سیلابی تباہ کاریوں اورتعلیمی ڈھانچے کے نقصان کا ازالہ!

18

یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں تاریخ کے بدترین سیلاب کی وجہ سے تیس لاکھ سے زائد بچے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں، ڈوبنے اور غذائی قلت کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہیں اور انہیں فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔پاکستان میں اس سال شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ سے 3کروڑ30لاکھ افراد متاثر ہوئے،جن میں تقریباًایک کروڑ 60لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔ 500سے زائد بچوں سمیت 2100 سے زائدافراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے،5000سے زائد زخمی ہوئے، 287,000 سے زیادہ گھر مکمل طور پر اور 662,000 جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔چند بڑے دریاؤں کے بند توڑ دیئے اور ڈیم گنجائش سے زیادہ بھرچکے ہیں، جس سے گھروں، کھیتوں، سڑکوں، پلوں،سکولز، ہسپتالوں اور صحت عامہ کی سہولیات سمیت اہم بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔آفات میں بچے ہمیشہ سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہوتے ہیں،اس سیلاب نے پہلے ہی بچوں اورانکے خاندانوں کو تباہ کن نقصان پہنچایا ہے،اورصورتحال مزیدبدتر ہوسکتی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں 30 فیصد آبی نظام کو نقصان پہنچاہے، جس سے لوگوں اور بچوں کوکھلی جگہوں پر رفع حاجت کرنے اور غیر محفوظ پانی پینے کی وجہ سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ حکومت پاکستان نے 30 سالہ قومی اوسط سے تقریباً تین گنااور کچھ صوبوں میں پانچ گنا زیادہ بارشوں کی وجہ سے قومی ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے اور 72 اضلاع کوآفت زدہ قراردے دیا ہے، جن میں سے بیشتر شدید ترین متاثرہ صوبوں، بلوچستان اورسندھ میں ہیں جبکہ خیبرپختونخوا اور پنجاب بھی متاثر ہوئے ہیں۔سیلاب سے تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو کافی نقصان پہنچا ہے، 19,566 اسکولوں کی عمارتیں جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں، جس سے بچوں کی تعلیم کو مزید خطرہ لاحق ہواہے۔ پنجاب میں 1180سکولز، سندھ میں 16ہزار 419 سکولز،بلوچستان میں 2 ہزار859 اسکولزجبکہ خیبرپختونخوا میں 1024 سکولز سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ جبکہ ساڑھے پانچ ہزار سکولز کی عمارتوں کو سیلاب متاثرین کی عارضی قیام گاہوں کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ تعلیمی اداروں کی یہ تعداد صرف سرکاری سکولوں کی ہے جبکہ پرائیویٹ سکولز،کمیونٹی اورمدارس کی بڑی تعداد بھی متاثر ہوئی ہے اور تخمینہ ہے کہ ملک بھر میں مجموعی طور پر 50 ہزار سکولز متاثر ہیں۔ گزشتہ سالوں میں کورونا وائرس کی وجہ سے دو برس تک سکولز کی بندش کے بعد ایک بار پھر ان متاثرہ بچوں کی پڑھائی میں 1-2 سال خلل پڑنے کا خطرہ ہے، اور وہ بھی ان علاقوں میں جہاں ایک تہائی لڑکیاں اورلڑکے موجودہ بحران سے پہلے ہی سکولزسے باہر تھے۔ تاحال سیلاب سے متاثرہ کئی علاقے ناقابل رسائی ہیں اور کچھ حصوں سے زمینی اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہے۔ بلوچستان اور سندھ میں پانی مکمل طور پر کم نہیں ہوا جہاں بارشوں کا ایک اور سلسلہ متوقع ہے اسلئے نقصان کا پورا پیمانہ اور تعمیر نو کی لاگت کا تخمینہ بڑھنے کی توقع ہے۔ پہلے ہی تعلیم کا نظام خلل کا شکار ہے اور بارہاامتحانات ملتوی کرنے پڑے ہیں لیکن اِس مرتبہ چونکہ تعلیمی اداروں کی عمارتیں ہی قابل استعمال نہیں رہیں تو اندیشہ ہے کہ کئی تعلیمی سال بحالی کے عمل کی نذر ہو جائیں۔سیلاب سے شعبہ تعلیم کو پہنچنے والے نقصانات کا ابتدائی تخمینہ 37 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ان متاثرہ علاقوں میں سیلاب سے پہلے ہی 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار تھے، یہ خطرناک انسانی بحران آئندہ دنوں میں مزید خراب ہونے کی توقع ہے کیونکہ پہلے ہی زیر آب علاقوں میں مزید تیز بارشوں کا سلسلہ جاری اور شدیدموسم سرما متوقع ہے۔ چھوٹے بچوں کو خوراک، دودھ کے ڈبوں اور کمبلوں کی ضرورت ہے۔یونیسف نے 3کروڑ 70لاکھ امریکی ڈالر کی امداد کی اپیل کی ہے تاکہ آنے والے مہینوں میں بچوں اورانکے خاندانوں تک فوری امداد پہنچائی جاسکے۔یونیسف کے چلڈرن کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق، پاکستان ایک ماحولیاتی ہاٹ سپاٹ اورایسا ملک ہے جہاں بچوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے شدید خطرات سے دوچار اور163 ممالک میں سے 14 ویں نمبر پر ہونے کی وجہ سے درجہ بندی انتہائی زیادہ خطرے سے دوچار ہے۔ جہاں بچوں کو ماحولیاتی  تبدیلی سے متعلق مہلک خطرات کے ساتھ پینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی، صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم کی کمیابی جیسے شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
2017 تک، پانی سے متعلق قدرتی آفات سے دنیا بھر میں 306 بلین امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔ 1980 اور 2016 کے درمیان، 90 فی صد قدرتی آفات آب و ہوا سے متعلق تھیں۔ 2016 میں، 31 فیصد عالمی نقصان طوفانوں کی وجہ سے ہوا، 32 فیصد سیلاب اور 10 فیصد شدید درجہ حرارت کی وجہ سے ہوا۔ دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستان سے زیادہ شدت کے ساتھ سیلاب آئے کچھ ممالک کے نتائج پاکستان جیسے ہی ہیں لیکن کئی ممالک کی اچھی منصوبہ بندی کی وجہ سے نقصانات میں کافی حد تک کمی آئی بلکہ کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں پانی کو ذخیرہ کرکے فوائد میں تبدیل کیا گیا۔سیلاب کے فوری برے اثرات کے باوجود اسکے بہت سے فوائد بھی ہیں، کسانوں اور زرعی شعبے سے وابستہ لوگوں کیلئے یہ مٹی کو غذائی اجزا فراہم اور زرعی پیداوار میں اضافہ کرتا ہے۔سیلاب سے بچاؤ کیاقدامات کامقصد بنیادی ڈھانچے کے کاموں کے ذریعے سیلابی علاقوں کے امکان کو کم کرنا ہے، جیسے کہ ڈیمزاورریزرویرز، جنہیں زیادہ ترفلڈ ڈیفنس یاساختی اقدامات کہا جاتا ہے۔سیلاب کے نتائج کو سیلاب سے نبٹنے کی تیاری کر کے بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ ان اقدامات میں سیلاب کی وارننگ سسٹم، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور انخلا کے منصوبے تیار کرنا اور سیلاب آنے پر اس کاانتظام شامل ہیں۔ افسوس پاکستان میں محکمہ موسمیات نے مئی میں سیلاب کی وارننگ دی تھی جس کی کوئی تیاری نہیں کی گئی، سیلاب آنے کے بعد خیموں کے ٹینڈرزدیئے گئے۔پاکستان میں اموات کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دریاؤں کے سوکھ جانے سے لوگوں نے دریا کے اندر اور ارد گرد گھر تعمیر کیے ہمارے انتظامی اداروں نے کوئی کارروائی نہیں کی جس وجہ سے اموات اور نقصانات میں اضافہ ہوا۔ سیلاب کے نقصانات کو کم کرنے کیلئے ڈیمزاورریزرویرز کی تعمیر کے ساتھ ندی، نالے، نہروں کی صفائی اور نئی نہروں کی تعمیر ہے جس سے سیلاب کا رخ تبدیل کرکے ان علاقوں کی طرف منتقل کرنا ہے جہاں نقصانات ہونے کے مواقع کم ہوتے ہیں۔اشد ضرورت ہے کہ نسل نو کی تعلیمی ضروریات اور سیلابی تباہی کاریوں کے ازالہ کیلئے آئینی فرض آرٹیکل 25-A کی ادائیگی کیلئے حکومت بجٹ کا کم ازکم 5% تعلیم کیلئے مختص کرے۔ 2010 اور2022 کے موجودہ سیلاب میں ہمارے مجموعی طور پر 29000 سرکاری سکولز اور31000 پرائیویٹ سکولز شدید متاثرہوئے ہیں۔قبل ازاں سندھ میں 10000 سے زائد اور ملک بھر میں 20000 سے زائد سرکاری سکول نان فنکشنل ہیں۔ہمیں 2025 تک اپنے 2.5کروڑ آوٹ آف سکولز بچوں اور سیلاب سے متاثرہ موجودہ 1.6بچوں کیلئے 2لاکھ نئے سکولزاور25لاکھ نئے اساتذہ کی بھرتی کی فوری ضرورت ہے۔پاکستان کو سسٹین ایبل میلنئیم ڈویلپمنٹ گول کے عالمی معاہدے پر2015میں دستخط کیے ہوئے سات سال ہوگئے ہیں، لیکن افسوس 18ویں آئینی ترمیم کی وجہ سے تعلیمی مرکزیت ختم اورمقاصد تاحال حاصل نا ہوسکے ہیں اور ویسے بھی ہماری سیاسی حکومتوں کی ترجیحات میں تعلیم اورمعیاری شرح خواندگی کو بڑھانے کے منصوبے شامل نہ ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ متاثرہ بچوں کی دیگرضروریات کے ساتھ پائیدار سطح پر تعلیم بحالی اور 2لاکھ نئے سکولزاور25لاکھ نئے اساتذہ کی بھرتی کو یقینی بنایا جائے۔

تبصرے بند ہیں.