آسمانی آفات اور ہمارے حالات

6

گزشتہ برسوں میں پاکستان نے متعدد قدرتی آفات مثلاً طوفان ، خشک سالی ، زلزلے اور سیلاب جیسی آزمائشوں کا سامنا کیا جن میں لاکھوں افراد کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا اور معاشی تباہی تو ناقابل بیان رہی۔ ابھی کچھ دن پہلے خشک سالی سے چولستان میں قیامت اتری ہوئی تھی۔ ہر ذی روح جاں بلب تھا اور ہر طرف العطش العطش کی صدا تھی ۔ ہزاروں جانور سسک سسک کے مر گئے۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بارش کی شکل میں ایک نئی آزمائش آ پہنچی جس نے سیلاب کی صورت میں ملک میں تباہی مچا رکھی ہے۔ 2010 کے بعد 2022 میں ایک مرتبہ پھر ملک کے بیشتر حصوں میں سیلابی صورت حال ہے۔ چاروں صوبوں میں قیامت کا منظر ہے ۔ صوبہ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع میں سیلاب کے بپھرے ریلوں نے تباہی مچا دی ہے۔ 2010 والی دہائیاں ایک بار پھر سننے کو مل رہی ہیں ۔
قدرتی آفات خصوصاً بارشوں سے تباہی صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں نقصانات ہوتے ہیں خواہ وہ امریکہ جیسی سپرپاور ہو یا ترقی یافتہ جاپان ۔ طوفانی بارشوں کی وجہ سے جتنا نقصان جاپان میں ہوتا ہے شاید ہی کسی اور ملک کا ہو ۔ 2010 کے سیلاب نے بھی تباہی مچائی اور گزر گیا لیکن اس مرتبہ سیلابی ریلے 2 ماہ سے زائد عرصہ سے تباہی مچا رہے ہیں ۔ این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق 14 جون سے جاری موسلا دھار بارشوں سے اموات کی تعداد 1030سے زائد ہے ۔ ان لقمہ اجل بننے والوں میں بچے ، بوڑھے، جوان اور عورتیں سبھی شامل ہیں۔ سیلاب کے باعث 9 لاکھ 49 ہزار گھر ،7 لاکھ 19 ہزار سے زائد لائیو سٹاک سیلاب کی نذر ہوئے، 3 ہزار 116 کلومیٹر شاہراہیں، 149 پل سیلاب میں بہہ گئے۔ 3 ہزار 82 کلو میٹر لمبی ریلوے لائن بھی متاثر ہوئی۔ این ڈی ایم اے نے بتایا کہ سیلاب نے 30 ملین افراد کو متاثر کیا جس کے باعث سیلاب زدگان کی اکثریت اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہو گئی ہے۔
آسمانی آزمائش و آفات اپنی جگہ مگر افسوس ہمارا مقتدر طبقہ اب بھی اقتدار اور سیاست کی میراتھن ریس میں دوڑ رہا ہے ۔مہنگائی کی وجہ سے سابق حکومت کے خلاف تحریک چلانے والے موجودہ حکمران 14 اگست کے اپنے کرتوتوں پر مطعون ہو ہی رہے تھے کہ اس آفت کی گھڑی میں کوئی قطر چلا گیا ، کوئی ترکی کی سیاحت میں مصروف ہے اور کسی کو کینیڈا کی فضا پسند ہے۔ دوسری طرف سابق وزیراعظم سرکاری ہیلی کاپٹر پر اپنی مہم چلا رہے ہیں۔ ایک الم ناک ویڈیو میں پانچ بھائی پانی کے اندر اس آس پر کھڑے تھے کہ ہمیں ریسکیو کرلیا جائے گا ۔ انہیں بچانے کے لیے سوشل میڈیا پر بھی کافی چرچا رہا مگر افسوس کے پی کے حکمران ہیلی کاپٹر ہوا میں اڑاتے رہے مگر ان کو ریسکیو نہیں کیا گیا۔ بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ سراج الحق کے بقول وفاقی و صوبائی حکومت نے ان کی درخواست پر کان نہ دھرے۔ حالانکہ یہی ہیلی کاپٹر علیمہ خان کو ریسکیو کرنے کے لیے بھاگے تھے ۔
دلی کرب یہ ہے کہ ملک پر حکمرانی کرنے اور جلسے جلوسوں میں کروڑوں کا خرچہ اور لاکھوں کا مجمع جمع کرنے والے سیاستدان کدھر چھپ گئے؟ تحریک انصاف کے یوتھیے پانی میں تیرتے ہوئے اپنے بھائیوں مدد کو پہنچے،پیپلز پارٹی کے جیالے سیلاب میں گھرے ہوئے لوگوں کا سہارا بنے اور نہ ہی ن لیگ کے پٹواریوں کی کوئی تصویر نظر آئی جو متاثرین سیلاب کے لیے گھر گھر جھولی پھیلائے پھر رہے ہیں ۔
حقیقت میں میدان عمل میں اگر کوئی کام کررہا ہے جو سب کو نظر بھی آرہا ہے اور جس کا اعتراف سب کر رہے ہیں وہ جماعت اسلامی کی الخدمت کے لوگ ہیں۔ وہ کیمپ لگانے سے گھر گھر مہم تک چلائے ہوئے ہیں ۔ اپنے سیلاب سے متاثر بھائیوں کی مدد کررہے ہیں ۔ صرف یہی نہیں کہ وہ مالی امداد کر رہے ہیں بلکہ آفت زدہ علاقوں میںعملی طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر لوگوں کو ریسکیو کر رہے ہیں جبکہ دیکھا گیا کہ ریسکیو کرتے کرتے اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کیا ۔
کچھ عاقبت نا اندیش پاک فوج کے خلاف زہر اگل رہے ہیں ۔ پاکستان آرمی وطن عزیز کا واحد ادارہ ہے جس نے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی ایک ٹھوس اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔ وقت گواہ ہے کہ اگر اس پاک سرزمین نے لہو کا خراج مانگا تو وہاں افواج پاکستان کے جوانوں اور افسروں نے ہمیشہ سبقت لی۔ اسی طرح ملک و قوم کو جب بھی ہنگامی حالات کا سامنا کرنا پڑا تو پاک فوج کے جانبازوں نے ملک کے وقار کو بلند کیا۔ سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بحفاظت نکالنا ہو یا ان لوگوں کو ریلیف مہیا کرنا، کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کے اقدامات ہوں یا ٹڈی دَل کے فصلوں پر حملوں کا سدباب، پاک فوج نے انتہائی مربوط اور منظم انداز میں اپنا کردار نبھایا۔ ہر سال مون سون کی بارشوں سے پاکستان میں سیلاب آتا ہے اور حکومت پاکستان اپنے اس ادارے کی خدمات بھی حاصل کرتی ہے۔ اس لئے افواج پاکستان نے باقاعدہ ایک ادارہ بنایا ہوا ہے۔ جسے Army Flood Protection and Relief Organization کا نام دیا گیا ہے جو کہ انجینئرنگ ڈائریکٹوریٹ کے تحت کام کرتا ہے۔آج بھی ہمارے فوجی جوان میدان عمل میں ہیں۔ ملک کی خدمت کرنے کا لہو جن کی نس نس میں چل رہا ہے وہ کب اپنے ملک کو تباہ ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔سیلاب زدگان بھائیوں کے لیے پانی پر تیرتے پھر رہے ہیں۔ پاک فوج کے جوان برف پوش چٹانوں سے سمندر کی تہہ تک اپنے ملک حفاظت کا فرض پورا کررہے ہیں اور ایسے لوگوں کے منہ پر طمانچہ مار رہے ہیں جو ان کے خلاف ہذیان بکتے ہیں ۔آج ہماری پاک فوج نے کہا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں کوٹھیک کرنے کے لیے قوم کی مدد چاہیے تو ہمیں اس کام میں صف اول پر ہونا چاہیے۔
اس وقت ملکی حالات کی بہتری کے لیے نہ صرف ملک کی مساجد میں بلکہ خانہ کعبہ تک میں دعائیں کی جارہی ہیں اور ہماری بھی یہی دعا ہے کہ اللہ ہمارا اتنا امتحان لے جتنا ہم برداشت کرسکتے ہیں اور وہ بوجھ نہ ڈالیو جو ہم برداشت نہ کرسکیںلیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر اشرافیہ نے اپنے انداز نہ بدلے تو خطرہ ہے کہ آسمانی آفات کے ستائے لوگ ان کے محلات اور جاگیروں کو زمین بوس نہ کردیں۔

تبصرے بند ہیں.