سیلاب میں فلاحی تنظیموں کا کردار

117

سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں ابھی یہ دن وطن عزیز کے ووٹروں اور 4 کروڑ کے قریب عزیز ہم وطنوں پر بہت گراں ہیں جب سیلاب کی آفت لوٹ جائے گی پھر اس کے نتائج اور بعد کی صورت حال اپنی مثال آپ ہو گی۔ جنگ عظیم اول اور دوئم میں طاعون کی بیماری کے پھوٹنے کے زمانے جن ممالک پر وارد ہوئے ان کے عوام کئی سال اس کے نتائج میں مبتلا رہے۔ وطن عزیز کے عوام کی اللہ خیر کرے۔ سرور فاؤنڈیشن کے چیئرمین چودھری محمد سرور سابق گورنر کی غیر موجودگی میں ان کی اہلیہ وائس چیئرپرسن پروین سرور نے سیلاب زدگان کی مدد کے علاوہ دیگر پہلے سے جاری فلاحی کام بھی جاری رکھے۔ اگلے روز تقریباً چودہ فلاحی تنظیموں کی طرف سے آگاہی سیمینار میں شرکت اس لیے کی کہ مجھے بھی مدعو کیا گیا اس بات کا بہت صدمہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ملک و قوم پر قیامت صغریٰ بیت گئی مگر قوم تقسیم ہے۔ ارباب اختیار کی جانب سے وفاقی حکومت، پاک فوج اور سندھ حکومت سیلاب زدگان کے ساتھ نظر آئے، ان کی مدد میں پیش پیش دیکھے گئے یا پھر فلاحی تنظیمیں ہیں جن میں سرور فاؤنڈیشن، الخدمت فاؤنڈیشن، کسٹم ہیلتھ کیئر سوسائٹی (ڈاکٹر آصف محمود جاہ، وفاقی ٹیکس محتسب ستارہ امتیاز، ہلال امتیار) ایدھی فاؤنڈیشن، ایل آئی ایچ ایس، اسلامی ایڈ، مسلم ایڈ و دیگر این جی اوز شامل ہیں 52 کے قریب تو سرور فاؤنڈیشن کے ساتھ پاک فوج کے ذریعے امدادی سرگرمیوں میں شامل ہیں ویسے مجموعی طور سیکڑوں تنظیمیں ہیں مگر اس وقت میدان عمل میں 15/20 تنظیمیں نمایاں ترین نظر آتی ہیں۔ سیمینار بنیادی طور پر سیلاب کی تباہ کاریوں اور امدادی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی اور مدد کی ترغیب کے لیے تھا جس میں چودھری سرور، ڈاکٹر امجد ثاقب کے علاوہ دیگر لوگوں کے خیالات سے خوش آئند حیرت ہوئی کہ وطن عزیز میں مشکل گھڑیوں میں قوم کا درد رکھنے والے لوگ ابھی بھی موجود ہیں۔ چودھری سرور نے اپنے خطاب میں بتایا کہ سرور فاؤنڈیشن اب تک 1 ارب روپے کی لاگت سے تقریباً سوا لاکھ سیلاب متاثرہ خاندانوں کو امدادی راشن فراہم کر چکی ہے۔ حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کو مزید  متحرک ہونا چاہئے جس طرح یہ چیلنج تقاضہ کرتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں سیاست اور دیگر سرگرمیوں کو پس پشت ڈال کر متاثرہ افراد کی بحالی اور مدد کیلئے موثر ایکشن پلان کو عملی شکل دیں۔ پاکستان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کا بنیادی مقصد صرف اور صرف فلاحی سرگرمیوں کو مربوط انداز میں موثر طریقے سے لے کر چلنا ہے۔ پاکستان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے قیام کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ تمام جماعتوں اور تنظیموں کی فلاحی سرگرمیوں کو اجتماعی شکل دی جائے۔ ہم ہر اس ادارے کی سپورٹ کر رہے ہیں جو سیلاب متاثرین کی مدد و بحالی میں
موثر اور مخلصانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ سرور فاؤنڈیشن اور پی ڈی این کا ہدف ڈیڑھ لاکھ متاثرہ خاندانوں کو راشن فراہم کرنا تھا جس میں سے تقریباً سوا لاکھ خاندانوں کو راشن فراہم کیا جا چکا ہے۔ چودھری سرور نے ورکرز کا شکریہ ادا کیا اور ایک انتہائی قابل ذکر بات کی کہ تاریخ میں پہلی بار ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اس وقت حکومت میں ہیں جیسا کہ وفاق میں پی ڈی ایم، سندھ میں پیپلز پارٹی، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان میں پی ٹی آئی اپنے اتحادیوں کے ساتھ حکومت میں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد غالباً یہ تھا کہ حکومتی ذرائع اور سیاسی ورکرز کی مدد سے اتنے بڑے چیلنج سے نمٹنا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ وہاں سوال و جواب کا سلسلہ بھی ہوا۔ سٹیج پر بیٹھے ایک مدبر جو ایک این جی او بھی چلاتے ہیں نے کسی سوال کے جواب میں بتایا کہ سیلاب کی تباہ کاری اور صورت حال میں انسانی غلطی یا کوتاہی کا عمل صرف ایک فیصد ہے باقی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہے جو علاقے دہائیوں سے بارش کی بوند بوند کو ترستے تھے قحط سالی جس کے لیے نئی نہیں تھی وہاں بھی پانی ہی پانی نظر آنے لگا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سمیمینار میں امریکی اور دیگر ممالک سے چند نوجوانوں میں سے ایک نے کہا کہ امریکہ میں انڈین ڈاکٹرز ہیں وہ مدد کرنا چاہتے ہیں، اس کا کیا طریقہ ہے؟ کچھ اور لوگوں نے بتایا کہ بیرون ممالک میں بسنے والے پاکستانی مدد کرنا چاہتے ہیں مگر ان کو کسی بھروسہ والی NGO کا علم نہیں حالانکہ وہاں پر 7 کے قریب برطانوی  Uk Based این جی اوز بھی شریک تھیں شاید ان کے علم میں نہ ہو۔ میں اس بات کا خود گواہ ہوں کہ مجھے کینیڈا سے میرے دوست جناب بابر ایوب، پیرس سے ملک منیر احمد، امریکہ سے روحانی شخصیت محترمہ تسنیم مالک نے فون کیا کہ ہم اور ہمارے دوست وطن عزیز میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں ہمیں کوئی ادارہ بتائیں چونکہ میرا اپنا تعلق نہیں ہے میں صرف جناب ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی این جی او کسٹم ہیلتھ کیئر کو جانتا ہوں، لہٰذا میں نے ان کا رابطہ دے دیا ان کی خدمات کا سلسلہ لا متناہی ہے۔ باقی ایدھی فاؤنڈیشن اور الخدمت یا سرور فاؤنڈیشن کو لوگ پہلے ہی جانتے ہیں۔ بیرون ممالک پاکستانی اب خدمت، مدد اور چندہ کے معاملے میں ایک مخصوص شخصیت جو غیر سیاسی سیاستدان ہے، پر شاید پہلے جیسا اعتماد نہیں کرتے۔ خدمت خلق اللہ کریم کی خوشنودی اور انسانوں کے چہروں پر خوشی دیکھنے، ان کو مصیبت سے باہر نکالنے کے لیے ہو تو اس کا اطمینان اور نتائج مثبت ہوا کرتے ہیں اور اگر اس کی بنیاد پر سیاست کرنا ہو یا اجر میں ووٹ مانگنا ہو تو اجر دنیا میں مل سکتا ہے مگر برکات سے خالی۔ ملک میں 80 فیصد پانی اور سندھ 90 فیصد سے زائد سیلاب برد ہے مگر ایک غیر سیاسی سیاستدان جہاں جگہ ملے جلسہ کرنے کے درپے ہے۔ خدارا! چند ماہ سیاست چھوڑ کر ذاتی مفاد بالائے طاق رکھ کر عوامی خدمت اور سیلاب زدگان کے دکھوں کا ازالہ بنیں۔ اگر بے حسی، خود غرضی کا یہی عالم رہا تو پھر ہماری تاریخ ہم نہیں کوئی اور لکھے گا۔
قابل ذکر امر ہے کہ محترمہ رابیعہ ضیا نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض خوبصورتی سے نبھائے اور شرکاو مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ ان کا ادارہ اخوت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس اور دو وقت کا کھانا کھلانے کے علاؤہ کیش تقسیم کی صورت میں بھی متاثرین کی مدد کر رہا ہے جبکہ اس سلسلے کو مزید وسیع بھی کیا جا رہا ہے۔  اس موقع پر چوہدری سرور نے اوورسیز پاکستانیوں کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ اوور سیز پاکستانیوں کا کردار ہر چیلنج سے نبٹنے میں نمایاں رہا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی اوور سیز پاکستانی فلاحی اداروں کے اہم معاونین کے طور پر سامنے آئے ہیں جو کہ انتہائی حوصلہ افزا امر ہے۔ مجھے ایک احساس سے دکھ بھی ہوا کہ بعض این جی اوز خدمت خلق نہیں شاید حکومت کو نیچا دکھانے کے لئے عمل میں ہیں حالانکہ اس میں سیاسی فوائد، وابستگی اور سکورنگ کا شائبہ تک نہیں ہونا چاہئے البتہ چودھری محمد سرور اور ڈاکٹر امجد ثاقب کے شفافیت پر مبنی طرز عمل سے محسوس ہوا کہ وہ سیاست سے بالاتر ہو کر کام کر رہے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.