سیلاب میں گھری خواتین!

13

پچھلے کئی ہفتوں سے سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ اس آفت سے متاثر ہونے والے لاکھوں شہری بے سرو سامانی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جب بھی اس طرح کی آفتیں نازل ہوتی ہیں، ہر عمر اور صنف کے افراد بلا تفریق اس کا نشانہ بنتے ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہنگامی حالات سب سے زیادہ بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو متاثر کرتے ہیں۔ وجہ نہایت سادہ ہے۔ جوانوں کے مقابلے میں،بچے اور بوڑھے جسمانی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔ بچے اپنی کم عمری کی وجہ سے اور بوڑھے عمر رسیدگی کے باعث دوسروں کے سہارے اور مدد کے محتاج ہوتے ہیں۔یہی معاملہ خواتین کو بھی درپیش ہوتا ہے۔صنف نازک ہونے کے باعث انہیں بھی اکثر و بیشتر مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔  صنف کی وجہ سے خواتین کوکچھ مخصوص مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مثال کے طور پر، خوارک، ادویات وغیرہ کیساتھ ساتھ انہیں تحفظ کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں قدرتی آفات کے حوالے سے ہونے والی مختلف تحقیقی رپورٹس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ خواتین کے مسائل مردوں کی نسبت کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ لہٰذا آفات کے ہنگام ان کے لئے خصوصی اقدامات ہونے چاہییں۔ اس وقت ہمارے سیلابی علاقوں میں بھی اس قسم کی صورتحال ہے۔مختلف زرائع سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بارشوں اور سیلا ب سے ہونے والی ہلاکتوں میں ایک بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے۔ بزرگ متاثرین سیلاب کو بھی خصوصی توجہ نہ ہونے کے باعث مشکلات درپیش ہیں۔ یہی حال خواتین کا بھی ہے۔ اپنی صنف کی وجہ سے وہ بھی مخصوص قسم کے مسائل سے دوچار ہیں۔
گزشتہ کئی ہفتوں سے سیلاب میں گھری حاملہ خواتین کے حوالے سے رپورٹس سامنے آرہی ہیں۔ میں نے گزشتہ کالموں میں اس حساس صورتحال کا ذکر کیا تھا۔ کچھ اعداد و شمار بھی نقل کئے تھے۔ اطلاعات ہیں کہ اس وقت سیلاب میں گھری کم و بیش سات لاکھ خواتین حاملہ ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ستر ہزار خواتین ایسی ہیں جو زچگی کے بالکل قریب ہیں۔بہت سے بچوں کی پیدائش ہو بھی چکی ہے۔ اندازہ کیجئے کہ یہ خواتین کس مشکل سے دوچار ہو نگی۔ جو خواتین بچہ جننے کے عمل سے گزر چکی ہیں، وہ سیلاب میں گھری ان حاملہ خواتین کی جسمانی اور نفسیاتی کیفیت کا بخوبی اندازہ لگا سکتی ہیں۔ خواتین کی یہ حالت خصوصی توجہ کی متقاضی ہوتی ہے۔ مناسب خوراک اور لباس کے ساتھ گھر کی چھت اور چار دیواری سے محروم یہ خواتین یقینا نہایت مشکل صورتحال سے دوچار ہونگی۔نہایت افسوس کی بات ہے کہ قیامت خیز سیلاب کے دوران بھی جنسی زیادتی اور ہراساں کرنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ 2005 کے زلزلے میں بھی خواتین کے خلاف جنسی جرائم کے بہت سے واقعات رونما ہوئے تھے۔ مشرف حکومت کو بہت توجہ اور کاوش کے بعد ان پر قابو پا سکی تھی۔ سیلاب میں گھری خواتین کو یہ مسائل بھی درپیش ہوں گے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیلاب متاثرین کی امداد اور دل جوئی کی مقدور بھر کوششیں کر رہی ہیں۔مختلف سماجی، فلاحی اور دینی تنظیمیں بھی امدادی کاروائیوں میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ لیکن ہم اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ہماری حکومتیں محدود وسائل کی حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر کاوشوں کے باوجود ابھی تک تمام متاثرین سیلاب کو خوارک، لباس اور گھرکی چھت جیسی بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں آ سکی ہیں۔
ایک غیر سرکاری تنظیم پاپولیشن کونسل کی بھی ایک رپورٹ میری نگاہ سے گزری۔ یہ رپورٹ صوبہ پنجاب سے متعلق ہے۔ رپورٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صوبہ پنجاب میں ایک لاکھ دس ہزار حاملہ خواتین کوفوری طور پر بچے کی پیدائش سے پہلے، دوران پیدائش اور پیدائش کے بعد مطلوب علاج معالجہ اورحفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں خواتین کے ساتھ ساتھ بچوں اور بوڑھوں کا بھی تذکرہ ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پنجا ب کے سیلابی علاقوں میں اس وقت پانچ سال سے کم عمر 9 لاکھ 40 ہزار بچے موجود ہیں۔ جبکہ 65 سال سے زیادہ عمر کے 2 لاکھ20 ہزار افراد کو سیلاب کا سامنا ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان حاملہ خواتین، بچوں اور بوڑھوں پر کیا بیت رہی ہوگی۔
سیلاب سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کا ازالہ کرنا ہماری سکت سے باہر ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این۔ڈی۔ایم۔اے) کے اعداد و شمار کے مطابق سیلاب کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ تقریباً تیس ارب ڈالر ہے۔اس آفت میں ابھی تک پندرہ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تیرہ سو کے قریب افراد زخمی ہیں۔ سترہ لاکھ گھروں کو مکمل یا جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ اس قدر بھاری بھرکم نقصان کی زد پاکستان کی کمزور معیشت پر پڑے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے جی۔ڈی۔پی کے مزید گرنے کا امکان ہے۔سیلاب میں فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔لہٰذا آنے والے دنوں میں خوراک کی قلت کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان کا دورہ کر کے سیلاب کی تباہ کاریوں کا جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ پاکستان میں آنے والے اس سیلاب کے نقصانات برداشت کرنا پاکستان کے بس کی بات نہیں ہے۔ لہٰذا عالمی برادری پاکستان کی مدد کرئے۔ہمارا میڈیا باقاعدگی سے  سیلاب زدگان کے حوالے سے خبریں اور تبصرے پیش کر رہا ہے۔ میڈیا کا کردار یقینا بہت اہم ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ سیاست دانوں کے باہمی لڑائی جھگڑے بھی جاری ہیں۔ لہٰذا میڈیا کا زیادہ تر وقت سیاسی خبروں اور تبصروں کی نذر ہو جاتا ہے۔ آفت کی یہ گھڑی تقاضا کرتی ہے کہ اس وقت ہم اپنے باہمی اختلافات بھلا کر سیلاب متاثرین کی امداد میں مشغول ہو جائیں۔لیکن ہم سیاسی کھیل تماشوں میں الجھے ہوئے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.