سیلاب…… مربوط کوششوں کی ضرورت ہے!

13

سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔سرکاری اور غیر سرکاری زرائع سے سیلاب متاثرین کے لئے امدادی سرگرمیاں بھی ہو رہی ہیں۔ گزشتہ کالموں میں بھی عرض کیا تھا کہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ہونے والا نقصان اس قدر زیادہ ہے کہ اسکا ازالہ کرنا کسی حکومت یا تنظیم کے بس کی بات نہیں ہے۔ جانی نقصان تو خیر ناقابل تلافی ہے۔ البتہ مالی نقصان کو کسی نہ کسی حد تک پورا کیا جا سکتا ہے۔ ابھی تک تیس ارب ڈالر نقصان کا تخمینہ سامنے آیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہماری وفاقی اور تمام صوبائی حکومتیں، دینی اور رفاعی تنظیمیں مل کر بھی اس نقصان کا ازالہ کرنے کی سکت نہیں رکھتیں۔ایک تو ہماری معاشی حالت انتہائی نازک ہے۔ ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ معیشت کی نبض جاری رکھنے کے لئے ہم ادھر ادھر سے قرض مانگتے پھرتے ہیں۔ ہماری حکومتیں بھی انتہائی محدود وسائل کی حامل ہیں۔ ان حالات میں ہم اربوں ڈالر کہاں سے لائیں؟ حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو  اس قدر بڑے پیمانے پر آنے والی آفت کسی بھی ترقی پذیر ملک میں نازل ہو تواس ملک کا یہی حال ہوگا جو اس وقت پاکستان کا ہے۔ ہماری حکومت اس آفت سے بنٹنے کیلئے ہاتھ پاوں مار رہی ہے۔ حکومت پاکستان نے دوست ممالک سے امداد کی اپیل کی ہے۔ مختلف ممالک سے امداد موصول ہوئی بھی ہے۔ مگر یہ امداد بھی ناکافی ہے۔
یقینا دوست ممالک بھی ہمیں امداد بھجواتے ہوئے مختلف پہلوؤں پر غور کرتے ہوں گے۔ یہ بات ہمیں اچھی لگے یا بری، دنیا میں ہماری ساکھ کچھ خاص اچھی نہیں ہے۔ 2010 کے سیلاب میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی بیوی نے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے اپنا قیمتی ہار عطیہ کیا تھا۔ اس ہار پر جو بیتی اس کے بارے میں ہم آگاہ ہیں۔ گر ہم یہ قصہ جانتے ہیں تو یقینا دوسرے ممالک کوبھی معلوم ہو گا۔ ماضی میں امدادی رقوم میں خورد برد کے کئی واقعات سامنے آئے۔ ہم تو خیر دوست ملک کے شہزادے کی طرف سے تحفے میں ملنے والی گھڑی فروخت کر کے رقم جیب میں ڈال لیتے ہیں۔ ان حرکتوں کے بعد دنیا ہم پر کیسے اعتبار کرئے گی؟ ہمارا یہی رویہ ہماری راہ کی رکاوٹ ہے۔
عوامی سطح پر بھی ایسے رویے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی دیکھیے کہ سیلاب متاثرین بے سرو سامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے رات دن بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کیلئے خیمہ بستیاں بسانا پڑیں۔ خیموں کی اشد ضرورت کے پیش نظر دکانداروں اور کاروباری حضرات نے خیموں کی قیمتیں کئی گنا بڑھا دیں۔آٹے، چاول، دودھ کی ضرورت ہو تو اس کو مہنگا کر دیا جاتا ہے۔ یہی حال دیگر اشیائے ضروریہ کا ہے۔ جب معلوم ہوتا ہے کہ کسی شے کی ضرورت ہے تو اس کی قیمتیں راتوں رات کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ایک طرف کاروباری حضرات کو خوف خدا نہیں ہے۔ دوسری طرف حکومت بھی پوری قوت سے بروئے کار آنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔
اس منفی رویے کے باوجود پاکستانی قوم صدقات اور عطیات دینے کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے۔ کوئی مصیبت ہو، کوئی قدرتی آفت ہو، کوئی امدادی سرگرمی ہو، قوم دل کھول کر اس میں حصہ لیتی ہے۔ کچھ برس سے لیکن عوام بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ اس کی ایک وجہ مہنگائی ہے۔حد سے بڑھی ہوئی مہنگائی کے باعث متمول خاندان بھی آسودگی سے محروم ہو چلے ہیں۔ درمیانے درجے کے اہل خیر جو اپنی محدود تنخواہ یا آمدنی میں سے عطیات کیا کرتے تھے، مہنگائی نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ وہ بجلی گیس، پانی کے بل دیں۔ علاج معالجے کا بندوبست کریں، بچوں کی تعلیم کا خرچ برداشت کریں، یا عطیات خیرات دیتے پھریں؟
دوسری وجہ یہ ہے کہ عوام کو یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ نجانے ان کے صدقات، خیرات اور عطیات حقداروں تک پہنچتے بھی ہیں یا نہیں۔ لہذا وہ ہر ادارے اور تنظیم پر آنکھیں بند کر کے اعتبار کرنے سے قاصر ہیں۔ کچھ سال سے سیاست دانوں نے چور ڈاکو کی جو گردان شروع کر رکھی ہے اس نے بھی عوام کے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے۔ لازم ہے کہ امدادی رقوم حاصل کرنے والی تمام جماعتیں،  ادارے اور تنظیمیں شفافیت کے حوالے سے عوام کو مطمین کریں۔ سیاسی جماعتوں کی مثال لے لیجئے۔ سیلاب کے ہنگام کم وبیش تمام سیاسی جماعتیں امداداکھٹی کر رہی ہیں۔ تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ اس نے کروڑوں اربوں روپے جمع کر لئے ہیں۔ جماعت اسلامی، تحریک لبیک یا رسول اللہ اور دیگر بھی رقوم جمع کرنے کی دعوایدار ہیں۔ ہر ایک جماعت یا تنظیم کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ یہ عطیات اپنے طور پر خرچ کرئے۔ ہوتا بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن کتنی رقوم اکھٹی ہوئیں۔ یہ رقوم کہاں خرچ ہوئیں اس کی کوئی خاص تفصیلات کم ہی سامنے آتی ہیں۔ اس ضمن میں جماعت اسلامی کا ایک ٹریک ریکارڈ ہے۔ یہ جماعت خدمت خلق کے کاموں میں پیش پیش ہوتی ہے۔
جماعت کی تنظیم الخدمت کا انتظامی ڈھانچہ بھی خاصا مضبوط ہیں۔ جماعت خدمت خلق کے کام بخوبی کر سکتی ہے۔ دیگر جماعتیں بشمول مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف امداد تقسیم کرنے کے حوالے سے کوئی انفراسٹرکچر نہیں رکھتیں۔  کیا یہ اچھا نہ ہو کہ بہت اچھا ہو کہ مصیبت کے ہنگام امداد جمع کرنے اور بانٹنے، اور شفافیت یقینی بنانے کے حوالے سے کوئی مر کزی نظام وضع کر لیا جائے۔کم از کم کوئی مشترکہ لائحہ عمل ہی طے کر لیا جائے۔ تمام رقوم اور اشیائے ضروریہ ایک جگہ اکھٹی ہوں۔ دیکھا جائے کہ فلاں شہر، فلاں گاوں، فلاں علاقے میں امداد کی زیادہ ضرورت ہے۔فلاں جگہ پر ادویات کی ضرورت ہے۔ فلاں جگہ پر کپڑوں، راشن کی فراہمی درکار ہے۔ فلاں جگہ حاملہ خواتین اور شیر خوار بچوں کی امداد ضروری ہے۔مشکل یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر ایک ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانا چاہتا ہے۔مصیبت کی گھڑی میں بھی باہمی اختلافات کو بالائے طاق نہیں رکھا جاتا۔
اب یہی دیکھیے کہ چند ہفتوں کے بعد سردیوں کا موسم شروع ہو جائے گا۔ متاثرین سیلاب کو سردموسم سے بچنے کے لئے کمبل، گرم کپڑے، وغیرہ درکار ہونگے۔ نجانے اس کیلئے کوئی منصوبہ بندی ہو رہی ہے یا نہیں۔ اس مرحلے سے نکلنے کے بعد سیلاب متاثرین کی آبادکاری کا مسئلہ درپیش ہو گا۔ وہ ایک نہایت مشکل کام ہوتا ہے۔ ہماری حالت یہ ہے کہ مظفر آباد میں آنے والے زلزلے کو 17 برس بیت چکے ہیں۔ ابھی تک ہم تمام زلزلہ متاثرین کی آباد کاری یقینی نہیں بنا سکے۔ یہ ایک اہم موضوع پر غور ہونا چاہیے ہے۔ مگر یہاں غور وفکر کرنے کی فرصت کسے ہے؟ مشکل کی اس گھڑی میں سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے، لیکن ارباب اختیار باہمی جھگڑوں میں الجھے ہوئے ہیں۔کوئی کرسی حاصل کرنے کے لئے مرا جا رہا ہے۔ کوئی کرسی بچانے کیلئے ہاتھ پاوں مار رہا ہے۔ کاش ہم غور کریں کہ اس نازک وقت میں ہم اس وقت کن کھیل تماشوں میں الجھے ہوئے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.