گورننس،سسٹم اور قدرتی آفات

42

باشعور اور ذہنی طور پر صحت مند مستقبل بارے سوچنے والی قومیں تجربات کی بھٹی سے کندن بن کر نکلتی ہیں مگر بے شعور اور فکر فردا سے عاری قومیں اسی بھٹی کا رزق بن کر جل کر خاک ہو جاتی ہیں،اب ہمیں اپنا جائزہ خود لینا ہو گا کہ ہم نے تجربات سے کیا سیکھا کیا پایا اور کیا کھویا،آج ملک سیلا ب کیساتھ ڈینگی اور کرونا جیسے وبائی امراض میں گھرا ہوا ہے،ان تینوں آسمانی بلاؤں کا مقابلہ کرنے کیلئے ضلعی سطح پر مضبوط انتظامی ڈھانچے کی ضرورت تھی جو ماضی قریب میں مجسٹریسی نظام کی لڑی کی صورت میں ہمارے ہاں کامیابی سے نافذ العمل تھا مگر تجربات یا دوسروں کی نقالی کے شوق میں ہم نے اس نظام کا تیا پانچا کر ڈالا،مقامی حکومتیں بھی اس حوالے سے انتہا درجہ معاون اور مفید ثابت ہو سکتی تھیں مگر ہم نے بلدیاتی نظام کو کبھی اہمیت ہی نہیں دی،ہر حکومت اپنا نظام متعارف کراتی رہی جس کے نتیجے میں یہ ادارہ آج تک تجربات کی بھٹی میں گل سڑ رہا ہے،ماضی کا مشاہدہ کرنے کے بعد ببانگ دہل یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ موجودہ صورتحال میں قانون اور ضابطوں سے لیس با اختیار میجسٹریسی، کمشنری نظام او ر عملہ بحران سے بڑے احسن طریقہ سے نبرد آزما ہو سکتے تھے،ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اگر ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں سیلاب متاثرین کے ریسکیو،ریکوری اور ریلیف کیلئے کام کرتی تومختصر وقت میں زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے تھے۔
ڈپٹی کمشنر کے ماتحت اسسٹنٹ کمشنرز انتظامی امور اور ایگزیکٹومجسٹریٹ کے ذریعے نچلی سطح پر عدل و انصاف کے معاملات کو بہتر انداز سے سنبھالا جا سکتا تھا،جبکہ سیاسی اور عوامی معاملات کو مئیر،چیئرمین یا ناظم اور اس کے ماتحت عملہ اور منتخب نمائندوں کے ذریعے مقامی سطح پر ہی حل کرنا ممکن تھا، ڈپٹی کمشنر اور ان کا ماتحت عملہ ضلع کے حدود اربع،مقامی آبادی،مسائل،تنازعات سے براہ راست آگاہ ہوتے ہیں،اس لئے وہ بہتر طور پر امدادی سرگرمیوں کی انجام دہی کر سکتے ہیں،مقامی سطح پر فنڈز کا حصول بھی ان کیلئے چنداں مشکل نہیں،متاثرین کے مسائل کا فوری حل کمشنری نظام اور بلدیاتی اداروں کے ذریعے سے بخوبی حل کئے جا سکتے ہیں،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا کام صرف فنڈز کی فراہمی اور نگرانی تک محدود رہنا چاہئے۔
پنجاب درجنوں ممالک سے بڑا صوبہ ہے،18ویں ترمیم کے بعد جبکہ وفاق نے اپنے بہت سے اختیارات صوبوں کے سپرد کر دئیے ہیں ضلعی یا مقامی حکومتوں کا با اختیار ہونا نا گزیر ہو چکا ہے،چودھری پرویز الٰہی ایک متحرک وزیراعلیٰ ہیں،عوامی نمائندوں سے ان کا ربط ضبط بھی مضبوط ہے مگر ان کیلئے راجن پور، بہاولنگر، میانوالی،خوشاب،لیہ،اٹک اور دور دراز علاقوں کے مسائل سے فوری آگاہی اور ان کا حل تلاش کرنا ممکن نہیں،شمالی،جنوبی،وسطی پنجاب کے مسائل میں یکسانیت نہیں تو اضلاع میں کیسے ممکن ہو سکتی ہے،اس کیلئے مقامی حکومتوں کا قیام بہت ضروری ہے اور ان کیساتھ کمشنری اورمجسٹریسی نظام کی مضبوطی اور استحکام بھی ناگزیر ہے،یہ دونوں مل کر معمولی اخراجات اور کم وقت میں مقامی مسائل کو حل کر سکتے ہیں،سیاسی،انتظامی،عدالتی اکٹھ صرف مقامی حکومتوں میں ممکن ہے اور اس سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوا جا سکتا ہے۔
لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ہر ضلع کو شہری اور دیہی بنیاد پر تقسیم کیا گیا ہے،دیہات کے معاملات کیلئے ضلع کونسل اور شہری علاقوں میں ناظم یا مئیر عوامی مسائل کا حل تلاش کریں گے،ڈپٹی کمشنر اور ان کا عملہ انتظامی،ایگزیکٹو مجسٹریٹ عدل و انصاف اور منتخب ضلعی انتظامیہ سیاسی معاملات کو دیکھیں گے تو مقامی طور پر ان مسائل کا حل تلاش کر لیا جائے گا،کہ سب نہ صرف ایک دوسرے سے آشنا ہوں گے بلکہ مقامی مسائل کا بھی ادراک رکھتے ہوں گے،مگر اس ایکٹ میں ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کے اختیارات محدود، ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے اختیارات تحلیل کر دئیے گئے تھے،اس نظام کی خامی یہ تھی کہ ہر کوئی سیاسی حوالے سے جانبدار تھا،جبکہ کمشنری نظام اور مجسٹریسی سیاسی مداخلت سے پاک تھی،اس بحرانی دور میں اگر ڈپٹی کمشنر کیساتھ ایگزیکٹومجسٹریٹ اور ضلع حکومت کے اداروں کو متحرک کیا جائے تو مقامی طور پر سیلاب متاثرین کو نئی زندگی دی جا سکتی ہے۔ضرورت ہے کہ نت نئے تجربات کرنے کے بجائے وہی راستہ اختیار کیا جائے جس پر چلتے ہوئے ماضی میں ہم نے ترقی کی منازل تیزی سے طے کی تھیں۔
پنجاب میں بارشوں اور ان کے نتیجے میں سیلاب کے نقصانات کو کم کرنے اور لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے صوبائی انتظامیہ نے چیف سیکرٹری کامران علی افضل کی سربراہی میں سیاسی عہدیداروں اور وزرا سے بڑھ کر بڑی محنت سے کام کیا،آبپاشی،تعمیرات،ریلیف کے محکموں کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب کے سیکرٹریوں کے علاوہ این جی اوزاور فلاحی اداروں کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔منگل کے روز پنجاب حکومت نے صوبائی سروس کے ایک افسر رائے منظور ناصر کو محکمہ آبپاشی کا سیکرٹری بھی تعینات کر دیا ہے،محکمہ آبپاشی میں نوے کی دہائی کے پہلے چھ سالوں تک سیکرٹری کی پوسٹ پر انجینئر سیکرٹری تعینات ہوتے تھے مگر میاں شہباز شریف نے اپنی پہلی وزارت اعلیٰ کے دور میں وفاقی سروس کے ایک افسر سلیمان غنی کو اس محکمے کا پہلا ڈی ایم جی سیکرٹری لگانے کا تجربہ کیا جو بہت کامیاب رہا،سلیمان غنی ایک ویژنری افسر تھے اور انہوں نے محکمہ آبپاشی کی کایا ہی پلٹ دی جس کے بعد یہاں وفاقی سروس کے سیکرٹریوں کی تعیناتی شروع ہوئی، جن میں میجر اعظم سلیمان،ملک ربنواز،کیپٹن سیف انجم اور شہر یار سلطان جیسے محنتی اور اپ رائٹ افسر قابل ذکر ہیں۔رائے منظور ناصر بڑے خوش قسمت افسر ہیں کہ وہ صوبائی سروس سے تعلق رکھنے والے، اس بڑے محکمہ کے پہلے افسر ہیں،موجودہ حکومت صوبائی سروس کے افسروں پر بہت بھروسہ کر رہی ہے اور انہیں کافی محکموں کا سیکرٹری لگایا گیا ہے،معلوم ہوا ہے کہ صوبائی سروس کے ہی ایک اور اچھے افسر زمان وٹو کو بھی جلد اہم تقرری دی جا رہی ہے،حال ہی میں صوبائی افسر لیاقت چٹھہ کو کمشنر ڈی جی خان لگایا گیا ہے۔ پنجاب میں چند ایک تقرریوں کو چھوڑ کر باقی پوسٹوں پر بہت محنتی، کام کرنے والے اور قابل افسر لگائے جا رہے ہیں،جن میں کمشنر سرگودھا مریم خان اور کمشنر لاہور عامر جان بھی شامل ہیں۔ایل ڈی اے کے معاملات پر ابھی تک انگلیاں اٹھ رہی ہیں،بتایا جا رہا ہے کہ چند انتہائی بااثر لوگوں کے مفادات کے لئے خاموشی سے ایک خاص کام کا دائرہ وسیع اور ان کی مرضی کے مطابق کیا جا رہا ہے جن سے انکے لئے اربوں کھربوں کے راستے کھل جائیں گے۔سابق وزیر اعظم عمران خان کو ایسے معاملات کی مکمل اطلاع ہے اور وہ یہاں اسی لئے اپنی مرضی کے افسر تعینات کرانا چاہ رہے تھے مگر ان افسروں کے متعلق ایسی دھول اڑائی گئی کہ ان کی تعیناتی رک گئی۔اب ایسے ہی معاملات پر چیک اینڈ بیلنس کے لئے پی ٹی آئی کے میاں اسلم اقبا ل کو نہ صرف زیادہ بااختیار بلکہ ایل ڈی اے کا وائس چیئر مین بھی بنا دیا گیا ہے،آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

تبصرے بند ہیں.