آرمی چیف کی تعیناتی!

20

پاکستان کا نیا آرمی چیف کون ہو گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو آج کل ہمارے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ہی نہیں، سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ پوچھا جا رہا ہے۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے اور لوگوں کو بتانے کی کاوشیں زوروں پر ہیں عام حالات میں بھی یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے پاکستان کیونکہ ایک سکیورٹی سٹیٹ ہے جو اپنے قیام کے وقت 1947 سے دشمنوں کی بالعموم اور ہندوستان کی بالخصوص چیرہ دستیوں کا شکار رہی ہے اس لئے اسے اپنے جغرافیائی تحفظ اور استحکام کے لئے فوج، ایک مضبوط فوج کی ضرورت تھی یہی وجہ ہے کہ یہاں فوج کی اہمیت روز اول سے ہی مسلم رہی ہے۔ 1947 یا 1954 اور پھر 1958 تک سیاستدانوں کی نااہلیوں اور سول بیو روکریسی کی نظم ریاست میں ”سیاسی دھڑے“ کے طور پر مداخلت نے 1958 کے مارشل لا کی راہیں آسان کیں اور اس طرح فوج ملک کے سیاسی انتظام و انصرام میں مکمل طور پر دخیل ہو گئی۔ پھر سانحہ مشرقی پاکستان رونما ہوا۔ جنرل یحییٰ خان اور ان کے حواری جرنیلوں کی سیاست بازی اور ہوس اقتدار نے ملک دو ٹکڑوں میں تقسیم کر ڈالا۔ اس سانحے کی بنیادیں 1958 کے مارشل لا میں رکھ دی گئی تھیں 1969 تک معاملات پوائنٹ آف نوریٹرن تک جا پہنچے تھے۔ ماڈرن ورلڈ کی سیاسی تاریخ میں شاید یہ پہلا واقعہ ہو گا کہ اکثریت نے یعنی بنگالیوں نے اقلیت سے یعنی پنجابیوں / پٹھانوں سے علیحدہ ہونے کا مطالبہ کیا ہو وگرنہ ہمیشہ اقلیت لڑتی ہے اکثریت سے۔ یہاں سقوط ڈھاکہ رونما ہو گیا وقت کی سب سے بڑی مملکت پاکستان گھٹ کر ساتویں نمبر پر چلی گئی۔ بہرحال ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ اب بھی ملکی معاملات میں فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے اور آرمی چیف طاقتور ترین عہدہ ہے جس کے حوالے سے آج کل زوروشور سے گفتگو ہو رہی ہے۔ عمران خان جو ایک عرصے سے قومی معاملات میں الجھاؤ پیدا کرتے، افتراق و تفریق کو فروغ دیتے اور ملک میں افراتفری پیدا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دشنام، گالم گلوچ، الزام تراشی کے ذریعے حریفوں کو نیچا دکھانے اور ریاستی اداروں پر طنز و تشنیع کے نشتر چلانے میں مصروف ہیں ان کا کوئی سیاسی حریف ان کے شر سے محفوظ نہیں ہے وہ شریف ہوں یا زرداری، فضل الرحمن ہوں یا ق لیگ اور عوامی مسلم لیگ کی قیادت، بشمول چودھری پرویز الٰہی اور شیخ رشید، کوئی بھی ان کی بے لگام تنقید اور دشنام طرازی سے بچ نہیں سکا ہے مخالفین کو للکارنے، پکارنے اور ذلیل و رسوا کرنے کے علاوہ وہ کچھ اور نہیں کر پائے ہیں۔ وہ ابھی تو سوائے ”انکار“ اور ”مزاحمت“ کی سیاست کی آبیاری کے کچھ اور مثبت نہیں کر پائے ہیں۔ اپریل میں انہیں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ایوان اقتدار سے رخصت کیا گیا تو انہوں نے جو بیانیہ تشکیل دیا اس میں اپنے خطرناک ہونے کا ذکر بھی شامل کیا۔ گزرے 4/5 ماہ کے دوران ان کے نوتشکیل کردہ بیانیے کے اجزائے ترکیبی بدلتے رہے ہیں لیکن خطرناک ہونے کا جزو دن بدن ترقی کرتا چلا جا رہا ہے حال ہی میں انہوں نے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے بیان دے کر کنفیوژن پھیلانے اور معاملات میں فکری بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے وہ موجودہ اسمبلی کو مانتے ہی نہیں ہیں اس لئے وہاں سے بذات خود ہی علیحدگی اختیار کر چکے ہیں آرمی چیف کی تعیناتی ایک آئینی معاملہ ہے جسے کسی طور مؤخر نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن موجودہ حکومت کی طرف سے تعینات کئے جانے والے چیف کے بارے میں انہوں نے جو گل فشانی کی وہ کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہو سکتی ہے لیکن عمران خان تو اپنے طے شدہ ایجنڈے اور طریق کار کے مطابق ہر شے کو ملیامیٹ کرنے میں جتے ہوئے ہیں موجودہ چیف کو 2019 میں توسیع دینے والے عمران خان، انہیں کیا
کیا ”القابات“ دیتے رہے ہیں اب انہیں ایک بار پھر قلیل مدتی توسیع دینے کی تجویز دے کر اپنی ”سیاسی بصیرت“ کا شاہکار پیش کر دیا ہے۔ حالانکہ 9/10 اپریل 2022 میں جب عمران خان کی حکومت تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں رخصت ہوئی تو انہوں نے بہت نامناسب گوہر افشانی فرمائی جسے دیکھتے ہوئے 14 اپریل کو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل افتخار بابر نے دوٹوک الفاظ میں کہا ”میں اس بات کو ہمیشہ کے لئے طے کر دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل باجوہ نہ تو ایکسٹینشن مانگیں گے نہ ہی ایسی کوئی پیشکش کسی بھی صورت قبول کریں گے۔ وہ نومبر 2022 میں ریٹائر ہو جائیں گے“۔ گویا یہ بات طے ہو چکی ہے کہ جنرل باجوہ توسیع نہیں لیں گے۔ پھر عمران خان کی نئی حکومت کے قیام تک جنرل باجوہ کو توسیع دینے کی تجویز کو شرانگیزی نہ سمجھا جائے تو اور کیا سمجھا جانا چاہئے۔ عمران خان تسلسل کے ساتھ اس طرح کی گوہر افشانیوں کے ذریعے قومی معاملات میں ابہام اور شر پھیلانے میں مصروف ہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ ایسا ہی کچھ کرنے کے لئے مامور کئے گئے ہیں۔
اب بات کرتے ہیں ”چیف کون ہو گا“ کی۔ چیف آئین کے آرٹیکل 243(3) کے تحت وزیراعظم کی تجویز پر صدر مملکت کی طرف سے تعینات کیا جائے گا۔ آئین کے مطابق سروسز چیف اسی طریق کار کے مطابق تعینات کئے جاتے ہیں۔ گویا یہ کام وزیراعظم کا آئینی اختیار ہے۔ نومبر میں جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے وقت پاک فوج کے 4 سینئر ترین جرنیلوں کا تعلق ایک ہی بیج سے ہے جبکہ پانچواں ان چاروں سے بھی سینئر ہے۔ روایت/ طریق کار کے مطابق جی ایچ کیو 4 یا 5 سینئر ترین جرنیلوں کے نام بمع ان کے پروفائلز وزارت دفاع کو بھیجے گا۔ وزارت دفاع، مجوزہ نام وزیراعظم آفس کو روانہ کرے گی گویا وزارت دفاع کا کردار ایک ڈاک خانے کا ہو گا۔ وزیراعظم آفس میں معاملات فائنل کئے جائیں گے۔ 1972 سے تاحال محمد نوازشریف بطور وزیراعظم 5 آرمی چیفس کی تعیناتیوں کے فیصلے کر چکے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو 2016 میں نوازشریف نے ہی تعینات کیا اور وہ رواں سال نومبر کے آخری ہفتے میں ریٹائر ہو جائیں گے۔ جبکہ اسی مدت میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ بھی خالی ہو جائے گا۔ گویا دو فورسٹار جنرلز کی تعیناتی کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق جنرل آصف منیر PA نمبر کے مطابق سینئر ترین جنرل ہیں آپ آٹھ ماہ تک آئی ایس آئی کے چیف بھی رہے ہیں پھر وزیراعظم عمران خان کے اصرار پر جنرل فیض حمید کو ان کی جگہ چیف بنا دیا گیا تھا، دو سال تک کور کمانڈر گوجرانوالہ رہنے کے بعد انہیں جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل لگا دیا گیا۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا ان 4 جرنیلوں کے گروپ میں سینئر موسٹ جنرل ہیں جن کا تعلق ایک ہی بیج سے ہے۔ ہمارے ہاں ان کا نام سینئر موسٹ کے طور پر گردش کرتا رہا ہے اور کہا جاتا رہا ہے کہ اگر میرٹ پر بات ہوئی تو ساحر شمشاد ہی نئے چیف ہوں گے حالانکہ وہ سینئر موسٹ نہیں ہیں۔ ان کا تعلق سندھ رجمنٹ سے ہے۔ انہوں نے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے طور پر اپنی شاندار کارکردگی کے باعث شہرت پائی۔ جنرل راحیل شریف کے آخری 2 سال کے دوران، یہ ان کی کور ٹیم کے ممبر بھی رہے اور انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف ملٹری آپریشن کی نگرانی بھی کی۔ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بھی ان کی نگرانی میں انجام پایا۔ چینی وزیر خارجہ کے ساتھ 2021 میں ہونے والے مذاکرات میں یہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے ہم رکاب تھے۔ اکتوبر 2021 میں انہیں کور کمانڈر راولپنڈی تعینات کیا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، بھارتی امور کے ماہر ہیں آپ بطور چیف آف جنرل سٹاف، جی ایچ کیو میں آپریشنز اور انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کی نگرانی/ رہنمائی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ راولپنڈی کی ایکس کور کمانڈ کر رہے تھے جو کشمیر کے حوالے سے بھی اہم ہے اور اس کی سیاسی اہمیت بھی ہے۔ اس طرح انہیں جنرل باجوہ کا مکمل اعتماد حاصل رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے آج کل وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تعلق بھی بلوچ رجمنٹ سے ہے اور آپ بطور آئی ایس آئی چیف ملک گیر شہرت کے حامل ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل عامر حمید کا تعلق آرٹلری رجمنٹ سے ہے اور آج کل کور کمانڈر گوجرانوالہ کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
جنرل آصف منیر سے لے کر جنرل عامر حمید تک چھ لیفٹیننٹ جنرلز میں سے ہی چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی بھی تعین کیا جائے گا اور انہی جرنیلوں میں سے کسی ایک کو جنرل باجوہ کی جگہ پر نیا چیف آف آرمی تعین کیا جائے گا۔ عمران خان چاہے جتنا مرضی شور مچاتے رہیں شہباز شریف کی قیادت میں قائم اتحاد کی حکومت آئینی ہے اور وہی آئینی فیصلے کرنے کی مجاز ہے آئینی فیصلے مؤخر نہیں کئے جا سکتے ہیں جیسا کہ عمران خان نے تجویز دی ہے کہ تھوڑی مدت کے لئے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دی جائے اور نئے آرمی چیف کی تعیناتی کو نئی منتخب حکومت کے قیام تک مؤخر کر دیا جائے نئے آرمی چیف کا فیصلہ آئین کے مطابق ہو گا اور شہباز شریف ہی یہ فیصلہ کریں گے کیونکہ وہی آئینی وزیراعظم ہیں۔ باقی عمران خان تو ایسے ہی چلتے پھرتے اور بولتے رہیں گے۔

تبصرے بند ہیں.