آرمی چیف پر سیاست،کم فہمی

29

عمران خان بلاشبہ اپنی مقبولیت کے باعث عوامی لیڈر ہیں اور ان کی ایک آواز پر پوری قوم باہر بھی آجاتی ہے مگر آج کل اے ٹی سی کی عدالت میں جب بھی پیش ہوتے ہیں تو عدلیہ اور فوج کا ذکر لازمی کرتے ہیں۔ اگر یہ ذکر خیر ہو تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن صرف عمران خان ہی نہیں بلکہ ماضی میں حکومت بھی یہی کچھ کرتی تھی آجکل تو وہ اسٹیبلشمنٹ پر تنقید سے باز ہیں لیکن اپنے وقت میں وہ بھی اس جرم میں شریک تھے۔ پولیٹیکل پولرائزیشن جتنی آج کے دور میں دیکھنے میں آ رہی ہے پہلے کبھی نہیں تھی، مذہبی ہو یا صوبائی لیکن پولیٹیکل پولرائزیشن نے لمحہ فکریہ پیدا کردیا ہے۔ ادارے اور معیشت آج جس حالت میں ہیں آج سے پہلے نہیں تھے۔ اگر فیصلہ عمران خان کے حق میں آتا ہے تو حکومت کا ہدف عدلیہ ہوگی اگر فیصلہ مخالف آتاہے تو بھی عدلیہ محو تنقید ہوگی۔
مرضی کے فیصلے نہ آنے پر تنقید کرنے والے یوں معلوم ہوتے ہیں کہ جیسے وہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی کی چاہتے ہیں۔ لیکن یہ بات جب بھی عمران خان نے قبل از وقت چھیڑی تو آرمی چیف کی تقرری کو متنازعہ بنانے کی کوشش معلوم ہوئی کیونکہ ابھی تو اس عمل میں دو مہینے باقی ہیں۔ آرمی چیف کی تقرری کا آئین میں طریقہ کار وضع ہے اور اس پر کسی کی رائے کی ضرورت نہیں ہے۔ جہاں تک بات ہے افواج پاکستان کی تو وہ یونی پولر ہے یعنی سب کے سب یک جان ہیں اور بہترین کا انتخاب کیا جائے گا یعنی جسکی لیجیٹیمیٹ ایکسپیکٹنسی ہے وہی مقام پر براجمان ہو گا اگر اس فارمیٹ پر عمل ہو تو یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم۔اس لیے اس معاملے کو متنازع بنانے سے گریز بہتر ہے۔
جب تک ہمارے حکمران، اپوزیشن لیڈرز یا سیاسی رہنما اپنی ذات کا چھوڑ کر ملک کے مفاد کا نہیں سوچیں گے تو نظام نہیں چل سکتا۔ یہ کہنا بھی مناسب نہیں کہ میرے علاوہ سب چور ہیں، یا پھر الیکشن کروا دو ہم بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ملک کسی کی مرضی سے نہیں چل سکتا یا محتاج نہیں ہوسکتا بلکہ ایک سیٹ پیٹرن چلتا ہے مگر ہم نے ہمیشہ یہی دیکھا اپنی مرضی اور مفاد کے لئے آئین میں قانون سازی بھی کی جاتی رہی وہ عمران خان جو آج آرمی چیف کو ایکسٹنشن دینے کی بات کرتے ہیں انہیں یاد ہوگا کہ جب یوسف رضا گیلانی نے جنرل کیانی کو ایکسٹینشن دی تھی تو عمران خان ہی سب سے بڑے ناقد تھے لیکن آج جب حالات ان کے ہاتھ سے باہر ہیں تو اس امر کا تقاضا بھی خود ہی کر رہے ہیں۔ وقت سب سے بڑا منصف ہے۔ خیر پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور یہاں پر بات چیت کے ذریعے یعنی آپسی اختلافات کو بھلا کر کسی بھی مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
عدالت انصاف کی فراہمی کے لیے موجود ہے اور اگر کسی فریق کو یہ لگتا ہے کہ اس پر مقدمہ ناجائز بنا ہے تو خود کو عدالت کے روبرو پیش کرے اور انصاف کے بجائے اس کے کہ ججز پر تنقید کرے اور کہے کہ میں نے بینچ کے سامنے پیش نہیں ہونا اور اس پر عدم اعتماد کا اظہار کرے، ججز پر تنقید کرنا ناجائز اور خلاف قانون ہے۔ ججمنٹ پر سوال اٹھا سکتے ہیں جو کہ کنسٹرکٹو ہو لیکن کوئی بھی رول آف لاء سے بالاتر نہیں۔ اگر اداروں کو بااختیار بنا ئیں گے تو ہی ملک میں سٹیبلٹی آ سکے گی۔
آپسی بندر بانٹ کو اگر ایک طرف رکھ کے اس وقت ملک کے حکمران ان لوگوں کے بارے میں سوچ لیں جنہوں نے ان کو منتخب کیا ہے یا وہ ان کے نمائندے ہیں جو اس وقت پانی میں لت پت بے سروسامان کھلے آسمان تلے بے یارومددگار موجود ہیں ان کو کس طرح اس مصیبت سے نکالنا ہے یا پھر سیاسی بے راہ روی کی وجہ سے جو معیشت تباہ حال ہے بجلی مہنگی ہو رہی ہے اشیاخورونوش قوت خرید سے باہر ہیں اور ڈالر کی پرواز رکنے کا نام نہیں لے رہی پاکستانی روپیہ کمزور ہو رہا ہے، ان تمام معاملات کو کس طرح درست کرنا ہے اس وقت حکومتی توجہ کی ان معاملات پر ضرورت ہے۔ اگر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے سے فرصت ملے تو ان معاملات پر بھی ذرا غور کی درخواست ہے۔

تبصرے بند ہیں.