عذاب، ثواب اور سیلاب

21

آنکھوں دیکھا اور کانوں سنا واقعہ ہے، ایک نوجوان مدعی علم، ایک عمر رسیدہ درویش سیّد زادی کی عیادت کے لیے گیا، وہ جوڑوں کے دائمی مرض میں مبتلا وہیل چیئر پر تشریف فرما تھیں۔ از راہِ آدابِ میزبانی انہوں نے مہمان سے کہا، میرے لیے دعا کیجیے۔ زعمِ علم میں لت پت وہ نوجوان کہنے لگا، لگتا ہے آپ سے کوئی گناہ سرزد ہوا ہے جس کی سزا میں صحت کے یہ مسائل آپ کو بھگتنا پڑے ہیں۔ حاضرینِ محفل یہ تجزیہ سن کر انگشت بدندان رہ گئے۔ ایسے دینی تجزیہ کاروں کی موجودگی میں افسانہ نگاروں کی کیا ضرورت ہے!
ربع صدی قبل یہ فقیر لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں میڈیکل آفیسر کے طور پر خدمات سرانجام  دے رہا تھا، وہاں برما کے ایک بدھسٹ (buddhist) ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی جو ٹریننگ کے سلسلے میں وہاں تعینات تھا۔ ایک دن جزا و سزا کے حوالے سے اس سے بات چل نکلی۔ یہ جان کر تعجب ہوا کہ ان کے ہاں تصورِ جزا و سزا بالکل وہی تھا، جو ہمارے ہاں ظاہر پرستوں میں رائج ہے، یعنی اگر کوئی خوشحال ہے تو فطرت اس سے راضی اور خوش ہے اور اگر کوئی تنگدستی اور بیماری میں مبتلا ہے تو مدر نیچر (mother nature) اس سے ناخوش ہے۔ گویا ہمارے ظاہر پرست اور ان کے مظاہر پرست ایک ہی پیج پر ہیں۔
تاریخ کا ورق پلٹیں تو ہمیں جزا و سزا کے باب میں یہی مسخ شدہ تصور دیکھنے کو ملتا ہے۔ بادشاہوں نے خود کو ظلِ الٰہی کہلوایا، اپنی بادشاہت کو خدا کی خوشنودی کی سند کے طور پر پیش کیا اور انبیاء کی سیاحت و غربت کو خدا کی عدم رضا پر محمول کیا۔ خوشحال سرداروں کی طرف سے اعتراض کیا گیا کہ اگر یہ سچا رسول ہے تو اس کے چل چلاؤ میں فرشتے ہمراہ چلتے ہوئے نظر آنے چاہئیں اور چاہیے تھا کہ زمین کے خزانے اس کے لیے کھول دیے جاتے۔ قارون کی دولت اور معاشرے میں اس کا پروٹوکول دیکھ کر بنی اسرائیل کے ظاہر پرستوں نے اس پر رشک کا اظہار کیا اور کہا کہ اس شخص پر خداوند عز و جل کا بڑا فضل ہے، کاش ہم پر بھی یہ فضل ہوتا۔ اگلے روز جب اسے عبرت کی زمین میں دھنسا دیا گیا تو وہ لوگ جو کل تک اسے مینارہِ کرم سمجھ رہے تھے، اس پر تاسف اور اپنے خیالِ خام سے رجوع کا اظہار کرنے لگے۔ قران کریم یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
شام کے تخت نشین یزید نے بھی اسیرانِ کربلا کے سامنے قرآن کی ایک آیت پڑھ کر اپنے اقتدار کو فضلِ خداوندی قرار دینے کی کوشش کی۔ اس کے جواب پر امامِ عالی مقام کی ہمشیرہ حضرت زینبؓ نے ایک زبردست خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں اس خود ساختہ فلسفے کا ایسا ردّ پیش کیا کہ تاقیامت حق پرستوں کے لیے راہِ حق روشن ہو گئی۔ خطبہئ زینبؓ صرف پڑھنے ہی کے لائق نہیں بلکہ لفظ بہ لفظ حفظ کرنے کے بھی لائق ہے۔
مجھے یاد ہے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے میرے ایک سعودی کلاس فیلو اپنی بیش قیمت گاڑی کے سٹیرنگ پر بڑے فخر سے ہاتھ مار کر کہا کرتے،
دیکھو اظہر! مسلمان کو اللہ نے کیسی عزت دی ہے، غیر مسلمان گاڑی بنا رہا ہے، مسلمان چلا رہا ہے۔ یہ مکالمہ سن مجھ ایسا غریب موٹر سائیکل سوار شرم کے مارے چپ سادھ لیتا اور گمان کرتا کہ شاید ہمارا کلمہ قبول نہیں ہوا، اس لیے ہم ابھی تک ہنڈا اکارڈ سے محروم ہیں۔ وہ باتوں باتوں میں ہمیں جتلا دیا کرتا کہ تم اس لیے غریب ہو کہ تم اسلام پر عمل نہیں کرتے۔ اگر تم ہماری طرح نمازوں کی پابندی کرو تو تمہارے ہاں بھی تیل نکل آئے گا۔ فی الحال تو ہمارا تیل ہی نکل رہا ہے۔ ہمارے ایسے کئی دانشور نوجوان یہ سوچ کر حیرت میں ڈوب جاتے کہ وینزویلا اور ٹیکساس میں بے تحاشا تیل کے کنویں نکلتے چلے آ رہے ہیں، یہ لوگ کون سی نمازیں پڑھتے ہیں۔ سعودی دوست کی اس امپورٹڈ فکر کے نتیجے میں پیدا ہونے والا یہ فکری اشکال اُس وقت دُور ہوا جب اُن دنوں مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کی محفل میں یہ بات سننے کو میسر آئی کہ تم لوگ یہ کیا ظلم کرتے ہو، ماربل کا محل بناتے ہو اور اس کی پیشانی پر دھڑلے سے لکھ دیتے ہو ”ھٰذا من فضلِ ربی……“ یہ میرے رب کا فضل ہے۔ ایک غریب مومن تمہارے بنگلے کی دیوار کے پاس سے گزرتا ہوا یہ سوچے گا، شاید مجھ سے میرا رب ناراض ہے، وگرنہ مجھے بھی ایسا فضل میسر ہوتا۔ اس طالب علم نے مرشد کی محفل سے یہ سبق کشید کیا کہ نعمت بھی آزمائش ہے اور مصیبت بھی ایک آزمائش۔ نعمت پا کر جو عاجز رہا وہ کامیاب، مصیبت میں جو صابر رہا وہ بھی کامیاب۔ جس نے نعمت کو اپنے زورِ بازو کا نتیجہ سمجھا اور نعمت پا کر مغرور و مخمور ہوا، وہ محروم ہوا۔ مصیبت میں گِھرنے کے بعد جو اُس کی رحمت سے مایوس ہوا، وہ بھی محروم۔
گناہ اور ثواب سرا سر دینی اصطلاحات ہیں۔ اس لیے ان پر سزا اور جزا بھی دینی میزان کے مطابق ملے گی۔ عین ممکن ہے ایک شخص گناہوں میں آگے بڑھتا چلا جائے لیکن اس کے ہاں نعمتوں کی ترسیل میں کوئی کمی واقع نہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے، ایک شخص صالح، متقی اور پرہیزگار ہو، اپنے رب کے قریب ہو لیکن ساری عمر مصائبِ دنیا میں گرفتار رہے۔ فرعون جب تک غرقِ نیل نہ ہوا، اس کی سلطنت کی قوت اور دبدبے میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی تھی۔ ایک ظاہر پرست آدمی فرعون اور قارون کا عروج دیکھ کر اور جنابِ موسیٰؑ و ہارونؑ کی غربت دیکھ کر پیغامِ صداقت کی بابت تشکیک میں مبتلا ہو سکتا تھا۔ کامیابی اور ناکامی، جزا اور سزا کا حتمی فیصلہ اس دنیا میں نظر نہیں آئے گا۔ اسی لیے غیب پر ایمان لانا ضروری ہے، اس کے بغیر فکرِ انسانی مکمل نہیں ہوتا۔ توحید، رسالت، آخرت اور میزان عمل پر ایمان لائے بغیر انسانی فکر ادھورا اور بے ڈھب رہتا ہے، ایک کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ہوا کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ یہ ہوا موسمِ دنیا ہی کی نہیں، بلکہ ہوائے نفس بھی ہے۔
گناہ اور ثواب باطن کی دنیا سے متعلق حقائق ہیں۔ جہاں سے اَوامر و نواہی کا حکم آیا ہے، وہیں سے گناہ اور ثواب کا تصور عطا ہوا ہے، اور وہیں سے میزانِ قیامت اور روزِ جزا کا تصور آیا ہے۔ جزا اور سزا کا ایک یوم معین ہے اور اسے یومِ قیامت کہتے ہیں۔ یہاں بے شمار مظلوم حالتِ مظلومیت ہی میں اس دنیا سے چلے گئے اور بے شمار ظالم ظلم کرتے ہوئے اس جہان سے اس طرح رخصت ہوئے کہ انہیں شاہی پروٹوکول اور اکیس توپوں کی سلامی کے ساتھ دفن کیا گیا……  لیکن یہ زندگی کی کہانی کا صرف ایک باب ہے، ابھی کہانی مکمل نہیں ہوئی، دوسرا اور پھر تیسرا مرحلہ ابھی باقی ہے۔ برزخ اور روزِ حشر کے مناظر ابھی باقی ہیں۔ انسانی زندگی لامتناہی ایام پر مشتمل ہے، یہاں وارد ہونے سے پہلے بھی انسان کہیں کسی صورت میں موجود تھا، اور یہاں سے رخصت ہونے کے بعد بھی اس کا وجود کہیں حاضر و موجود کر دیا جائے گا۔ خالقِ کائنات نے اس کائنات کو انسان کی ایک سیرگاہ بروزنِ عبرت گاہ بنایا ہے، یہ کائنات اس کا مدعا و مدفن نہیں۔
عذاب کسی قوم پر اس وقت آتا ہے جب وہ اللہ کے کسی فرستادہ نبی کا انکار کرتی ہے۔ نبی آخرالزماں ختم النبیین حضرت محمد مصطفیؐ اپنی تمام تر رحمتوں کے ساتھ تشریف لا چکے ہیں، اب قیامت تک کسی نبی نے نہیں آنا، اس لیے قوموں پر عذاب اس طرح نہیں آئے گا جس طرح پہلی امتوں پر آیا کرتا تھا۔ اس طرح رحمت للعالمینؐ کا خاتمِ نبوت ہونا بھی تمام عالمین کے لیے باعثِ رحمت ہے۔
اب عذاب آتا ہے، ہمارے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ۔ اگر غریبوں کی بستی سیلاب میں ڈوبتی ہے تو یہ عذاب غریبوں کے لیے نہیں بلکہ امیروں کے لیے ہے، یہ عذاب بستی کے والی وارثوں کے لیے ہے۔ ان سے سوال کیا جائے گا تم نے اپنی رعایا کو پکے مکانوں کی سہولت کیوں میسر نہیں کی، ان کی بستیوں کے گرد پیش بندی کے بند کیوں نہ باندھے گئے؟ ارشادِ رسولؐ ہے کہ تم میں سے ہر شخص راعی (نگہبان) ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ یہ حدیثِ پاک صرف وعظ و تبلیغ کی بابت ہی نہیں بلکہ نعمتوں کی ترسیل و تقسیم اور سامانِ زیست کے مبنی بر عدل حصول و یافت کے لیے بھی ہے۔ غریب کی غربت امیر کا امتحان ہے۔ میرا دسترخوان اگر نعمتون سے پُر ہے اور میرا بھائی بھوکا سو جائے تو اصل امتحان میرا ہے۔
قرآن کریم میں ہے کہ خود کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں نہ ڈالو۔ سیلاب کی ہلاکت خیزیوں سے بچنے کے لیے اگر اربابِ اختیار نے ذخیرہئ آب کے لیے ڈیم بنانے اور بنوانے میں کوتاہی برتی ہے تو انہیں ان کا حساب دینا ہو گا۔ اگر اہلِ فکر و دانش نے اپنی قوم کو تعصب کی زنجیروں میں جکڑے رکھا ہے اور انہیں ڈیمز بننے کی مخالفت پر آمادہ کرتے رہے ہیں تو یہی سوال اہلِ قلم سے بھی ہو گا۔
سیلابِ بلا سے نجات کا فوری راستہ یہ ہے کہ سیلاب سے دُور عافیت کے کنارے پر بیٹھے ہوئے لوگ بھی خود کو سیلاب میں گھرا ہوا محسوس کریں۔ اپنے گھروں اور دلوں کے دروازے کھول دیں۔ دل کھلے گا تو مال کی گٹھڑی بھی کھل جائے گی۔ جہاں بھی جس کا تعلق ہے، وہاں مدد کو فوری پہنچے، خود نہیں پہنچ سکتا تو ان کی مدد کرے جو وہاں پہنچ سکتے ہیں۔ ہر خوشحال گھرانا کسی ایک بے حال گھرانے کا دست و بازو بن جائے، کفیل بن جائے۔ اگر زندگی چاہیے تو اخوت و مواخات کا سبق پھر سے زندہ کریں۔

تبصرے بند ہیں.