پگلا گئے ہوکیا؟

13

دوستو،کراچی میں ایسی مضافاتی بستیاں جہاں اردو بولنے والوں کی تعداد زیادہ ہے، وہاں کسی بھی بے وقوفی والے کام پر سامنے والا فوری کہتا ہے۔۔ارے پگلا گئے ہوکیا؟ یعنی کیا پاگل ہوگئے ہو۔۔ سوشل میڈیا پر جب بھی نظر پڑتی ہے تو یہ یقین ہونے لگتا ہے کہ واقعی آدھی سے زیادہ قوم ”پگلا“ گئی ہے۔۔ سب ایک دوسرے کے کپڑے اتارنے میں لگے ہوتے ہیں۔۔ لیکن جرمنی کے تحقیق دانوں نے ہماری مشکل آسان کردی۔ انہوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ انتہائی درجہ حرارت انٹرنیٹ پر نفرت انگیزی میں اضافہ کردیتا ہے۔جرمنی کے پوٹسڈیم انسٹیٹیوٹ فار کلائمیٹ اِمپیکٹ ریسرچ کے محققین کو تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ جب موسم زیادہ گرم یا سرد ہوتا ہے تو انٹرنیٹ پر لوگ زیادہ جارح مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔تحقیق کرنیوالے گروپ کی سربراہ لیونی وینز کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج نے آن لائن نفرت انگیزی کو موسمیاتی تغیر کی جانب سے پڑنے والے نئے اثر کو واضح کیا جو مجموعی طور پر معاشرے کی اکائی اور لوگوں کی ذہنی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔تحقیق میں محققین نے 2014 سے2020 کے درمیان امریکا میں کی جانے والی چار ارب سے زائد ٹوئٹس کا تجزیہ کرنے کے لیے مشین لرننگ کا استعمال کیا۔جس سے معلوم ہوا کہ ساڑھے سات کروڑ ٹوئٹس نفرت انگیزی پر مبنی تھیں۔بعد ازاں محققین نے ٹوئٹس کا مقامی موسم کے ڈیٹا سے موازنہ کیا تاکہ دونوں کے درمیان ممکنہ تعلق دیکھا جاسکے۔تحقیق کی سربراہ مصنفہ اینیکا اسٹیچی کا کہنا تھا کہ محققین کو ٹوئٹس کی حتمی تعداد اور انتہائی درجہ حرارت میں نفرت انگیز ٹوئٹس میں اضافے کے متعلق علم ہوا۔ جب بھی موسم زیادہ سرد یا گرم تھا لوگوں کا آن لائن رویہ زیادہ جارحانہ دیکھا گیا۔محققین کے مطابق 12 سے21 ڈگری سیلسیئس درجہ حرارت میں نفرت انگیز ٹوئٹس کی تعداد کم تھیں۔البتہ اگر درجہ حرارت اس سے کم تھا تو نفرت انگیزی میں 12 فی صد اضافہ دیکھا گیا جبکہ اس سے زیادہ درجہ حرارت کی صورت میں نفرت انگیزی میں 22 فی صد اضافہ سامنے آیا۔
ہمارے یہاں گرمی پڑتی ہے تو غضب کی اور سردی بھی شدت کی ہوتی ہے، ایسی صورت حال میں بھلا کوئی ”نارمل“ رہ سکتا ہے؟پاکستان کو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک سمجھا جاتا تھا،
لیکن اب یہ حقیقت بدل چکی ہے کیونکہ آبادی میں اضافہ اتنا تیز رفتار ہے کہ پاکستان اب دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے۔ پاکستان میں اوسطاً ہر ایک منٹ میں 11 زندہ بچے پیدا ہو تے ہیں یعنی تقریباً ہر پانچ سیکنڈ بعد ملکی آبادی میں ایک شہری کا اضافہ ہوتا ہے۔۔جہاں اس تیزرفتاری سے آبادی میں اضافہ ہورہا ہو،وہاں عوام کی ذہنی کیفیت کا اندازہ باآسانی لگایا جا سکتا۔ ہمارے پیارے دوست نے گزشتہ دنوں ہمیں ایک قصہ سنایا، کہنے لگے۔۔ایک قریبی عزیز کے گھر سے زیور چوری ہو گیا۔ انہوں نے ایک ”پیر صاحب“ کو حساب کتاب کے لئے گھر بلایا۔ میں گیارہ/بارہ برس کا تھا۔ پیر صاحب نے کہا، کوئی معصوم بچہ جو اڑوس پڑوس اور خاندان کے بندوں کی پہچان بھی رکھتا ہو، اس کو بلا لیں۔ قرعہ میرے نام نکلا۔ میں پیر صاحب کے سامنے حاضر، دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔ پیر صاحب نے اپنے سامنے رکھے ایک طشت، جس میں ایک ا سٹیل کا گلاس، ایک پلیٹ میں کچھ گھی، کچھ کاغذ کے ٹکڑے، تعویز وغیرہ رکھے تھے، ان پہ کچھ لمبا چوڑا عمل اور پڑھائی شروع کر دی۔ کمرے میں ہم دو ہی فرد تھے۔ لائٹ بند تھی، صرف کھڑکی سے روشنی آ رہی تھی۔ میں کچھ کچھ ڈرا ہوا بھی تھا۔ گمان تھا شاید کوئی روح حاضر ہو گی اور ہمیں چور کے بارے میں بتائے گی۔ قریب بیس منٹ بڑبڑاہٹ کے انداز میں پڑھائی کے بعد پیر صاحب باآواز بلند کچھ پڑھنا شروع ہوگئے۔ میں ذہنی طور پہ آمادہ کہ بس اب کوئی روح قریب پہنچ چکی ہے۔ پیر صاحب نے پڑھائی روک کے اسٹیل کے گلاس میں قریباً ایک گھونٹ پانی ڈالا اور مجھے حکم دیا کہ اپنی نظر گلاس کے پانی پہ رکھنی ہے۔ اس میں کوئی مرد یا عورت (چور) نظر آئے گا۔ اس کو پہچان لینا۔ میں چوکس ہو گیا کہ چلو کوئی روح نہیں آنے والی، بس چور کا عکس ہی نظر آئے گا پانی میں۔ پیر صاحب نے پھر سے پڑھنا شروع کیا۔ میں اپنی نظر پانی پر گاڑھے بیٹھا رہا۔ پیر صاحب بولے، کوئی بندہ نظر آیا؟ مجھے تو کچھ نظر نہ آیا تھا۔ میں نے کہا۔۔نہیں۔۔ پیر صاحب نے پھر سے بغور نظر جمانے کا حکم دے کر کچھ پڑھا اور پوچھا اب کون نظر آ رہا ہے پانی میں؟ میں نے کہا کوئی نہیں۔ پیر صاحب تھوڑے جھنجلائے اور پھر سے عمل شروع کیا۔ پھر پوچھا، بیٹا دیکھو، کوئی مرد ہے یا عورت؟ مجھے تو پانی میں اسٹیل گلاس کا پیندا ہی نظر آ رہا تھا۔ میں نے کہا کوئی نہیں ہے۔ پیر صاحب نے ٹھنڈی سانس بھر کے عمل روک دیا اور متاثرہ گھر والوں کو اندر بلایا جو بیچارے بڑی بے چینی سے چور کی شناخت ظاہر ہونے کے منتظر تھے۔ ان کو اندر بلا کے پیر صاحب نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا۔۔ اے بچہ معصوم نہیں ہے۔۔
باباجی بھی کبھی کبھی ”پگلا“ جاتے ہیں تو پھر ان کی شفقت، رحم دلی اور دریادلی دیکھنے والی ہوتی ہے۔ اسی طرح شدید گرمیوں کی ایک شام تھی۔۔ باباجی نے ہمیں فون کیا اور صرف اتنا کہا کہ۔۔رات کا کھانا نہیں کھانا، ہم باہر کھائیں گے۔۔ اس کے بعد باباجی نے لائن کاٹ دی۔۔ باباجی کو ہم نے کال بیک کی اور پروگرام فائنل کیا۔۔ جس کے بعد ہم مقررہ وقت پر باباجی کی بیٹھک پہنچے، جہاں پیارے دوست پہلے سے ہی موجود تھے۔۔ ہم تینوں رکشہ کرکے قریبی فوڈ سٹریٹ گئے جہاں ایک ہوٹل پر بڑا بڑا تحریر تھا۔۔یہاں گھر جیسا کھانا نہیں ملتا، آپ اطمینان سے تشریف لائیں۔۔باباجی نے ہمارا ہاتھ پکڑا اور غڑاپ سے ہوٹل میں جاگھسے، ہم نے تشریف رکھنے کے بعد جب باباجی سے اس ہوٹل میں ”دراندازی“ کی وجہ جاننا چاہی، تو مسکرا کر بولے۔۔ گھر کے کھانے سے بچنے کے لئے تو باہر کھانے کا موڈ بنایاتھا۔۔گھر پر تو ٹنڈے بنے ہیں، کھانے ہیں تو چلو گھر چلتے ہیں۔۔ہم نے باباجی کی بات سن کر ایسا تاثردیا کہ ہمیں کچھ پلے نہیں پڑا۔۔ باباجی نے چرغے کا آرڈر دیا۔۔ کچھ دیر بعد چرغہ ہمارے سامنے ٹیبل پر دونوں شانے چت پڑا تھا۔۔ باباجی نے سب سے پہلے اسے چکھا، چکھنے کے بعد انہوں نے ویٹر کو بلایا، اور پوچھا۔۔ تمہارے ہاں چرغہ کس طرح تیار کیا جاتا ہے؟ گیس کے ذریعے یا کوئلوں پر؟ ویٹر نے بغور باباجی کے چہرے کا جائزہ لیا۔۔پھر ہم دونوں کو طرف دیکھا جو باباجی کے ساتھ ہی ٹیبل پر چرغے کو بھوکی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔ ویٹر نے بڑے فخر سے جواب دیا۔۔ ہمارے ہوٹل میں چرغہ بجلی سے پکایا جاتا ہے، جناب۔۔ باباجی نے ویٹر کی بات دھیان سے اور پوری توجہ کے ساتھ سننے کے بعد چرغے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔ ٹھیک ہے، تو پھر اسے دو تین بجلی کے جھٹکے اور لگوا کر لے آؤ۔۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔قوم کے ”پگلا“ جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ موڈ کسی ایک بات پر خراب ہوتا ہے، غم ساری زندگی کے یاد آجاتے ہیں۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

تبصرے بند ہیں.