منفی سیاسی بیانیہ

14

عمران خان کا منفی بیانیہ پاکستانی قوم اور اداروں کے لیے آئے روز تشویش اور اضطراب کا سبب بنتا چلا آ رہا ہے مگر اتوار کے روز فیصل آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے جس طرح پاک فوج کے سربراہ کی تقرری کے عمل پر رائے زنی کی وہ پرلے درجے کی بے احتیاطی اور ریاستِ پاکستان کے مفادات اور اداروں کی ساکھ کے منافی تھی۔ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر رہنے والی شخصیات اپنے عہدے کی مدت گزار کر بھی بعض ذمہ داریوں کا بار اٹھاتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنے زبان و بیان یا کردار و عمل میں ایسی بے احتیاطی کا ارتکاب نہیں کرتیں جو ریاست کے وقار اور اداروں کی ساکھ کو متاثر کرنے کا سبب بنے مگر ہمارے یہ سابق وزیراعظم آئینی طریقہ کار کے مطابق جب سے اپنے عہدے سے الگ ہٹائے گئے ہیں یہ پانچواں مہینہ جاتا ہے کہ اس دوران بار بار ایسی گفتگو کر چکے ہیں جو ریاست کے آئینی اداروں کے لیے ہتک آمیز ہے۔ اس حجت لاطائل کی تازہ ترین مثال خان صاحب کے پاک فوج کے سربراہ کی تقرری کے عمل پر بیانات ہیں جنہیں پاک فوج نے ہتک آمیز اور انتہائی غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اس پر شدید غم و غصے کا اظہا ر کیا ہے۔ ایک ایسے شخص جو ملک کا وزیراعظم رہ چکا ہے کی جانب سے اس قسم کے الزامات ریاستی اداروں کی ساکھ متاثر کرنے کی ایسی سازش ہے جس سے صرفِ نظر ممکن نہیں۔ خان صاحب کے اس منفی بیان پر پاک فوج عدلیہ سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے جو ردعمل آیا ہے منطقی ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے یہ ریمارکس اس تشویشناک صورتِ حال کی بہتر عکاسی کرتے ہیں کہ سیاسی لڑائی میں کیا آپ سب کچھ داؤ پر لگا دیں گے؟ ملک کی پون صدی کی تاریخ سیاسی کشمکش سے بھری پڑی ہے مگر ماضی کے سیاسی رہنماؤں کو کم از کم اتنی سوجھ بوجھ تو تھی کہ آپسی لڑائیوں میں ریاست اور اداروں کو روندنے سے گریز کرتے تھے نئے دور کی سیاست اس صفت سے بھی تہی دکھائی دیتی ہے۔ یہ صورتحال ایک قومی المیہ ہے اس لحاظ سے کہ ریاستی اداروں کو نامناسب انداز سے ہدفِ تنقید بنانے کا نتیجہ اداروں کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہے یہ بے احتیاطی سیاسی اعتبار
سے بھی نقصان دہ ہو گی کیونکہ قومیں ایک عرصے میں کسی شخصیت کو سیاسی ذمہ داریاں ادا کرنے کی سطح پر لے کر آتی ہیں مگر بلند ترین منصب پر پہنچ کر بھی کوئی قومی مفادات کے شعور سے بے بہرہ ہونے کا ثبوت دے تو افسوس ہوتا ہے۔ عمران خان صاحب کو اڑھائی تین عشرے کا سیاسی کیریئر اس مقام پر لے کر آیا کہ قوم نے انہیں متبادل قیادت کے طور پر دیکھا، ان سے امیدیں قائم کیں، ان پر اعتماد کیا وزیر اعظم کے منصب تک پہنچایا مگر یہ دیکھ کر اکثریت حیرت میں ہے کہ اقتدار سے محرومی کے پانچ ماہ کے دوران شاید کوئی ہفتہ ایسا نہیں گیا جب ریاست کے آئینی ادارے خان صاحب کی زد پر نہیں آئے۔ ابھی جج صاحبان کو دھمکیاں لگانے اور عدالت کی توہین کے مقدمات کی سیاہی خشک نہیں ہوئی کہ سابق وزیر اعظم نے پاک فوج کے سربراہ کی تقرری کے عمل پر بے جا بیان بازی کر دی۔ پہلے تولو پھر بولو کا محاورہ یوں تو ہر فرد کے لیے رہنما اصول ہے مگر ایک عامی کے مقابلے میں ایک رہنما کی ذمہ داریاں چونکہ زیادہ ہیں؛چنانچہ انہیں بول چال میں خصوصی احتیاط ملحوظِ خاطر رکھنی چاہیے۔ یہ ایسی باتیں ہیں کہ رہنما قوموں کو سکھاتے ہیں بد قسمتی سے یہاں قوم اپنے رہنما کو سکھانے پر مجبور ہوئی ہے۔ قحط الرجالی کی یہ بھی ایک صورت ہے۔ مگر اس پر افسوس کافی نہیں اصلاحِ احوال کی قانونی اور اخلاقی کوششیں درکار ہیں۔ اس سلسلے میں خود عوام پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جمہوری نظام میں وہی طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ اگر عوام اپنے رہنماؤں کا محاسبہ کرنے کی اہلیت حاصل کرلیں آنکھیں بند کر کے پیروی کی غلامانہ روش اور شخصی رومانیت کے سحر سے نکلیں جمہوریت کی روح کو پہچانیں تو رہنمائی کے عہدوں سے بے احتیاطی کا تسلسل رُکنے کی امید بھی کی جاسکتی ہے۔ آج کے دور کا فرد سوشل میڈیا اور اظہار کے گوناگوں دیگر وسائل کی بدولت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ اختیارات اور طاقت کا حامل ہے۔ ضروری ہے کہ یہ عوامی قوت ریاست کے وقار ساکھ اور عزت میں اضافے کے لیے بروئے کار آئے اور ریاست ادارے اور عوام کی جڑت مضبوط ہو۔ آج یومِ دفاع ہے جو ہمارے ذہنوں میں یہ خیال تازہ کرتا ہے کہ وطن کو ہر طرح کی جارحیت سے محفوظ رکھ کر ہی شہریوں کے لیے محفوظ ماحول تخلیق کیا جاسکتا۔ اس ضمن میں داخلی اور خارجی ہر دو نوعیت کے خطرات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ مضبوط دفاعی ادارے ہی مضبوط قوم کی ضمانت ہیں فی زمانہ اس حقیقت کی توضیح کے لیے اَن گنت شہادتیں پیش کی جا سکتی ہیں ایک شہادت یہ بھی ہے کہ قوم جب کسی ناگہانی مصیبت میں گرفتار ہوتی ہے تو سب سے پہلے دفاعی ادارے ہی دکھی انسانیت کا آسرا بنتے ہیں۔ سیلاب کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کے دفاعی اداروں کی قابلِ ستائش خدمات قوم کے سامنے ہیں اور اس یوم دفاع پر حقیقی معنوں میں پاکستانی قوم پہ یہ واضح ہوا کہ جنگ ہو یا امن افواجِ پاکستان اپنی قوم کے تحفظ کے لیے ہر دم مستعد ہیں۔
پاکستان کی موجودہ سیاست کو دیکھا جائے تو ان دنوں سیاسی درجہ حرارت میں بہت اضافہ ہو چکا ہے اور سیاسی مخاصمت بہت بڑھ گئی ہے۔ اس ماحول میں باہمی رواداری کا فروغ وقت کی اہم ضرورت اور قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی سیاسی عدم رواداری پر کئی حلقے تشویش کا شکار ہیں۔ ان کو خدشہ ہے کہ اگر سیاستدانوں نے بروقت مداخلت کر کے اپنے کارکنان کی تربیت نہیں کی تو ملک میں سیاسی عدم رواداری اپنے عروج پر پہنچ جائے گی۔ یاد رکھیں اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہوتا ہے لیکن اختلاف رائے کی آڑ میں اخلاقیات کا دامن ہمیں نہیں چھوڑنا چاہیے۔ بحیثیت مسلمان، ہمارا دین بھی ہمیں باہمی روا داری اور صبر و تحمل کا درس دیتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ایک رہنما اپنے پیروکاروں کے لیے باپ کی سی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ کون سا باپ ہو گا جو اولاد کو اس کے حقوق تو بتاتا ہے لیکن اسے اس کے فرائض نہیں بتاتا۔ حقوق کا مطالبہ تب ہی کیا جا سکتا ہے جب فرائض پورے کیے ہوں۔ ان کارکنان کی تربیت سیاسی قائدین کے ذمے ہوتی ہے، وقت کی اہم ضرورت ہے کہ سیاسی قائدین یہ سمجھ لیں۔ ورنہ مخالفین تو جو نقصان پہنچائیں گے پہنچائیں گے ہی یہ کارکن ہی انھیں لے ڈوبیں گے۔ آزادی اظہار رائے کا غلط استعمال ہمیں روکنا ہوگا، اس سلسلے میں پاکستان کی قومی اسمبلی کو باقاعدہ اجلاس منعقد کر کے قانون سازی کرنا ہو گی۔ پاکستانی قوم نے ہر مشکل وقت کا بڑی پامردی سے مقابلہ کیا ہے اور آج بھی دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہیں، ضرورت ہے تو بس سیاسی زعماء کے مابین رواداری کے فروغ کی، سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے کے لیے معتدل مزاج سیاستدان آگے بڑھیں اور ماحول کو مزید پراگندہ ہونے سے روکیں۔ اکٹھا بٹھانے کی کوشش کریں، یہ ملک وقوم کی بہت بڑی خدمت ہو گی اور پاکستان کا وقار دنیا میں بلند ہو گا۔

تبصرے بند ہیں.