مہنگائی کا سونامی

19

دوستو، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور سیلاب و طوفانی بارشوں کے باعث اشیاءکی سپلائی متاثر ہونے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔گزشتہ ہفتے کے دوران ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں مزید 1.83 فیصد اضافہ ہوگیا اور مجموعی شرح 44.58 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ متوسط طبقہ اور غریب اس کی زد میں زیادہ ہیں۔ یومیہ جتنی آمدنی نہیں، اس سے زیادہ خرچ ہے۔ تعلیمی ادارے، دواخانے اور سفر۔غرض ہر شعبہ مہنگائی کی زد میں ہے۔ ضروری بنیادی اشیاءجیسے دال، چاول، شکر، دالیں، مسالے، تیل، گھی وغیرہ کے دام بڑھنے سے متوسط اور غریب طبقے کے لئے مشکلیں پیدا ہوگئی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ آمدنی نہیں بڑھ رہی ، بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک کی معاشی صورتحال دن بہ دن بگڑتی جا رہی ہے۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ اس طرح کی پالیسی ترتیب دے کہ ہر انسان دو وقت کی روٹی سکون سے کھا سکے۔
مہنگائی کے طوفان نے ہر پاکستانی کو شدید متاثر کیا ہے اور ایک سروے کے مطابق 81فیصد پاکستانیوں نے مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے طرز زندگی کے معیار میں کمی کی ہے۔ مارکیٹ ریسرچ کمپنی آئپسوس(Ipsos)کی طرف سے کیے گئے اس سروے میں 81فیصد پاکستانیوں نے مہنگائی اور 51فیصد نے بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو اپنا سب سے بڑا خدشہ قرار دیا۔ کمپنی کی طرف سے یہ سروے پاکستان کے علاوہ افغانستان اور مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ کے پانچ ممالک میں بھی کیا گیا ہے۔جس میں صرف 28فیصد پاکستانیوں نے کرپشن اور محض 16فیصد نے غیرمعیاری تعلیم کو اپناخدشہ بتایا۔ حیران کن طور پر 94فیصد پاکستانیوں نے بڑھتی مہنگائی پر پریشانی کا اظہار کیا۔ 92فیصد شہریوں نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے وہ گزشتہ سال کی نسبت اب زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں۔درسی کتب، کاپی، اسٹیشنری کی قیمتیں بھی آسمان پر پہنچ گئیں، قلیل آمدن و تنخواہ دار طبقے کے لئے اپنے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی بھی خواب بن گئی، پچھلے برس 6سے 7ہزار روپے میں ملنے والا سالانہ کورس اب 10سے 12ہزار روپے تک کا مل رہا ہے، آمدن کم، اخراجات زیادہ ہیں، بچوں کو بہتر خوراک و غذا کی فراہمی یقینی بنائیں یا تمام رقم تعلیمی اخراجات پر خرچ کریں؟ ۔ عالمگیر وبا کورونا وائرس کے بعد عالمی کساد بازاری کے باعث دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی مہنگائی و بیروزگاری کا عفریت عوام کا خون چوس رہا ہے، کھانے و پینے کی اشیاءسمیت روز مرہ استعمال میں آنیوالی تمام چیزوں کے نرخ آسمان سے باتیں کررہے ہیں، لوگوں نے غیر ضروری اشیاءکا استعمال بالکل ترک کردیا ہے اور ضرورت کی چیزیں بھی محدود پیمانے پر خرید رہے ہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کو تاحال نیا کورس نہیں دلاسکی ہے، کیونکہ کتاب، کاپی، اسٹیشنری کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگ پہلے ہی ذہنی اذیت سے دوچار ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمایا۔۔ اے مہاجرین کی جماعت! پانچ باتیں ہیں جب تم ان میں مبتلا ہوجا¶ گے، اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تم اس میں مبتلا ہو،وہ پانچ باتیں یہ ہیں۔۔ پہلی یہ کہ جب کسی قوم میں علانیہ فحش (فسق و فجور اور زناکاری) ہونے لگ جائے، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھیں۔ دوسری یہ کہ جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور اپنے حکمرانوں کی ظلم و زیادتی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تیسری یہ کہ جب لوگ اپنے مالوں کی زکوٰة ادا نہیں کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش کو روک دیتا ہے، اور اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا۔ چوتھی یہ کہ جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عہد و پیمان کو توڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے علاوہ لوگوں میں سے کسی دشمن کو مسلط کردیتا ہے، وہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے چھین لیتا ہے۔ پانچویں یہ کہ جب ان کے حکمران اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، اور اللہ نے جو نازل کیا ہے اس کو اختیار نہیں کرتے، تو اللہ تعالیٰ ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈال دیتا ہے۔ سنن ابی ماجہ کی اس حدیث کو دیکھا جائے تو جن باتوں سے پیارے آقا صلوة والسلام نے ہمیں خبردار کیا وہی تمام معاملات ہمارے معاشرے میں سرایت کرچکی ہیں۔۔ہمیں اجتماعی طور پر سوچنا ہوگا اور اجتماعی استغفار کرنا ہوگا۔۔ باباجی بتارہے تھے کہ ۔۔حضرت مولانا یوسف صاحبؒ کے زمانے کا قصہ ہے کہ ان کے زمانے میں مہنگائی بہت بڑھ گئی، کچھ لوگ مولانا کے پاس آئے اور مہنگائی کی شکایت کی اور کہا کہ کیا ہم حکومت کے سامنے مظاہرے کرکے اپنی بات پیش کریں؟ حضرت ؒنے ان سے فرمایا۔۔ مظاہرے کرنا اہلِ باطل کا طریقہ ہے۔ پھر سمجھایا کہ دیکھو! انسان اور چیزیں، دونوں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ترازو کے دو پلڑوں کی طرح ہیں، جب انسان کی قیمت اللہ تعالیٰ کے یہاں ایمان اور اعمالِ صالحہ کی وجہ سے بڑھ جاتی ہے تو چیزوں کی قیمت والا پلڑا خودبخود ہلکا ہوکر اُوپر اٹھ جاتا ہے اور مہنگائی میں کمی آجاتی ہے۔ اور جب انسان کی قیمت اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کے گناہوں اور معصیتوں کی کثرت کی وجہ سے کم ہوجاتی ہے تو چیزوں والا پلڑا وزنی ہوجاتا ہے اور چیزوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، لہٰذا! تم پر ایمان اور اعمالِ صالحہ کی محنت ضروری ہے، تاکہ اللہ پاک کے یہاں تمہاری قیمت بڑھ جائے اور چیزوں کی قیمت گرجائے۔ پھر فرمایا۔۔ لوگ فقر سے ڈراتے ہیں، حالانکہ یہ شیطان کا کام ہے، اس لیے تم لوگ جانے انجانے میں شیطانی لشکر اور ایجنٹ مت بنو۔ اللہ کی قسم! اگر کسی کی روزی سمندر کی گہرائیوں میں کسی بند پتھر میں بھی ہوگی تو وہ پھٹے گا اور اس کا رزق اس کو پہنچ کر رہے گا۔ مہنگائی اُس رزق کو روک نہیں سکتی جو تمہارے لیے اللہ پاک نے لکھ دی ہے۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔اللہ پاک سے چلتے پھرتے باتیں کریں، اللہ پاک کو اپنی پریشانیاں بتائیں (وہ سب جانتا ہے، لیکن اسے یہ پسند ہے کہ بندہ اللہ کے سامنے اپنی حاجات رکھے) اور بولیں کہ۔۔اے اللہ پاک! آپ کے علاوہ کوئی میری پریشانیاں حل نہیں کرسکتا، میری مدد کریں، مجھے اکیلا نہ چھوڑیں، یعنی اپنی دعا کی طاقت کو بڑھائیں۔ ۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

تبصرے بند ہیں.