سپریم کورٹ کا پاکستان میں بھارتی جاسوس کو 10 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم 

227

 

نئی دہلی : بھارت کی سپریم کورٹ نے حکومت کو پاکستان میں بھارت کیلئے جاسوسی کرنے والے شخص کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے  ۔ محمود انصاری کا کہنا ہے کہ انھیں 1970 کی دہائی میں انڈیا کی ایک خفیہ ایجنسی نے جاسوسی کی غرض سے پاکستان بھیجا تھا جہاں وہ پکڑے گئے اور انھیں جاسوسی کے الزام میں 14 سال قید کی سزا سُنائی گئی۔

 

بھارتی سپریم کورٹ نے اس کیس کو ’عجیب حقائق اور حالات‘ پر مبنی قرار دیتے ہوئے محمود انصاری کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم تو دیا لیکن اپنے فیصلے میں عدالت نے محمود انصاری کے بھارتی جاسوس ہونے اور جاسوسی کی غرض سے پاکستان مشن پر جانے کے دعوے کو قبول کرنے سے گریز کیا۔ محمود انصاری کا تعلق انڈیا کی ریاست راجستھان کے شہر کوٹا سے ہے۔

 

اس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) وکرم جیت بنرجی نے اِس بات پر زور دیا تھا کہ انڈین حکومت کا انصاری سے کوئی لینا دینا نہیں۔

 

محمود انصاری کے وکیل سمر وجے سنگھ نے کہا کہ اس ضمن میں تمام تر ثبوت جیسا کہ محکمہ ڈاک، سپیشل بیورو آف انٹیلیجینس اور محمود انصاری کے درمیان تمام تر رابطوں کی تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کیں جس سے ثابت ہوا کہ انصاری نے سپیشل بیورو آف انٹیلیجینس کے لیے کام کیا اور اِسی بنیاد پر انھیں معاوضہ ادا کرنے کے احکامات جاری ہوئے۔ کیس کی سماعت انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

 

انھوں نے مزید بتایا کہ ان دستاویزات کی بنیاد پر عدالت کا مؤقف تھا کہ ’ہاں، وہ جاسوس تھے لیکن یہ حکومتی پالیسی ہے کہ ہم انھیں براہ راست یہ نہیں کہہ سکتے۔ لہٰذا جس طرح حکومت نے ان کی ذمہ داری لینے سے انکار کیا، ہم بھی ان کے دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.