وفورِ صداقت

17

وفورِ محبت کی طرح وفورِ صداقت بھی چھپائے نہیں چھپتا، خوشبو کی طرح ظاہر ہو کر رہتا ہے۔ جب انسان اندیشہئ سود و زیاں سے نکل جاتا ہے تو وہ صداقت کے اظہار میں بے باک ہو جاتا ہے۔ اب اسے کوئی نہیں روک سکتا کیونکہ وہ اپنے خوف پر قابو پا چکا ہے۔ وہ مصلحت اور مداہنت کے پْرفریب جال سے نکل چکا ہے۔ اس پر کلمے کا رنگ طاری ہو چکا ہے۔ وہ اقبالؒ کا شاہین ہے۔ شاہین — مردِ مومن کا استعارہ — ایک روشن ستارہ! مفادات کا شبستانِ وجود اْس کی اذان سے لرزتا ہے، مادیت کے صنم کدے کے پروہت اسے جا بجا روکنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ مثلِ خلیل سب کے سر قلم کر چکا ہے اور کلہاڑا سب سے بڑے بت کے کندھے پر رکھ  دیتا ہے— قوم کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ تقدیس کے بالاخانوں سے بھڑکتی ہوئی آتشِ غضب اس کی طرف لپکتی ہے— لیکن صداقت سلامتی ہے، اس لیے اس کے قریب پہنچ کر بار بار سرد ہو جاتی ہے۔
مصلحت اور مداہنت مفادات سمیٹنے اور بچانے کے ہتھکنڈے ہوتے ہیں۔ درحقیقت ہر انسان اپنے کندھے پر ایک بچہ اٹھائے پھرتا ہے، بچہ معصومیت کا نمائندہ ہے۔ بچے کو ادب و آداب کے لالی پاپ دے کر چپ کرانے کی تدبیر کی جاتی ہے، مبادا وہ بھرے مجعمے میں بے ساختہ کہہ دے”بادشاہ ننگا ہے”
بہرطور اپنے اندر کا سچ باہر لانے کے لیے کلمہ پورا پڑھنا ہوتا ہے— کلمے میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ قال حال میں بدلتا ہے تو زمانہ بدلتا ہے، زمانے کا رنگ بدلتا ہے۔ انقلاب قلب کے بدلنے سے آتا ہے۔ کہتے ہیں انقلاب دستک دے رہا ہے، لیکن اس کی پہلی دستک دل کے دروازے پر ہوتی ہے۔ دل کا دروازہ کھل جائے تو انقلاب اندر آ جاتا ہے، وگرنہ باہر گلیوں بازاروں میں سر پٹختا رہ ہے۔
لاخوف کی منزل پر پہنچنے والے پر ہی صداقت آشکار ہوتی ہے— اور وہ وفورِ صداقت کا شکار ہوتا ہے۔ جان، مال اور منصب کے چھن جانے کا خوف— جان، مال اور منصب کے نہ ملنے کے خوف کا ہم وزن ہوتا ہے۔ اس وزن کا بوجھ جس نے اٹھایا، اس کا دل بوجھل ہو گیا۔ بوجھل ہو جانے والا دل کسی لطیف نکتے کا در نہیں کھول سکتا۔ اسے یہ بات ہضم نہیں ہو سکتی کہ اس رزق سے موت کیونکر اچھی ہوتی ہے جس رزق سے پرواز میں کوتاہی آنے کا امکان ہو۔ حلال اور حرام رزق میں فرق کرنا تو درکنار، وہ اس خوف سے مر جاتا ہے کہ رزق کی
بندش ہو گئی تو وہ کیا کرے گا؟ کہاں سے کھائے گا، کہاں سے لائے گا؟ کہاں سے لگائے گا؟  لاخوف کی منزل کے راہیوں کے لیے مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ نے ایک نسخہ تجویز کیا ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ رزق کے بارے میں تشویش راہِ طریقت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ "کرن کرن سورج” میں یہ قول بھی جگمگا رہا ہے "اندیشہِ سود و زیاں اور فقر کا بیک وقت کسی ایک شخص میں اکٹھا ہونا ایسے ہی ناممکن ہے جیسے کسی چیچک زدہ چہرے کا خوبصورت ہونا” پس! اپنی باطنی صورت کی حفاظت اگر درپیش ہے تو اندیشہئ سود و زیاں سے ماورا ہو کر بات کرنی چاہیے، بات سمجھنی چاہیے۔ حضرتِ اقبالؒ لاالٰہ الااللہ کے جو تقاضے بتاتے ہیں، انہیں پورا کرنے کا شوق اگر دل میں بیدار ہو جائے تو ایک بار ضرور سوچ لینا چاہیے کہ اس کی قیمت کیا ہے۔ علامہ فرماتے ہیں:
کِیا ہے تْو نے متاعِ غرور کا سودا
فریب سْود و زیاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ
یہ مال و دولتِ دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بْتانِ وہم و گْماں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ
یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہمارے مفادات بھی برقرار رہیں اور ہم سچ کے علمبردار بھی پائے جائیں۔ یوں نہیں ہو سکتا کہ دولت اور منصب بھی قائم رہے اور ہم قافلہئ حق و صداقت کے میرِ کارواں بھی مان لیے جائیں۔
وفورِ صداقت میں مبتلا شخص ایک عجب ابتلا کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے اپنے اپنے نہیں رہتے۔ رنگا رنگ مفادات سے جڑی ہوئی سنگتیں بکھر جاتی ہیں اور انجامِ کار وہ  یکتا و تنہا رہ جاتا ہے۔ اس ابتلا و مصیبت میں اگر وہ استقامت سے کھڑا رہتا ہے تو پھر اسے ایک نئی زندگی، ایک نئی سنگت عطا کی جاتی ہے— یہ سنگت ان لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جو اس کے ساتھ فی سبیل اللہ جڑ جاتے ہیں، یہ سنگت مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے کیونکہ اس کی بنیاد میں کوئی مادی رشتہ و پیوند نہیں ہوتا۔ باب العلم حضرت علی وجہہ اللہ الکریم کا قول ہے کہ جسے اپنے چھوڑ دیتے ہیں، اسے غیر اپنا بنا لیتے ہیں۔
جماعت کی آستینوں میں اگرچہ مصلحت کے بت ہوتے ہیں لیکن حق و صداقت کا پیام بر حکمِ اذاں پر کاربند رہتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک غیر محسوس انداز میں اس کے گرد و پیش مخلصین کی جماعت تشکیل پانے لگتی ہے۔دراصل ایک قد آور شخص کا سچ ظاہر ہو جائے تو کمزور لوگوں کے اندر چھپا ہوا سچ بھی بیدار ہو جاتا ہے۔ اس باب میں مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ محفل کے دوران میں ایک واقعہ بتایا کرتے۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ ایک بزرگ اپنے چند مریدوں کے ہمراہ شالامار باغ میں چہل قدمی کر رہے تھے، یہ ہندوستان پاکستان بننے سے پہلے کا دَور تھا، نمازِعصر کا وقت ہو گیا، وہاں نماز پڑھنے کی کوئی مناسب جگہ نہیں مل رہی تھی۔ہندو،مسلم، سکھ سب لوگ باغ میں موجود تھے۔ بزرگ نے اپنے مرید کو حکم دیا کہ اذان دے۔ ہم نشیں خائف تھے کہ یہاں اذان دینے سے کوئی ہندو مسلم فساد ہی کھڑا نہ ہو جائے۔ بہرطور مرید نے اپنے مرشد کے حکم پر اذان دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے مسلمان اکٹھے ہو گئے اور نماز کے لیے صفیں بن گئیں۔ سب نے مل کر باجماعت نماز ادا کر لی۔ ایک شخص کے جرأت کرنے کی دیر تھی کہ جو لوگ اپنے سینوں میں ایمان چھپائے ہوئے تھے، ان سب کا ایمان ظاہر ہو گیا۔
وفورِ صداقت میں ڈوبا ہوا شخص مخلوقِ خدا کی بے پایاں محبت کا سزا وار بھی ٹھہرتا ہے۔ لوگوں کے دل بے محابا اس کی طرف راغب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ عقل کے بالاخانوں میں تکیہ لگائے مسند نشیں سوچتے رہ جاتے ہیں کہ آخر ہوا کیا ہے، مخلوق ایک شخص کے پیچھے دیوانی ہوئی پھرتی ہے۔ اب کوئی دل والا ہو تو بات سمجھ میں آئے— بات اتنی سی ہے کہ عشق اپنے مزاج میں خلیل ہوتا ہے۔ اس لیے آتشِ نمرود میں بے خطر کود پڑتا ہے۔ سنّتِ الٰہی یہی ہے کہ خلیل اللہ کی سنّت پر چلنے والے کو خلّت کی خلعت عطا کر دی جاتی ہے۔ جسے یہ خلعت ہبہ ہو تی ہے، وہ چار دانگِ عالم میں مشہور ومشہود ہوا جاتا ہے۔
صداقت اگر فرد کی تنگنائے سے نکل کر کسی اجتماعی ڈیلٹا کا رخ اختیار کر لے تو نظام کی اصلاح ممکن ہو جاتی ہے۔ بصورتِ دیگر ایک طرف منافقت کے ایوان ہیں اور ان کا تام جھام ہے، دوسری طرف سیلابِ بلا ہے اور اس میں مفلسی کے کیچڑ میں بہتے ہوئے غریبوں کے بچے ہیں — جو بچ گئے، وہ بھی کہاں بچے؟؟
جس طرح خدمت کے لیے ہمیں وفورِ محبت درکار ہے، اسی طرح ملک و ملت کے سدھار کے لیے وفورِ صداقت بھی درکار ہے۔ خدا کے لیے سچ بولنا شروع کر دو، سچ سننا شروع کردو، سچوں کا ساتھ دینا شروع کر دو۔ تاریخ میں سچ بولو، جغرافیہ محفوظ ہو جائے گا۔ ماضی کا سچ بیان کرو، تاکہ حال محفوظ ہو جائے— حال بہتر ہو جائے۔ حال بہتر ہو گا تو مستقبل بھی محفوظ ہو جائے گا۔ گمشدہ قافلہ پھر سے بازیاب بھی ہو جائے گا اور باریاب بھی!!
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

تبصرے بند ہیں.