بارشیں، سیلاب اور ریلیف ……!

14

اتوار کو علی الصبح راولپنڈی اسلام آباد اور گردو نواح کے علاقوں میں تیز اور طوفانی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا اور بعد میں ذرا ہلکا ہو کر تقریباً 11بجے تک جاری رہا۔ مجھے اتوار کو حسب معمول اپنے گاؤں جانا تھا۔ 9بجے کے لگ بھگ اڈیالہ روڈ پر گاؤں کے لئے نکلا تو اڈیالہ روڈ جو پنڈی کچہری سے تقریباً 13/14کلومیٹر کے فاصلے پر اڈیالہ جیل اور اس سے بھی 1/2کلومیٹر آگے گورکھ پور گاؤں تک بری طرح ٹوٹ پھوٹ شکار ہے اور اس میں جابجا بڑے بڑے گڑھے پڑے ہوئے ہیں پر ہر طرف پانی بہتا نظر آرہا تھا۔ سڑک کے گڑھے پانی سے بھرے تھے تو آس پاس کی مزروعہ زمین اور کھیت بھی پانی کے تالابوں کی شکل اختیار کئے ہوئے تھے۔ معاً میرا خیال سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے بری طرح متاثرہ علاقوں اور وہاں بے پناہ مسائل اور مشکلات کے جلو میں قابل رحم حالات میں شب و روز بسر کرنے والے لاکھوں مکینوں کی طرف چلا گیا۔ میں سوچنے لگا یہاں ذرا سی دیر تک بارش اور سڑک اور آس پاس کی زمینوں میں پانی جمع ہونے اور بہہ کر نکلنے کی صورت میں پریشانی اور تکلیف محسوس ہو رہی ہے اور ان لاکھوں افراد جو پچھلے تقریباًڈیڑھ دو ماہ سے انتہائی کسمپرسی کے عالم میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار چلے آرہے ہیں ان کے دکھ، تکالیف، مصائب اور مشکلات کا کیا عالم ہو گا۔ وہاں ہر طرف پانی ہی پانی پھیلا ہوا ہے۔ گھر بار، عارضی جھونپڑے اورمکانات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ گاؤں کے گاؤں، دیہات، آبادیاں اور بستیاں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ کھیت، کھلیان، اناج کے ذخائر، چارہ، کھڑی فصلیں، مال مویشی اور ڈھور ڈنگر کچھ بھی سلامت نہیں بچا۔ سڑکیں، راستے، شاہراہیں، ریلوے لائن اور پل پانی میں بہہ جانے کے ساتھ بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکے ہیں۔ اربوں کھربوں روپوں کے انفرا سٹرکچر کا نقصان ہو چکا ہے۔ ملک کا تقریباً ایک تہائی بلکہ اس سے بھی زیادہ حصہ سیلاب اور طوفانی بارشوں کے نتیجے میں اس طرح تباہی اور بربادی
کاشکار ہوا ہے کہ وہاں کی لوگوں کو از سر نو بحال کرنے، نقصان کی تلافی، اور زندگی کے معاملات کو از سر نو رواں دواں کرنے اور معمول پر لانے کے لئے جہاں سال کا عرصہ درکار ہو گا وہاں اربوں کھربوں بلکہ اس سے بھی زیادہ مالی وسائل کی ضرورت ہو گی۔
یہ کوئی معمولی نہیں یا کم تشویشناک، المناک، افسوسناک اور تکلیف دہ صورتحال نہیں کہ سیلاب سے متاثرہ ہزاروں بلکہ لاکھوں کنبے اپنے گھروں کے سیلاب کے پانی میں ٹوٹ پھوٹ جانے یا بہہ جانے کے بعد کھلے آسمان کے نیچے سڑکوں کے کناروں،ندی نالوں اور دریاؤں کے کناروں پر بنے بندوں یا دوسری مقابلتاً اونچی اور پانی میں ڈوبنے سے بچی ہوئی جگہوں پر اس طرح پناہ لینے پر مجبور ہیں کہ ان کے پاس تن ڈھانپنے کے لئے کپڑے نہیں تو سر چھپانے اور رہنے کے لئے کوئی سایہ دار جگہ، کوئی عارضی ٹھکانہ، کوئی خیمہ یا درو دیوار نہیں ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی چار پائیاں کھڑی کر کے اور ان پر پھٹی پرانی چادریں ڈال کر سائے کا اہتمام کیا جاتا ہے تو کھانا پکانے کے لئے کوئی اشیائے خورو نوش دستیاب نہیں ہیں، نہ ہی برتن اور نہ ہی پانی میں گھری جگہوں پر آگ جلانے کا کوئی سامان یا چولہے وغیرہ۔ بس اللہ کے توکل پر آسرا کئے بیٹھے ہیں۔ کسی امدادی ٹیم یا خدمت خلق کے کسی ادارے سے کچھ پکا پکایا کھانا یا پینے کے لئے پانی مل جائے تو غنیمت، ورنہ بس فاقے ہی فاقے ہیں۔ بھوک اور فاقوں کے ساتھ گیسٹرو، ہیضہ، بخار اور پیٹ کے امراض نے ان لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اب تک کم و بیش ڈیڑھ ہزار قیمتی جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں۔ بلا شبہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں بالخصوص گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں جس طرح کی طوفانی بارشوں اور گلیشئیر کے پگھلنے کی وجہ سے تباہ کن سیلابوں کا نشانہ بنا ہے اس کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ 2010میں بھی وطن عزیز کو سیلاب کی تباہ کاریوں کا نشانہ بننا پڑا لیکن اس کی وسعت، پھیلاؤ اور ما بعد اثرات اور ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصان اتنے زیادہ اور اتنے ہمہ گیر نہیں تھے۔ سچی بات ہے کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں حالیہ سیلاب اور طوفانی بارشوں سے ہونے والے مالی، مادی اور جانی نقصانات کی تفاصیل پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے فضائی جائزوں کی صورت میں لی جانے والی تصاویر دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ سوچنا پڑتا ہے کہ سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں لاکھوں ایکڑ رقبے پر سیلابی پانی پھیلا ہوا ہے۔ آخر اس کی نکاسی کا کیا انتظام ہو گا۔ ایک ایک فٹ گہرا پانی خشک کیسے اور کب ہو گا، خشک زمین کب دستیاب ہو گی۔ گھر، مکانات اور رہائش گاہیں کب تعمیر ہوں گی، کھیت کھلیان کب قابل کاشت ہوں اور ان میں فصلیں کب کاشت کی جاسکیں گی۔ ملک میں اناج، سبزیوں، پھلوں، بالخصوص پیاز، ٹماٹر، مرچوں، کھجوروں کی پیداوار میں جو کمی ہو چکی ہے اور آئندہ مہینوں میں اس میں جو اضافہ ہو گا اس کو کیسے دور کیا جا سکے گا۔ کپاس، گنے اور بالخصوص کپاس کی فصل جس تباہی سے دوچار ہوئی ہے اس کی ضرورت کو کیسے پورا کیا جا سکے گا۔ گنے کی فصل کی تباہی کی صورت میں شوگر ملوں میں چینی کی پیداوار کمی کی شکار ہو گی تو چینی کی قلت اور اس کی قیمت میں اضافہ کوئی نہیں روک سکے گا اور گندم جو ہماری خوراک کا اہم ترین جزو ہے اس کی پیداوار میں کمی یا اناج کے ذخیروں اور گوداموں کی تباہی کے جو نقصانات سامنے آچکے ہیں اور آگے چل کر مزید سامنے آئیں گے ان کو برداشت کرنا یقینا ہمارے بس کی بات نہیں ہو گی۔
یہ سارے نقصانات، تباہی، بربادی اور غارت گری (اللہ کریم اپنی رحمت خاص سے اور نبی پاکﷺ کے صدقے اس سے محفوظ رکھے) اپنی جگہ گہرے اثرات کی حامل ہے۔ ان اثرات کو زائل کرنا اوران سب نقصانا ت کو پورا کرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس ضمن میں اپنی بساط کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں لیکن یہ فریضہ اس وقت سر انجام نہیں پا سکتا جب تک پوری قوم یکسوئی اور یکجہتی کے ساتھ شامل نہیں ہو گی۔ کاش ہمارے قومی رہنماؤں کو اس کا احساس ہو جائے۔ اس کے ساتھ عالمی برادری کے لئے بھی ضروری ہے کہ اس تباہی و بربادی اور مصائب کے عالم میں پاکستان ہاتھ بٹائے۔

تبصرے بند ہیں.