا ظرف اور محبت ہے کہ وہ خود اپنا جائزہ لے، وہ نعت کس مقصد کے لیے کہہ رہا
ہے۔ بعض لوگ میدانِ نعت اپنے فن اور ہنر کی داد لینے کے لیے آتے ہیں، کچھ مال و زر کے لیے گاتے ہیں، اور کچھ اپنی عاجزی کا اظہار اور نارسائی کی فریاد لے کر حاضر ہوتے ہیں۔ یہی لوگ فقیر ہوتے ہیں اور آدمی بے نظیر ہوتے ہیں۔ عشق مجازی ہو یا حقیقی اپنے مزاج میں سادہ ہوتا ہے، اپنے اظہار میں بھی سادہ ہوتا ہے، عاشق خود ہی سادہ دل ہوتا ہے بلکہ سادہ لوح ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ محفل میں کسی نے مرشدِ گرامی حضرت واصف علی واصفؒ سے پوچھا کہ سادہ لوح کون ہوتا ہے؟ آپؒ نے مسکراتے ہوئے فرمایا، پہلے سادہ لوح کے بارے میں ایک شعر سن لو!
عشق کی سادہ لوحی دیکھ
جیت سمجھ کر کھا لی مات
ایک پُر تحیر بات یہ ہے کہ ایک حدیثِ پاک میں مومن کی نشانیوں میں اس کا سادہ لوح ہونا بھی شامل ہے، یعنی فن کاری اور پُرکاری، تصنع، بناوٹ اور لفظی بازیگری مومن کی شان کے منافی ہے۔ سادگی کو ایمان کی علامت کہا گیا ہے تو اس سادگی کا تعلق زندگی کے ہر شعبے سے ہونا چاہیے۔
ایک مرتبہ اپنی نجی محفل میں مرشدِ گرامی نے بتایا کہ ایک ادیب نے انہیں اپنے نعتیہ مجموعے کی تقریبِ رونمائی میں دعوتِ اظہار دی، سٹیج پر ہر مقرر اس کے فنِ شعر، رموزِسخن، ردیف قافیے کی خوبصورتی اور نایابی کا ذکر کر رہا تھا۔ جب مجھے دعوتِ کلام ملی تو میں نے کہا کہ آپ لوگوں کے تبصرے میں نے سنے ہیں وہ سب ٹھیک ہیں، اس کتاب میں وہی فنی خوبیاں موجود ہیں جو بیان کی گئی ہیں، لیکن اس نعتیہ کلام میں عقیدت کی کمی محسوس ہو رہی ہے، میرے خطاب کے بعد پھر باقی لوگ بھی یہ آواز اٹھانے لگے۔
ایک پنجابی شاعر اپنی ایک طویل پنجابی نعت لکھ کر حاضر خدمت ہوئے اور کہنے لگے کہ دیکھیں میں نے یہ ایک طویل نعت کہی ہے، آپؒ نے اس کی اصلاحِ فکر کے لیے کہا
چھوٹی وڈی نعت نہ ہندی
پیش کرو جو سردا
(کوئی نعت چھوٹی یا بڑی نہیں ہوتی، اس بارگاہ میں جو بھی پیش کرنے کے لائق ہو، وہ پیش کرو)
رحمت عزیز چترالی اپنی کھواری زبان کی ترقی اور تحفیظ کے لیے کوئی تنظیم سازی بھی کر سکتا تھا، جلسے، جلوس اور ریلیوں کا کاروبار بھی شروع کر سکتا تھا، سٹیج پر بھڑکیں لگا سکتا تھا کہ ہماری زبان کی عزت بحال کرو، وغیرہ وغیرہ! اور یوں غیر محسوس طریقے سے اپنی مقامی و مادری زبان کے تحفظ کی گلی سے ہوتا ہوا لسانی اور صوبائی عصبیت کی کسی تنگنائے کی طرف نکل سکتا تھا، لیکن اس نے وحدت اور عالمگیریت کے قلزم میں اترنے کا راستہ اپنایا ہے۔ اسے معلوم ہے زبانوں کی ترقی ایسے سطحی کاموں سے نہیں ہوتی۔ جس زبان کو قدآور لکھنے والے مل جائیں وہ خود ہی قد نکال لیتی ہے۔ کھواری زبان کی خوش قسمتی ہے کہ اسے رحمت عزیز جیسا لکھاری مل گیا، اور رحمت عزیز کی خوش قسمتی کہ اسے لکھنے کو رحمت للعالمینؐ کا نامِ نامی مل گیا… اب اسے نامی گرامی ہونے کون روک سکتا ہے۔ جس زبان کو غالب مسیر آ جائے اسے کون مغلوب کر سکتا ہے، جسے اقبال ایسا مفکر میسر ہو اس کا زوال کیسے ہو، جس زبان کے طرح دار حنائی ہاتھوں کو واصف علی واصفؒ ایسا نگینہ میسر آ جائے، اس کے اوصاف کیسے ختم ہونے میں آئیں گے۔ یہ بھی ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ کی تشریح ہے۔ جو محوِ ذکرِ حبیبؐ ہو گیا، وہ اپنے رب کا حبیب ہو گیا۔ جو ذکر و فکرِ حبیبؐ سے محروم رہا، اعراض کر گیا یا اعتراض کر گیا وہ بدقسمتی سے زمرہِ ’’انا شانئک ھو الابتر‘‘ ہو گیا۔
رحمت عزیز چترالی کی نعتیہ کتاب ’’گلستانِ مصطفیؐ‘‘ میں جو بات دل کو سب پہلے چھو لیتی ہے وہ اس کی تاثیر ہے۔ تاثیر ایک عجب راز ہے ، یہ دل سے براہِ راست دل میں اترنے والی کوئی بات ہے، اس بات میں وہ قوت ہوتی ہے جو آنکھ کو نم کر دیتی ہے۔ بیان کی سادگی اور اظہار میں معصومیت اس کا خاصہ ہے۔ رحمت عزیز کو رحمتِ حق نے وارفتگی عشق کے خزانے سے خاصہ حصہ عطا کیا ہے۔ خود فراموشی اظہار عشق کا وضو ہے۔ حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک شعر یاد آ رہا ہے:
خود فراموش ترے عرش کو چھو کر آئے
خواجگی جبہ و دستار سے آگے نہ بڑھی
اس کتاب کے چند اشعار کے تراجم پیش کر رہا ہوں تاکہ آپ بھی اس کیفیت سے گزر سکیں جس سے گزنے کے بعد میں نے وعدہ کر لیا کہ اس کتاب پر ضرور کچھ کہنے کی سعادت سمیٹنے کی کوشش کروں گا۔
ابھی تک تم نے روضہِ اطہر پر حاضری نہیں دی ہے، اے رحمت عزیز تم کتنے غریب ہو۔
میں اس عالی جنابؐ کا امتی ہوں اور پُر امید ہوں کہ روزِ قیامت آپؐ میری شفاعت کریں گے تاکہ میں بخش دیا جاؤں۔
حضرت محمد مصطفیؐ کے شہر کو دیکھنے کی خواہش دل میں لیے گھوم رہا ہوں اور مدینہ منورہ کی گلیوں میں گھومنے کی تمنا شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔
اگر محمدؐ کا دیدار نصیب ہو جائے تو میں حضور پُرنُورؐ کے چہرہ ِ مبارک کو بوسہ دینے کی سعادت حاصل کر لیتا۔
دنیا کے سارے عاشقوں کے عشق سے سب سے اچھا اور بابرکت عشق، عشقِ مصطفیؐ ہے، اے اللہ! مجھے بھی یہ عشق نصیب فرما۔
اے رب کعبہ، دونوں جہاں کے سردار حضرت محمدؐ کا دیدار کرا دے، یہی میری آرزو ہے، یہی میری دلی تمنا ہے۔
رحمت عزیز تو نیند اس لیے لیتا ہے کہ شاید خواب میں ہی اسے مدینے کی گلیوں کی زیارت ہو جائے۔

تبصرے بند ہیں.