کہیں ہم بوند بوند پانی کو نہ ترسیں

14

میں نے اکثر و بیشتر اپنے بڑوں کو یہ نصیحت کرتے ہوئے سُنا کہ کبھی اللہ کی حکم عدولی نہ کرنا ورنہ اللہ ناراض ہو جائے گا یہ بات وہ بالکل درست کہا کرتے تھے ،ہم بھی ہر کام شروع کرنے سے پہلے ایسا سوچتے بھی تھے مگر آج میرا سوال ہے کیا اب ہم ایسا سوچتے ہیں؟کیا ہم اپنے بچوں کو یہ نصیحت کرتے ہیں جو ہمارے بڑے کیا کرتے تھے؟ ہماری مسلمان قوم تو شاید قوم لوط اور قوم نوح کا عذاب بھی بھول چُکی ہے۔قرآن پاک کی سورہ فاطر (آیت :10 ،ترجمہ) ”اور جو لوگ بُری چالوں میں لگے رہتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے“۔
بیشک یہ اللہ ہی کی ناراضی کا انداز ہے کہ ہم مختلف آفات میں گھرے رہتے ہیں۔ زلزلہ، سیلاب، طوفان، وبائی امراض، مگر پھر بھی ہم رب تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ سیلاب سے اس وقت اتنی تباہی ہو چُکی ہے کہ بحالی میں ایک وقت لگے گا ،مگر جن کے خاندان اس سیلاب کی نذر ہو گئے اور اس دُنیا سے رُخصت ہو گئے اُن کے نقصان کا ازالہ تو کوئی نہیں کر سکتا ۔سیلاب کو ہر بار قدرتی آفت کا نام دے کر ہم سب بھول جاتے ہیں ۔یہ بات بھی سچ ہے کہ سیلاب زدگان کی امداد کے لیے بہت سے لوگوں نے کیمپ لگائے ،میں کسی کے جذبے پہ شک تو نہیں کر رہی مگر افسوس تو یہ ہے کہ سامنے کچھ دکھائی دے رہا کہ اور حقیقتاً کچھ اور ہوتا ہے۔وہ لوگ جنہوں نے کبھی فلاحی کاموں میں حصہ نہیں لیا اُنہوں نے بھی کیمپ سجا لیے۔دوسری طرف ہمارے سیاستدانوں نے بھی مرتے ہوئے انسانوں سے بھی فائدہ دوسرے ممالک کے فنڈسے حاصل کر لینا ہے۔
آج ہم قدرتی آفات میں گھرے ہوئے ہیں خدا کے عذاب کو دیکھ کر بھی ان دیکھا کر دیتے ہیں چند دنوں کے بعد ہم بھول جاتے ہیں۔ایک طرف ملک ڈوبا ہوا ہے سیلاب میں دوسری طرف ہر چوک چوراہے میں ایک کیمپ ساﺅنڈ سسٹم کے ساتھ سجا ہوا ہے ایک لمحے کو تو اس ساری صورتحال نے مجھے جھنجوڑا کہ ہماری قوم اور سیاستدان سب اپنی اپنی دکانداری میں مگن ہیں اُن کو اپنی اپنی بولیاں لگا کے بیچ رہے ہیں۔
ایک طرف سیلاب زدگان کی چیخ و پُکار تو دوسری طرف پنجاب کے وزیراعلیٰ کی کرسی کی لڑائی۔اس کرسی کی لڑائی نے ہی معاملات یہاں تک پہنچائے کہ وقت سے پہلے مون سون کی بارشوں کی کوئی پلاننگ تھی اور نہ اس طرف کسی وقت کے بادشاہوں کی توجہ گئی کیونکہ اس بات سے سب بری الزمہ ہو جائیں گے یہ کہہ کہ یہ ایک قدرتی آفت ہے۔جبکہ محکمہ موسمیات نے بھی زیادہ بارشوں کی پیشن گوئی کی تھی وقت سے پہلے ،چلیے مان لیا یہ ایک قدرتی آفت ہے مگر اُن علاقوں کو بروقت ریسکیو کرنے کی ذمہ داری کس کی تھی میں جمہوری جماعتوں کو جمہوری جماعتیں کم اور برانڈ زیادہ سمجھتی ہوں اور یہ حقیقت بھی ہے اس سے ہم بھاگ نہیں سکتے۔
ہر بار کیوں ہم ہر بڑی آفت کو بھول جاتے ہیں ،وہ اس لیے کہ ہمیں صرف اپنی فکر ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سیلاب بار بار کیوں آتے ہیں؟ یا اتنے بڑے پیمانے پہ کیوں ہمارا نقصان ہوتا ہے۔ماضی کے ساتھ اگر ہم موازنہ کریں تو سیلاب کی تباہ کاریاں اتنی سنگین نہ تھیں اُس کی سب سے اہم وجہ آبی گزر گاہوں میں تعمیراتی رکاوٹیں سیلاب کی شدت اور نقصان میں بھی اضافے کا سبب بنی ہے۔روائتی طور پر دریاﺅں اور ندی نالوں کے پاٹ چوڑے ہوتے تھے اور پانی کو بہاﺅ کا راستہ کھلا ملتا تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ جیسے آبادی میں اضافہ ہوا تو لوگوں نے تعمیرات میں جگہ کی تمیز کیے بنا دریاﺅں کے کنارے جو کبھی ممنوعہ علاقہ ہوتا تھا کہ وہاں پہ کسی بھی طرح زندگی گزارنے کا تصور نہیں کر سکتے تھے لوگوں نے مکانات تعمیر کر لیے صرف کناروں پہ نہیں بلکہ دریاﺅں کے بہت اندر تک گھر تعمیر کر لئے گئے، ماحول کی تبدیلی کے باعث دریاﺅں کا بہت سا حصہ جو سوکھ چُکا تھا وہاں بہت سے لوگ آباد ہو چُکے تھے۔ اس روش کی بدترین مثالیں، سوات، اور دیگر سیاحتی مقامات پہ ملتی ہیں جہاں ہر نالے اور ہر دریا پر قبضہ گیری دکھائی دیتی ہے۔
ہم اس تعمیرات پہ تو ڈسکس کرتے ہیں مگر اس میں جتنا قصور لوگوں کا ہے اُس سے زیادہ قصور متعلقہ اداروں کا بھی ہے کیونکہ جو غیر قانونی تعمیرات میں اضافہ ہوا ہے وہ اُسی وقت ہی ممکن ہوتا ہے جب اداروں کے ساتھ ساز باز کرکے جگہ کو خریدا یا فروخت کیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ بہت سی ایسی سرکاری اراضی بھی ایک عرصے سے سیاستدان بھی اداروں سے ساز باز کرکے فروخت کرتے چلے آرہے ہیں اور پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا تو میڈیا کے نمائندگان کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ 2010کے سیلاب اور ہونے والی تباہی سے بھی ہم نے کچھ نہ سیکھا اور کالام ،سمیت دریائے سوات کے ارد گرد تعمیرات کی اجازت دے کر اداروں نے غفلت کا مظاہرہ کیا ۔دریاﺅں کے پاٹ تنگ ہونے کی وجہ سے پانی کے بہاﺅ میں جب دُشواری ہوئی تو ارد گرد کی بستیاں پانی کے بہاﺅ کی تیزی سے ڈوبتی چلی گئیں۔
ان غیر قانونی تعمیرات کیوجہ سے جتنی تباہی دیکھنے کو ملی اس سے پہلے ایسی تباہی نہ تھی اگر 2010کی سیلابی تباہ کاریوں کو ہم یاد رکھتے اور اُس نقصان سے کچھ سیکھ لیتے تو شاید اتنی بڑی تباہی کا آج پھر سے سامنا نہ کرنا پڑتا۔بنیادی وجہ یہی ہے کہ آبادی میں اضافے اور سیاحت کی صنعت کو فروغ کے ساتھ مفاد پرستوں نے ہر قدرتی منظر پہ قابض ہونے کی کوشش کی اور دریا ﺅں کے راستوں میں کئی کئی منزلہ ہوٹل تعمیر کر لیے۔مگر سیلاب نہ صرف ان ہوٹلوں کو ملیا میٹ کرتے ہیں بلکہ وہ بستیاں جو دریائی بہاﺅ کی مار سے محفوظ تھیں بپھری ہوئی سیلابی موجوں کی زد میں آنے لگیں اصل میں دکھ اس بات کا ہے کہ ہم سب میں ایک چیز کی کمی ہے کہ ہم ہر چیز بہت جلد بھول جاتے ہیںجس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ماضی میں ہوئی تباہی سے زیادہ تکلیف دہ صورتحال کا سامنا ہمیں ہوتا ہے۔کیونکہ ہم نے آفات سے کچھ نہ سیکھا آپ دیکھیے گا اس سیلاب کو اور اس سے ہونے والی تباہ کاریوں کو چند روز تک یاد رکھا جائے گا چند روز تک سوشل میڈیا پہ بھی ڈسکس ہوگا اور میڈیا چینلز پہ بھی مگر چند ہی دن گزر جانے کے بعد وہی محاورہ سب پہ لاگو ہوتا ہے، ”رات گئی بات گئی“۔
مگر نہ تو اس تباہی سے کوئی کچھ سیکھے گا نہ ہی منی ڈیم بنائے جائیں گے کہ ہم لوگ سستی بجلی بنانے کے ساتھ ساتھ خود کو محفوظ کر لیں آنے والے وقت کے لیے پانی کو سٹور کر لیں کیونکہ موسمیاتی حدت آنے والے وقت میں بارشوں میں کمی کی نوید سنائی دے رہی ہے کہیں ہم بوند بوند پانی کو نہ ترسیں پینے کا پانی تو نایاب ہو ہی چُکا ہے کہ آج ہم وہ خرید کے پی رہے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم نے پانی کو سٹور نہ کیا تو مستقبل قریب میں ہم بوند بوند پانی کو نہ ترسیں۔

تبصرے بند ہیں.