سیلاب ایک وقتی مسئلہ نہیں!!!!!

8

وطن عزیز کواس وقت بدترین سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ اب تک ایک ہزار کے قریب افراد کے جاں بحق ہونے اورلاکھوں لوگوں کے متاثر ہونے کی خبریں ہیں۔ اربوں روپے کی املاک ملیا میٹ ہو چکی ہیں۔، کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں جانور ہلاک ہو چکے ہیں۔لوگوں کے فوری مسائل میں خوراک اور ادویات کی کمی کے ساتھ ساتھ سر چھپانے کی جگہ کی عدم دستیابی ہے۔ عالم یہ ہے کہ سیلاب کا شکار ہوکر جاں بحق ہونے والوں کی تدفین تک کے لیے کوئی خشک جگہ تک دستیاب نہیں۔ اور یہ سلسلہ فوری طور پر تھمنے کے آثار بھی نظر نہیں آتے۔
حکومتی ادارے، پاک فوج، این جی اوز ، رضاکار تنظیمیں اور رفاعی ادارے اپنی اپنی بساط کے مطابق امدادی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور عوام کی جانب سے بھرپور مالی تعاون کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر روز دلخراش مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ کچھ ممالک نے امداد کا اعلان کیا ہے اور کچھ ممالک شائد آنے والے دنوں میں کر دیں۔ بین الاقومی اداروں کی جانب سے بھی کچھ نہ کچھ امداد کی توقع ہے۔
یہ ہے خلاصہ اس قدرتی آفت کا جس کا پاکستان کے عوام کو اس وقت سامنا ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جن لوگوں کو اس قدرتی آفت کا براہ راست سامنا ہے، جن کے پیارے بچھڑ گئے، جائیدادیں اور مکان اور کاروبار تباہ ہو گئے، مویشی ہلاک ہوگئے اور نوکریوں پر جانے والے ڈیوٹی پر حاضر نہ ہونے کی وجہ سے اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ،ان کے دکھ، درداور تکلیف کو پکے اور محفوظ گھروں میں آرام دہ صوفوں پر بیٹھ کر ٹیلیویژن یا سوشل میڈیا پر سیلابی صورتحال کا جائز لیتے ہوئے محسوس کرنا یقینا ایک ناممکن سی بات ہے۔
اس کے علاوہ یہ امر بھی قابل غور اور پریشان کن ہے کہ بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ عوام کی مشکلات سیلابی صورتحال کے کنٹرول ہو جانے کے بعد بھی ختم ہوتے ہوئے نظر نہیں آتیں۔ جن کے گھر چلانے والے یا گھر سنبھالنے والے اس دنیا سے چلے
گئے، جن کے وہ مال مویشی ہلاک ہو گئے جن کو بیچ کر ان کا گزر اوقات تھا، جن کی کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں، جن کی املاک سیلابی پانی میں بہہ گئیں یا جن کے کاروبار یا آمدنی کے دیگر زرائع اس سیلاب کی نظر ہو گئے ، آنے والے دنوں میں انہیں کس اذیت سے گزرنا پڑے گا یہ سوچ کر دل مزید پریشان ہوتا ہے۔
نقصان انفرادی نوعیت کا ہو، اجتماعی نوعیت کا یا سرکاری نوعیت کا اس سے نمنٹنے کی ترجیح میں تو فوری نوعیت کے مسائل یعنی خوراک، علاج، سر چھپانے کی جگہ اور روزگار کے مواقع وغیرہ ہونا چاہییں۔ لیکن انفرادی نقصانات کی حدود سے نکل کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے دیوالیہ پن کی نہج پر کھڑے اس ملک کے انفرا سٹرکچر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور اس کی بحالی کے لیے کس نے، کیا کیا ، کیسے کیسے اورکب کب کرنا ہے اور اس سب کے لیے درکار وسائل کا انتظام کیسے ہو گا یہ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔
شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے ان سیاستدانوں کے لیے جنہوں نے اس آفت کی گھڑی میں سیلاب زدگان کی مدد تو خاک کرنی تھی وہ تو اس موقع پر بھی اپنے اقتدار کے لالچ کو پس پشت ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔ حالت یہ ہے کہ مشکل کی اس کھڑی میں مل جل کر کام کرنے کے بجائے پنجاب اور خیبر پختونخواہ جیسے صوبوں کی حکومتوں کو اپنے ان واجبات کی وصولی یاد آ گئی ہے جو کئی سال سے موخر تھی۔ بدترین مالی مشکلات کی صورتحال میں انہی دو صوبوں کی حکومتیں محض سیاسی خاربازی کی بنیاد پر وفاقی حکومت کے آئی ایم ایف سے مذاکرات بھی سبوتاژ کروانے کے درپے ہیں۔
جو لوگ اس سیلابی صورتحال کو قدرتی آفت قرار دے رہے ہیں انہیں مکمل طور پر غلط تو قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن کیا اس بات سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر قسم کی صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے وسائل، قوت اور صلاحیت عطا فرمائی ہے؟اگر یہ ایک حقیقت ہے تو پھر آج موجودہ اور ماضی کے تمام حکمرانوں سے سوال ہونا چاہیے کہ انہوں نے ملک کو سیلابوں(ماہرین جن کی پیش گوئی کئی سالوں سے کر رہے تھے) سے بچانے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے۔
کیا ان پالیسی میکرز کو آج انہی سیلاب کے پانیوں میں غوطے نہیں دینے چاہییں کہ جنہوں نے اقتدار اور اختیارات کا مطلب صرف لوٹ مار، کرپشن اور پروٹوکول انجوائے کرنا ہی سمجھا۔کیا جن لوگون کو کالاباغ ڈیم بننے کی صورت میں نوشہرہ شہر ڈوبتا ہوا نظر آتا تھا، کیا ان کو آج پورا ملک ڈوبتا ہوا نظر نہیں آ رہا؟
بات کو مختصر کرتے ہوئے UNDP کی 2019 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کا ذکر کروں گا ( اس سے پہلے بھی اسی قسم کی رپورٹس شائع ہو چکی ہیں)۔ رپورٹ میں واضع طور پر کہا گیا ہے کہ دنیا کے سب سے زیادہ گلیشیر یعنی سات ہزار سے زائد پاکستان میں موجود ہیں۔ گلوبل وارمنگ کی خطرناک صورتحال کے پیش نظر یہ پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ اس صدی کے آخر تک ان گلیشیرز کا ایک تہائی حصہ پگھل جائے گا۔
رپورٹ مزید کہتی ہے کہ چونکہ پاکستان کے پاس پانی کو ذخیرہ کرنے اور سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتہائی نامناسب انتظامات ہیں اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان گلیشیرز کے پگھلنے سے پاکستان میں وسیع پیمانے پر تباہی آئے گی۔
جس تباہی کا ذکر اس رپورٹ میں کیا گیا ہے شائد اس کا آغاز ہو چکا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ آنے والے سالوں میں بھی اسی قسم کی تباہی کی روک تھام کرنے کے لیے انتظامات تو بہت دور کی بات ہے ہمارے پاس تو کوئی منصوبہ بندی اور ارادہ تک نہیں۔
اگر بہت زیادہ پرانی بات نہ بھی کی جائے تو 2000 سے لے کر اب تک فوجی آمریت سمیت تقریباً تمام ہی سیاسی پارٹیاں حکومت میں رہ چکی ہیں لیکن ملک کے لیے بین الاقومی اداروں کی جانب سے جاری کی جانے والی وارننگز کے بارے میں کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ اس وقت ہمارے سیاسی راہنماوں کا کردار بالکل ان بدبخت بیٹوں جیسا ہے جن کے باپ کی میت گھر کے صحن میں پڑی ہوتی ہے اور وہ تدفین اور دوسرے انتظامات دیکھنے کے بجائے جائیداد کی تقسیم پر ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.