ٹرانس جینڈر ایکٹ……خدشات و مضمرات

82

خواجہ سرا یا مخنث ایک قابل رحم اور قابل توجہ جنس ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کی تخلیق میں ان کا اپنا کوئی کردار یا اپنی کوئی خامی نہیں وہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور اس لحاظ سے بدقسمت ہیں کہ ان کی پیدائش کے بعد سے ہی ان پر گھر والوں کی محبتوں اور توجہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ بہن بھائیوں میں وہ اچھوت بن جاتے ہیں۔ باپ اور دیگر رشتے دار ان کی وجہ سے شرمندہ سے رہتے ہیں۔ ایسے بچے کسی حد تک ماں کا پیار تو سمیٹتے ہیں، لیکن وہ تعلیمی اداروں میں جا سکتے ہیں نہ اپنی خاندانی تقریبات میں شامل ہوتے ہیں۔ گھروں میں ان کو علیحدہ رکھا جاتا ہے۔ بڑے ہوں تو ان پر صرف ناچ گانے یا بھیک مانگنے کا ہی راستہ کھلا رکھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت حال میں ان کے انسانی حقوق کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ 2018ء میں قومی اسمبلی میں پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ پیش ہوا۔ ڈرائیونگ لائسنس بنانے اور ہراسانی سے تحفظ کی سہولت ملی اور ان سے بھیک منگوانے والے پر پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا بھی متعین کی گئی۔
چوں کہ ایسے قوانین کے پیچھے بیرونی عطیات پر چلنے والی این جی اوز ہوتی ہیں اور وہ غیر ملکی ایجنڈے لے کر چل رہی ہوتی ہیں اس لیے بظاہر خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے اس ایکٹ میں دو ایسی کلاز رکھی گئیں جس سے اس قانون کے اصل مقاصد پس منظر میں چلے گئے اور خواجہ سراؤں کے بجائے یہ قانون ہم جنس پرستوں کے تحفظ کا قانون بن گیا۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق احمد خان کا شکریہ اور ان کو خراج تحسین کہ انہوں نے اس ایکٹ کی ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایکٹ میں ترامیم کا ایک پرائیویٹ ممبر بل جمع کرایا جو قواعد کے مطابق انسانی حقوق کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ کمیٹی کے چیئرمین علامہ محمد اقبال کے پوتے سینیٹر ولید اقبال ہیں۔
ٹرانس جینڈر ایک مغربی اصطلاح ہے اور یہ
ایک پوری تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس تہذیب کا نام ہے LGBT یعنی لزبین گوائے بائی سیکسوئیلی اور ٹرانس جینڈر۔ یہ ایک کمیونٹی ہے، ایک منفی کلچرہے، ایک بدتہذیبی ہے اور ایک مکمل جنسی آوارگی اور بے راہ روی سے اس کلچر کو خواجہ سراؤں سے کوئی ہمدردی نہیں وہ انہیں بھی ایک سیکس گروپ کے طور پر لیتے ہیں۔ چنانچہ 2018ء کے ایکٹ میں جنس کے تعین یا جنس کی تبدیلی کا اختیار خود فرد کو دے دیا گیا ہے اس میں خواجہ سرا کی قید بھی نہیں۔ یعنی کوئی بھی مرد نادرا کو درخواست دے کر اپنی جنس عورت کرا سکتا ہے اور کوئی سی عورت مرد بن کر اپنا نادرا کارڈ بنوا سکتی ہے
اور یہ محض خدشات نہیں ہیں بلکہ سینیٹر مشتاق احمد خان کے ایک سوال کے جواب میں سینیٹ کو بتایا کہ 2018ء کے بعد سے تین سال میں نادرا کو جنس تبدیلی کی قریباً 29 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان میں سے 16530 مردوں نے اپنی جنس عورت میں تبدیل کرائی جب کہ 15154 عورتوں نے اپنی جنس مرد میں تبدیل کرائی۔ خواجہ سراؤں کی کل 30 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں 21 نے مرد کے طور پر اور 9 نے عورت کے طور پر اندراج کی درخواست کی۔
سینیٹر مشتاق احمد خان کی ترمیم اس تبدیلی کو میڈیکل ٹیسٹ کے ساتھ مشروط کرتی ہے۔ یعنی مرد سرجن، لیڈی سرجن اور ماہر نفسیات پر مشتمل بورڈ یہ فیصلہ کرے کہ یہ مخنث ہے اور اس کا اندراج کس طرف ہونا چاہیے۔ خنثیٰ مرد، خنثیٰ عورت اور خنثیٰ مشکل فقہی اصطلاحات ہیں اور اس کے باقاعدہ شرعی اصول و ضوابط ہیں خود یو کے میں 2004 میں جنسی تعین کے ایکٹ میں طبی معائنے اور طبی سرٹیفکیٹ کو لازمی کیا گیا ہے جب کہ پاکستان جینڈر ایکٹ 2018 کے لحاظ سے کسی میڈیکل بورڈ کی رائے کے بغیر اپنی صوابدید پر مرد سے عورت یا عورت سے مرد بننے اور تبدیلی جنس کا آپریشن کرانے کی کھلی چھٹی ہے۔ اس کے نقصانات واضح ہیں۔
ہم جنس پرستی اور ایک ہی جنس کے افراد کی باہمی شادی کا قانونی راستہ کھول دیا گیا۔ اب قانون کوئی گرفت نہیں کر سکتا۔ کوئی مرد عورت کا قومی شناختی کارڈ بنوا کر عورتوں کی سیٹ پر ملازمت حاصل کر سکتا ہے۔ خواتین کے تعلیمی اداروں میں ٹیچر لگ سکتا ہے۔ لیڈیز واش روم استعمال کر سکتا ہے۔ خواتین کی مجلسوں میں جا سکتا ہے۔ کوئی عورت مرد بن کر وراثت میں اپنا حصہ بھائیوں یا بیٹوں کے برابر لے سکتی ہے۔
بدقسمتی سے سینیٹر مشتاق احمد خان کی طبی معائنے کی اس مبنی برانصاف اور بہترین تجویز اور ترمیم کے اکیلے ہی یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن ہو یا پی پی یا پی ٹی آئی یا بعض دوسری جماعتیں وہ طبی معائنے کی حمایت کے بجائے بے شمار خطرات و خدشات کے حامل موجودہ ایکٹ کو مضمرات سمیت نافذ کرنے کے حامی ہیں۔
اب یہ پارلیمنٹ کی دیگر دینی جماعتوں کے ممبران دینی تنظیموں، سماجی و تعلیمی اداروں کے سربراہوں، وارثان منبر و محراب کی ذمہ داری ہے کہ وہ ترمیمی بل کو منظور کرنے اور طبی معائنے کو لازمی کرنے کے لیے حکومت، ممبران پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں پر زور دیں کہ اس تہذیبی شب خون کا راستہ روکیں۔ حکومت اور پارلیمنٹ پہلے مرحلہ میں اسے اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کرے کہ وہ بہرحال ایک آئینی ادارہ ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنے منشور میں خواجہ سراؤں کے لیے انڈسٹریل زون بنانے کی تجویز رکھی ہے جہاں خواجہ سرا کام کریں اور ان کی اسی زون میں کالونی، تعلیمی ادارے اور علاج گاہیں وغیرہ ہوں تاکہ انہیں معاشرے کا مفید اور کارآمد شہری بنایا جا سکے۔

تبصرے بند ہیں.