دعوؤں سے آہ وبکا کی سسکیوں تک

51

ملک کو ریاستِ مدینہ کی طرز پر بنائیں گے، برطانیہ جیسا نظام نافذ کیا جائے گا، میں صرف پنچاب ہی نہیں سندھ اور بلوچستان کا بھی لیڈر ہوں بلکہ سب سے پہلے پاکستانی ہوں اور پورے پاکستان کو ایک مثالی ملک بنایا جائے گا، ہم نے تو سندھ میں جو سہولیات دی ہیں کسی اور صوبے کے شہریوں کو میسر نہیں ہیں۔ یہ دعوے کان میں پڑتے ہی دْکھ سے بھرا ایک شخص کانپتے ہونٹوں اور آنکھوں میں خوف سموئے بلبلا اْٹھاہائے میرے دوست حسین وادیوں کے خوفناک مناظر میں جھوٹے اور کھوکھلے دعوں کی بے رحم موجوں میں بہہ گئے ،بے یارو مددگار عوام جو کہ اپنا گھر بار ، اپنا مال مویشی ، اپنے بیوی بچے اپنی آنکھوں کی سامنے بہتا دیکھ رہے ہیں اس سے زیادہ دردناک منظر اس دنیا میں کیا ہی ہو گا۔
افسوس !!!اتحادی بنانے کے لئے کروڑوں خرچ کئے گئے مگر اس ملک کی عوام کے تحفظ کے لئے حکمران ایک دوسرے کا منہ تکتے دیکھائی دے رہے ہیں، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات بارے طویل عرصے سے بات ہورہی ہے،دنیا بھر میں اس حوالے سے اقدامات اٹھائے جارہے اور اس سے بچاؤ کی تدابیر ہورہی ہیں مگر صد افسوس کہ وطن عزیز جو کہ اس عفریت کے شکار سرفہرست ممالک میں سے ایک ہے ، کے سیاسی زعما مسندکو اقتدار کی ہوس نے مصروف رکھا ہوا ہے، کئی ماؤں کی گودیں اْجڑ گئیں، گھروں کے گھر خالی ہو گئے، کئی مقامات کا نشان تک مٹ گیا۔ وہ حسین وادیاں جنہیں دیکھنے ملکی تو کیا غیر ملکی بھی دھڑا دھڑ آتے تھے آج وہ عبرت کا نشان بنے نظر آ رہے ہیں اْن حکمرانوں کے لئے جو کہتے تھے ہمیں اپنے ملک سے پیار ہے ہم اس ملک کی خاطر سب کچھ قربان کر دیں گے مگر قربان نہ کر سکے تو اپنی اقتدار کی ہوس نا کر سکے،وہ اس حوالے سے انتظامات تو دور کی بات اقدامات اْٹھانے کا بھی صرف تب سوچتے ہیں جب عالمی دنیا میں یہ مسئلہ موضوع بحث بنتا ہے کہ پاکستان ڈوب رہا ہے،،، مسئلہ انفراسٹرکچر کا نہیں بلکہ نیت کا ہے کہ بلوچستان جیسا قدرتی معدنیات سے مالا مال صوبہ ملک بھر میں سب سے پسماندہ ہے،،،، سیاستدان بلوچستان کا رخ بحالت مجبوری یا حکومت گرانے بنانے کے چکر میں کرتے ہیں، بلوچوں سے مانگی معافیاں اور منصوبوں کے اعلانات سب کاغذی ثابت ہوتے ہیں ،،، ملک بھر کے پسماندہ علاقوں کے افراد یا توپینے کے صاف پانی کو ترستے ہیں یا سیلاب میں بہہ کر اور کیچڑ میں پھنس کر اپنی قسمت کو کوستے لقمہ اجل بن جاتے ہیں ، سوشل میڈیا ہو یا ٹی وی چینلز ایسی دل دہلا دینے والی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں کہ ایسے میں کسی دشمن کو بھی اس حالت میں دیکھیں تو دل خون کے آنسو رونے لگے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کو پگھلتے گلیشئرز کے باعث آئندہ سالوں میں بھی سیلابی صورتحال کا سامنا رہے گا، پاکستان میں 2010 میں آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی مگر رواں سال جیسی صورتحال کی مثال تاریخ میں تو کہیں نہیں ملتی مگر آنے والے سالوں میں ایسا بار بار ہونا قرین از قیاس نہیں، اس وقت ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی صورت اقتدار کے گھوڑے پر سوار ہیں،کوئی وفاقی حکومت میں اتحادی ہے تو کسی نے صوبائی حکومت میں اپنی حصہ وصول کررکھا ہے مگر سیاسی بیان بازی کے علاوہ کہیں بھی موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ کے اقدامات نظر نہیں آتے ، مگر کبھی کسی نے موں سون کے موسم سے پہلے اپنے کسی خطاب یا بیان میں کسی بھی طرح کہ پیشگی اقدامات پر عمل کی بات نہیں کی، وہ کہتے ہیں نا پاؤں جس کے جلتے ہیں تکلیف بھی اْسی کو ہوتی ہے۔
ملکی حالات سیاست کی بھینٹ چڑھے تو سالوں بیت گئے مگر کب عالمی تحقیقاتی ادارے بارہا اس بات پپر زور دہے تھے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے ہمیں اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ کئی ملک صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے اور شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، تو ایسے میں جن ملکوں نے اپنی اندورنی اختلافات اور اقتدار کی جنگ سے ملکی مفادکو مقدم رکھا انہوں نے اقدامات کئے اور کچھ حد تک ان قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں، تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ہم نے خود کو نہج پر لے کر جانا ہے، کیا اب بھی صرف سیاست ہی چمکائی جائے گی یا پھر قومی مفاد کا سوچا جائے گا اور عوام اور ملک کی فلاح کی لئے تمام تر اختلافات اور کرسی کے لالچ کو ایک طرف رکھ کر کام کیا جائے گا، کاش کہ اقتدار کی دوڑ میں ہوش کے ناخن لیے جائیں اور عوام کی بقا کا سوچا جائے کہ یہ عوام اور ملک ہے تو اقتدار اور اختیار کے مواقع آتے ہی رہیں گے۔

تبصرے بند ہیں.