ایک طرف سیلاب دوسری طرف جلسے

11

سیلاب متاثرین کی تعداد ساڑھے تین کروڑ سے عبور کر چکی ہے اور عالمی اداروں نے نقصانات کا اندازہ 10 بلین ڈالر سے زیادہ لگایا ہے مگر اس وقت سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ہزاروں ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں جس سے کپاس اور کھاد کی پیداوار آدھی رہ گئی ہے جبکہ گندم کی بوائی شدید متاثر ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان جو کہ پہلے ہی Food in flation کا شکار ہے سیلاب کی وجہ سے غذائی قلت کا شکار ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جس سے عوام کی زندگی اور زیادہ مشکلات میں گھر جائے گی۔
سیلاب سے نبٹنے کے معاملے میں بد انتظامی کا پہلو باوجود کوشش کے نظر انداز کرنا ممکن نہیں اس سلسلے میں اچھی بات تو یہ ہے کہ پاکستانی قوم نے اپنے متاثرہ بھائیوں کی بحالی کے لیے دل کھول کر امداد دی ہے اور متاثرہ علاقوں میں موقع پر جاری ریلیف آپریشن میں گورنمنٹ سے زیادہ رضا کار تنظیمیں کام کررہی ہیں لیکن اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ ضلعی حکومتیں اور مقامی انتظامیہ کے پاس beneficiaries کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے امدادی سامان اور خوراک کا بڑا حصہ غیر مستحق لوگوں کو جا رہا ہے جو پورا ایک بھاری مافیا ہے یہی وہ لوگ ہیں جو راستوں میں گھات لگا کر شاہراہوں پر بیٹھے ہیں اور امدادی ٹرکوں کو لوٹ لیتے ہیں بعد ازاں یہ لوٹا ہوا مال فروخت کر دیا جاتا ہے۔
قدرتی سیلاب تو برداشت کیا جا سکتا ہے لیکن اس سیلاب کا ظالمانہ انسانی پہلو بھی ہے جس کی ایک مثال سندھ کے ضلع دادو اور جامشورو کے علاقے میں واقع منچھر جھیل ہے جو پاکستان کی سب سے بڑی جھیلوں میں شمار ہوتی ہے جب یہاں پانی کا دباؤ حد سے زیادہ بڑھنے لگا تو جھیل کے مختلف حصوں میں حکومت کی جانب سے شگاف ڈال دیے گئے جس سے نواحی دیہات میں بہت بڑی تباہی ہوئی ان متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے جن کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں انخلا کا موقع دیا جاتا تو ہمارا اتنا نقصان نہ ہوتا مال اور مویشی تک سیلاب میں بہہ گئے وہ لوگ صرف اپنی جانیں بچا سکے۔
اس قومی سانحہ کی ہلکی سی تصویر کشی کے بعد اب ملک کی سیاسی اور حکومتی صورت حال کی طرف آتے ہیں۔ دکھ اور سیلاب میں ڈوبی ہوئی قوم اس وقت روزانہ کی بنیاد پر پی ٹی آئی کے جلسے بڑی حسرت سے دیکھ رہی ہے کیا موجودہ حالات میں انتخابی اور سیاسی جلسوں کا کوئی اخلاقی جواز بنتا ہے یہ ہماری سمجھ سے تو باہر ہے۔ پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ انہوں نے 5 ارب روپے کے وعدے ٹیلی فون پر جمع کرکے ملک پر بہت احسان کر دیا ہے حالانکہ
حقیقت یہ ہے جس بینک اکاؤنٹ میں یہ رقم جمع ہونا تھی اس میں 500 کروڑ میں سے ابھی تک 2 کروڑ موصول ہوا ہے۔ ایسے لوگوں نے بھی امداد کے جھوٹے اعلانات کیے ہیں جو ماضی میں اس طرح کے اعلان کر کے منحرف ہو جانے میں ریکارڈ یافتہ ہیں۔ تحریک انصاف کو چاہیے تھا کہ آپ امداد بے شک نہ دیں مگر آپ عوام کے زخموں پر مرحم رکھنے کے بجائے خدارا نمک چھڑکنا تو بند کر دیں کیا یہ سیاسی جلسوں کا وقت ہے۔ ایک جلسہ کرنے پر تقریباً 20 کروڑ روپیہ خرچ آتا ہے یہی رقم آپ اگر سیلاب متاثرین کو دے دیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔
عمران خان صاحب نے اگر اقتدار میں آکر کسی کو سب سے زیادہ نواز ا ہے تو وہ محترم عارف علوی صاحب ہیں جن کو صدر پاکستان کے منصب جلیلہ پر فائز کر کے اتنی بڑی عزت افزائی کی گئی۔ صدر عارف علوی ایک سچے پاکستانی ہیں اور ان کی سیاسی جدوجہد سب کے سامنے ہے کچھ عرصہ قبل انہوں نے وسیع تر قومی مفاد میں ملک میں سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے ڈائیلاگ کی بات کی جو کسی بھی درد دل رکھنے والے پاکستانی کے لیے نہایت ہی جائز اور قومی وفاداری کی بات تھی مگر تحریک انصاف نے فوری طور پر ان کے بیان سے اظہار لا تعلقی فرما دیا۔ صدر اور عمران خان کے اندرونی اختلافات کی پی ٹی آئی والے جتنا مرضی پردہ ڈالیں اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ آرمی کے بارے میں عمران خان کے حالیہ بیان پر جب علوی صاحب سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس کا جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں۔
البتہ عمران خان کی فائر برانڈ یا شعلہ بیانی سیاست میں ایک موڑ پر آیا ہے کہ وہ اب ڈیڈلائن نہیں دیتے ورنہ وہ پہلے 3 دن کا الٹی میٹم بھی دے دیا کرتے تھے کہ اسلام آباد بند کر دیں گے اب اس معاملے میں کسی حد تک humble یا عاجزی سے کام لیتے ہیں اور صرف اتنا کہتے ہیں کہ انتخابات کرائے جائیں اب وہ ورنہ کا لفظ روک لیتے ہیں۔ ان کو دیگر سیاسی امور میں بھی ایسا کرنا چاہیے وہ ہر روز اپنے بیانات کی وجہ سے یا تو عدالتوں میں حاضر ہو رہے ہیں یا عوام میں تمسخر کا نشانہ بن رہے ہیں جیسے سال کے 12 موسم اور ایک لاکھ 40 ہزار پیغمبر۔ اعداد و شمار سے لگتا ہے کہ ان کا میتھ کمزور ہے شاید 50 لاکھ نوکریاں اور ایک کروڑ گھر کے معاملے میں بھی انہیں اعداد و شمار کی غلطی لگی ہے یہی حالات Telethon کا ہے البتہ فارن فنڈنگ کے اعداد و شمار ان کے لیے ابھی تک تلوار کی طرح لٹک رہے ہیں۔
اس وقت سب سے زیادہ اہم موضوع توہین عدالت کیس میں ان کی آج ہونے والی پیشی ہے تحریک انصاف بضد ہے کہ وہ غیر مشروط معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ اس طرح اپنے آپ کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑنے میں رسک یہ ہے کہ اگر انہیں یوسف رضا گیلانی کی طرح عدالت برخاست ہونے تک کی سزا سنا دی جاتی ہے تو وہ یقینا نا اہل ہو جائیں گے اس وقت پارٹی کے اندر ایک سوچ یہ ہے کہ معافی مانگ کر جان بچا لی جائے مگر ان کی قانونی ٹیم کے Legal Eagle کہتے ہیں کہ کیس فائٹ کرنے کے بجائے عدالت کو یہ کیوں موقع دیا جائے کہ وہ آپ کو سزا سنا دے۔ شاید پردے کے پیچھے یہ گارنٹی لی جائے گی کہ اگر معافی مانگ لیں تو ہمیں بریت کی ضمانت دی جائے مگر یہ اس وقت ایک Remote Possibility ہے۔ قانونی حلقوں میں ایک نئی Academic بحث یہ چلی ہوئی ہے کہ اگر آپ عوام میں مقبولیت کے اعلیٰ ترین مقام پر ہیں تو کیا یہ مقام آپ کو اس بات کی کھلی چھٹی دیتا ہے کہ آپ کے منہ میں جو آئے آپ الیکشن کمیشن عدلیہ اور فوج کے خلاف لفظی خنجر آزمائی کرتے چلے جائیں۔ اس وقت عمران خان صاحب پر تقریباً مختلف عدالتوں میں ڈیڑھ درجن کے قریب مقدمات زیر سماعت ہیں اور یہ سب ان کے اپنے پیدا کردہ ہیں لیکن وہ پھر بھی جلسوں میں عوام کو دیکھ کر جذبات کے سیلاب میں بہہ جاتے ہیں۔
عمران خان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر وہ اپنا سیاسی رویہ درست رکھتے تو آج بھی ملک کے وزیراعظم ہوتے وہ اپنے پارٹی ممبران کو اپنا نائب قاصد سمجھتے تھے جس سے دل برداشتہ ہو کر کچھ لوگ ان کا ساتھ چھوڑ گئے جس سے ان کی حکومت کریش ہو گئی اس واقعہ کو انہوں نے سیدھا سیدھا امریکا پر ڈال دیا۔ IMF کے ساتھ 100 روپے پٹرول بڑھانے کا تحریری معاہدہ کیا اور ساتھ ہی ملک میں 20 روپے پٹرول کم کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ سیاسی شعبدہ بازی کی حد تک تو ایک آدھ بار چل جاتا ہے مگر یہ آپ کے سیاسی calibre یا قدو قامت کے لیے ایک کھوکھلا کر دینے والی تدبیر ہے۔ اس کا فطری فائدہ آپ کے سیاسی مخالفین کو ہوتا ہے۔ انہیں کچھ کیے بغیر ہی آپ پر فوقیت حاصل ہو جاتی ہے۔ اب یہ کسی کو نہیں پتہ کہ شہباز شریف پر 16 ارب روپے کی کرپشن پر فرد جرم عائد ہونا تھی مگر اگلی پیشی سے پہلے عمران خان صاحب کے طرز سیاست نے انہیں وزیراعظم بنوا دیا۔ یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ پر چٹان کی طرح کھڑا رہے گا کہ آپ تو ملک سے کرپشن کے خاتمے اور لوٹا ہوا مال واپس لانے کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر اقتدار میں تشریف لائے تھے۔ آپ 4 سال تک کیا کرتے رہے۔ عمران خان کی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی جارحانہ سیاست اور ناقص شورائیت ان کے سارے مسائل کی جڑ ہے۔ انہوں نے اپنی کمٹمنٹس سے انحراف کیا جو ان کے دوبارہ بر سر اقتدارآنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تبصرے بند ہیں.