اگر جان بچانی ہے تو ایف سی مت جائیں کوئی اور کام کرلیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 

241

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ہتھیار ڈالنے والے 38 ایف سی اہلکاروں کی برطرفی کے خلاف اپیلیں خارج کردیں ۔ چیف جسٹس عمر عطا  بندیال نے ریمارکس دیے باچا پولیس سٹیشن پر حملہ ہوا تو سب اہلکاروں نے ہتھیار ڈال دیے تھے ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ  نے کہا کہ محکمہ تعلیم یا کسی دوسرے اداروں کے ملازم ہوتے تو کوئی بات نہ تھی ،ایف سی تو ایک ڈسپلن ادارہ ہے۔

 

ہتھیار ڈالنے والے 38 ایف سی اہلکاروں کی برطرفی کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل کا کہناتھاہم لڑنے کو تیار تھے ایس ایچ او نے ہتھیار ڈالنے کا کہا ۔

 

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کوئی گولی کھائی ہوتی تو مان لیتے اہلکاروں نے بہادری دکھائی اگر محکمہ ہی ان ملازمین کو نہ رکھے تو عدالت کیسے مداخلت کرے ۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ  کتنے ایف سی ملازمین نے ہتھیار ڈالے تھے۔ وکیل نے بتایا 44 اہلکاروں نے ہتھیار ڈالے تھے۔

 

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا  حیرانگی ہے کہ 44 ایف سی اہلکار بھی مل کر تھانہ کی حفاظت کر نہ سکے اگر جان بچانی ہے تو ایف سی مت جائیں کچھ اور کام کر لیں ۔ ایف سی کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔عدالت نے ملازمین کی اپیلیں خارج کر دیں۔

تبصرے بند ہیں.